صحيح البخاري
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے بیان میں
بَابُ زِيَادَةِ الإِيمَانِ وَنُقْصَانِهِ: باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سَمِعَ جَعْفَرَ بْنَ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ ، قَالَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ نَزَلَتْ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : أَيُّ آيَةٍ ؟ قَالَ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 ، قَالَ عُمَرُ : قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ " .´ہم سے اس حدیث کو حسن بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے جعفر بن عون سے سنا، وہ ابوالعمیس سے بیان کرتے ہیں، انہیں قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب کے واسطے سے خبر دی۔ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! تمہاری کتاب (قرآن) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس (کے نزول کے) دن کو یوم عید بنا لیتے۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے جواب دیا (سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ) ’’ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا ‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، قَالَ عُمَرُ: قَدْ عَرَفْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ بِعَرَفَةَ يَوْمَ جُمُعَةٍ . . .»
”. . . (سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ) ”آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو (خوب) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 45]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ جمعہ کا دن اور عرفہ کا دن ہمارے ہاں عید ہی مانا جاتا ہے اس لیے ہم بھی اس مبارک دن میں اس آیت کے نزول پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں، پھر عرفہ کے بعد والا دن عیدالاضحی ہے، اس لیے جس قدر خوشی اور مسرت ہم کو ان دنوں میں ہوتی ہے اس کا تم لوگ اندازہ اس لیے نہیں کر سکتے کہ تمہارے ہاں عید کا دن کھیل تماشے اور لہو و لعب کا دن مانا گیا ہے، اسلام میں ہر عید بہترین روحانی اور ایمانی پیغام لے کر آتی ہے۔
آیت کریمہ «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» [5-المائدة:3] میں دین کے اکمال کا اعلان کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ کامل صرف وہی چیز ہے جس میں کوئی نقص باقی نہ رہ گیا ہو، پس اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کامل مکمل ہو چکا جس میں کسی تقلیدی مذہب کا وجود نہ کسی خاص امام کے مطاع مطلق کا تصور تھا۔ کوئی تیجہ، فاتحہ، چہلم کے نام سے رسم نہ تھی۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی نسبتوں سے کوئی آشنا نہ تھا کیونکہ یہ بزرگ عرصہ دراز کے بعد پیدا ہوئے اور تقلیدی مذاہب کا اسلام کی چار صدیوں تک پتہ نہ تھا، اب ان چیزوں کو دین میں داخل کرنا، کسی امام بزرگ کی تقلید مطلق واجب قرار دینا اور ان بزرگوں سے یہ تقلیدی نسبت اپنے لیے لازم سمجھ لینا یہ وہ امور ہیں جن کو ہر بابصیرت مسلمان دین میں اضافہ ہی کہے گا۔ مگر صد افسوس کہ امت مسلمہ کا ایک جم غفیر ان ایجادات پر اس قدر پختگی کے ساتھ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کے خلاف وہ ایک حرف سننے کے لیے تیار نہیں، صرف یہی نہیں بلکہ ان ایجادات نے مسلمانوں کو اس قدر فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے کہ اب ان کا مرکز واحد پر جمع ہونا تقریباً ناممکن نظر آ رہا ہے۔ مسلک محدثین بحمدہ تعالیٰ اس جمود اور اس اندھی تقلید کے خلاف خالص اسلام کی ترجمانی کرتا ہے جو آیت شریفہ «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» [5-المائدة:3] میں بتایا گیا ہے۔
تقلیدی مذہب کے بارے میں کسی صاحب بصیرت نے خوب کہا ہے: دین حق را چار مذہب ساختد
رخنہ در دین نبی اند اختد
