حدیث نمبر: 4507
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ , عَنْ سَلَمَةَ , قَالَ :لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : مَاتَ بُكَيْرٌ , قَبْلَ يَزِيدَ .
مولانا داود راز

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے سلمہ بن اکوع کے مولیٰ یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين‏» تو جس کا جی چاہتا تھا روزہ چھوڑ دیتا تھا اور اس کے بدلے میں فدیہ دے دیتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ بکیر کا انتقال یزید سے پہلے ہو گیا تھا ۔ بکیر جو یزید کے شاگرد تھے یزید سے پہلے 120 ھ میں مر گئے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4507
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4507. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہیں (اگر وہ نہ رکھیں) تو ان کے ذمے بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔" اس کے بعد جو شخص چاہتا روزہ چھوڑ کر اس کا فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ وہ آیت نازل ہوئی جو اس کے بعد ہے۔ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری ؒ) بیان کرتے ہیں: (راوی حدیث) بکیر بن عبداللہ (اپنے شیخ) یزید بن ابی عبید سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4507]
حدیث حاشیہ: اور یزید بن ابی عبید زندہ رہے146ھ یا 147ھ میں ان کا انتقال ہوا اور یہی سبب تھا کہ مکی بن ابراہیم امام بخاری کے شیخ نے یزید بن ابی عبید کو پایا۔
امام بخاری کی اکثر ثلاثی احادیث اسی طریق سے مروی ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4507 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4507. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی: "جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہیں (اگر وہ نہ رکھیں) تو ان کے ذمے بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔" اس کے بعد جو شخص چاہتا روزہ چھوڑ کر اس کا فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ وہ آیت نازل ہوئی جو اس کے بعد ہے۔ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری ؒ) بیان کرتے ہیں: (راوی حدیث) بکیر بن عبداللہ (اپنے شیخ) یزید بن ابی عبید سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4507]
حدیث حاشیہ:

(يُطِيقُونَهُ)
کے معنی اگراستطاعت کیے جائیں تو یہ آیت منسوخ ہے جیسا کہ حضرت سلمہ بن اکوع ؓ نے فرمایا ہے اور یہ کبار صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے ہیں۔
اور اس کے معنی اگر عدم استطاعت کیے جائیں تو یہ آیت منسوخ نہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کا مؤقف ہے۔
ان کے نزدیک یہ آیت انتہائی بوڑھے شخص کے متعلق ہے۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے اس آیت کی ایک اور توجیہ کی ہے، فرماتے ہیں: جو لوگ کھانا دینے کی طاقت رکھتے ہیں وہ صدقہ فطر بطور فدیہ ادا کریں لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس طرح مرجع سے پہلے ضمیر کا آنا لازم آتا ہے جو درست نہیں۔
اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ طعام اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے متاخر ہے لیکن رتبے کے لحاظ سے مقدم ہے، لہذا اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں۔
اس آیت میں روزے کے احکام کے بعد صدقہ فطر کا بیان ہے جبکہ دوسری آیت میں مسائل رمضان کے بعد تکبیرات عید کا ذکر ہے۔
(الفوز الکبیر بحث نسخ)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4507 سے ماخوذ ہے۔