حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : فَجَعَلَهَا لِحَسَّانَ لِي مِنْهَا شَيْئًا .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` پھر ابوطلحہ نے وہ باغ حسان اور ابی رضی اللہ عنہما کو دے دیا تھا ۔ میں ان دونوں سے ان کا زیادہ قریبی تھا لیکن مجھے نہیں دیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4555
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4555. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوطلحہ ؓ نے وہ باغ حضرت حسان اور حضرت ابی بن کعب ؓ میں تقسیم کر دیا جبکہ میں ان کا زیادہ قریبی تھا لیکن انہوں نے مجھے اس میں سے کچھ نہ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4555]
حدیث حاشیہ: اس کی وجہ یہ تھی کہ انس ؓ کی ماں ابوطلحہ ؓ کے نکاح میں تھیں، ابو طلحہؓ انس ؓ کو اپنے بيٹے کی طرح رکھتے تھے اور غیر نہیں سمجھتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4555 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4555. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوطلحہ ؓ نے وہ باغ حضرت حسان اور حضرت ابی بن کعب ؓ میں تقسیم کر دیا جبکہ میں ان کا زیادہ قریبی تھا لیکن انہوں نے مجھے اس میں سے کچھ نہ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4555]
حدیث حاشیہ:

حضرت انس ؓ کی والدہ حضرت ام سلیم ؓ حضرت ابوطلحہ ؓ کے نکاح میں تھیں، اس بنا پر وہ حضرت انس ؓ کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے، غالباً اسی وجہ سے انھیں باغ میں سے کچھ نہ دیا۔

اس حدیث میں حضرت انس ؓ نے جو کچھ کہا ہے وہ بطورشکوہ نہیں بلکہ وجہ استحقاق بیان کی ہے، چنانچہ ایک دوسری روایت میں حضرت انس ؓ کا یہ جملہ موجود ہے: خاندانی قرابت کے لحاظ سے حضرت حسان اورحضرت ابی بن کعب ؓ میری نسبت حضرت ابوطلحہ ؓ سے زیادہ قریب تھے۔
حضرت حسانؓ حضرت ابوطلحہ ؓ کے ساتھ تیسری پشت میں اورحضرت ابی بن کعب ؓ ان کے ساتھ چھٹی پشت میں جاملتے ہیں۔
(صحیح البخاري، الوصایا، باب: 10، تعلیقاً)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4555 سے ماخوذ ہے۔