صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ قَوْلِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} إِلَى قَوْلِهِ: {تَتَّقُونَ} : باب: آیت کی تفسیر ”کھاؤ اور پیو جب تک کہ تم پر صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے ممتاز نہ ہو جائے، پھر روزے کو رات (ہونے) تک پورا کرو اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو جب تم اعتکاف کئے ہو مسجدوں میں“ آخر آیت «تتقون» تک۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : وَأُنْزِلَتْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 وَلَمْ يُنْزَلْ مِنَ الْفَجْرِ ، وَكَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَبْيَضَ وَالْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَلَا يَزَالُ يَأْكُلُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رُؤْيَتُهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَهُ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ " .´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب یہ آیت نازل ہوئی کہ «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» اور «من الفجر» کے الفاظ ابھی نازل نہیں ہوئے تھے تو کئی لوگ جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگا باندھ لیتے اور پھر جب تک وہ دونوں دھاگے صاف دکھائی دینے نہ لگ جاتے برابر کھاتے پیتے رہتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے «من الفجر» کے الفاظ اتارے تب ان کو معلوم ہوا کہ کالے دھاگے سے رات اور سفید دھاگے سے دن مراد ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
’’کچھ لوگوں‘‘ سے مراد حضرت عدی بن حاتم ؓ نہیں ہیں کیونکہ ان کا قصہ ان کے بعد کا ہے نیز وہ سفید اور سیاہ دھاگا اپنے تکیے کے نیچے رکھتے تھے جبکہ حدیث میں مذکور کچھ لوگ ان دھاگوں کو اپنے پاؤں سے باندھتے تھے، صحیح مسلم میں ہے: وہ آدمی ان دھاگوں کو اپنے تکیے کے نیچے رکھتے تھے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2533(1090)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ پاؤں سے باندھ لیتے اور کچھ تکیے کے نیچے رکھ لیتے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سحری تک وہ ان دھاگوں کو اپنے تکیوں کے نیچے رکھتے ہوں پھر انھیں پاؤں سے باندھ لیتے ہوں تاکہ آسانی سے ان کا مشاہدہ کیا جاسکے۔
(فتح الباي: 172/4)
2۔
واضح رہے کہ (الْخَيْطُ الأَبْيَضُ)
اور(الْخَيْطِ الأَسْوَدِ)
میں دواحتمال حسب ذیل ہیں: *۔
حقیقت میں روئی کا سفید اور سیاہ دھاگا ہو جیسا کہ ظاہر الفاظ سے فوراً ذہن میں آتا ہے۔
*۔
مجاز کے طور پر صبح کی سفیدی اور رات کی تاریکی کا احتمال بھی ہوسکتا ہے، تاہم (مِنَ الفَجرِ)
کے الفاظ سے تعین کردی کہ (الْخَيْطُ الأَبْيَضُ)
سے مراد سپیدہ صبح اور (الْخَيْطِ الأَسْوَدِ)
سے مراد تاریکی شب ہے۔