یعنی لوگوں نے دین حق جو ایک تھا، اس کے چار مذہب بنا ڈالے، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں رخنہ ڈال دیا۔
آیت کریمہ ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ (المائدة: 3)
میں دین کے اکمال کا اعلان کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ کامل صرف وہی چیز ہے جس میں کوئی نقص باقی نہ رہ گیا ہو، پس اسلام آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں کامل مکمل ہوچکا جس میں کسی تقلیدی مذہب کا وجود نہ کسی خاص امام کے مطاع مطلق کا تصور تھا۔
کوئی تیجہ، فاتحہ، چہلم کے نام سے رسم نہ تھی۔
حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی نسبتوں سے کوئی آشنا نہ تھا کیونکہ یہ بزرگ عرصہ دراز کے بعد پیدا ہوئے اور تقلیدی مذاہب کا اسلام کی چارصدیوں تک پتہ نہ تھا، اب ان چیزوں کو دین میں داخل کرنا، کسی امام بزرگ کی تقلید مطلق واجب قرار دینا اور ان بزرگوں سے یہ تقلیدی نسبت اپنے لیے لازم سمجھ لینا یہ وہ امور ہیں جن کو ہر بابصیرت مسلمان دین میں اضافہ ہی کہے گا۔
مگرصد افسوس کہ امت مسلمہ کا ایک جم غفیر ان ایجادات پر اس قدر پختگی کے ساتھ اعتقاد رکھتا ہے کہ اس کے خلاف وہ ایک حرف سننے کے لیے تیار نہیں، صرف یہی نہیں بلکہ ان ایجادات نے مسلمانوں کو اس قدر فرقوں میں تقسیم کردیا ہے کہ اب ان کا مرکز واحد پر جمع ہونا تقریباً ناممکن نظر آرہا ہے۔
مسلک محدثین بحمدہ تعالیٰ اس جمود اور اس اندھی تقلید کے خلاف خالص اسلام کی ترجمانی کرتا ہے جو آیت شریفہ ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ (المائدة: 3)
میں بتایا گیا ہے۔
تقلیدی مذہب کے بارے میں کسی صاحب بصیرت نے خوب کہا ہے دین حق را چار مذہب ساختد رخنہ در دین نبی اند اختد یعنی لوگوں نے دین حق جو ایک تھا، اس کے چارمذہب بنا ڈالے، اس طرح نبی کریم ﷺ کے دین میں رخنہ ڈال دیا۔
1۔
یہودی دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ مسلمان اس آیت کی اہمیت سے نابلد ہیں۔
اگر ہم پر یہ آیت نازل ہوتی تو ہم مارے خوشی کے اس کے یوم نزول کو عید کے طور پر مناتے اور ہرسال اس دن خوشی کا اظہار کرتے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب کامطلب یہ ہے کہ تمہاری عید توخود ساختہ ہوتی لیکن ہمارے نزدیک تو اس کا نزول ہی عید کے دن ہوا اور ایسی جگہ پر نزول ہوا جو بہت تاریخی اور انتہائی تقدیس کا حامل ہے۔
یعنی جمعے کا دن، ذوالحجہ کی نویں تاریخ اور میدان عرفات، اب فیصلہ کیا جائے کہ کون سی خوشی، درحقیقت خوشی کہلانے کا حق رکھتی ہے؟ ایک وہ خوشی ہے جسےخود انسان مقرر کرتا ہے اور ایک وہ جس کی تعیین اللہ کی طرف سے ہو، جبکہ اصل خوشی تو وہی ہے جو اللہ کی مقررکردہ ہو۔
طبرانی میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ اس طرح منقول ہیں کہ یہ آیت جمعے اور عرفے کے دن نازل ہوئی اور یہ دونوں دن ہمارے لیے عید کی حیثیت رکھتے ہیں۔
(المعجم الأوسط للطبراني: 460/1۔
حدیث: 834 وفتح الباري 142/1)
غرض یہ دونوں عیدیں وقتی نہیں بلکہ دائمی ہیں۔
2۔
آیت کریمہ میں دین کے متعلق لفظ اکمال استعمال ہوا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ دین کمال کو قبول کرتا ہے اور جوچیز کمال کو قبول کرتی ہے وہ نقصان کو بھی قبول کرسکتی ہے۔
اس سے دین میں کمی بیشی کا اثبات ہوا، یعنی عمل کے اعتبار سے، نہ کہ انسانوں کو دین میں کمی بیشی کا اختیار ہے جیسے اہل بدعت کا شیوہ ہے۔
وہ اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، حالانکہ جس دین کو اللہ نے مکمل کردیا، اس میں اضافے کی گنجائش کس طرح ہوسکتی ہے یا اس کا مجاز کون ہو سکتا ہے؟ ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکمال سے پہلے کمی کا تصور لازم آتا ہے تو کیا شروع میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اوردین کامل نہیں تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کمی صرف مومن بہ (امورایمان)
کے اعتبار سے ہے ورنہ جس زمانے میں اسلام کے جتنے احکام نازل شدہ تھے ان کو ماننا ہی کامل ایمان تھا۔
شریعت کے دور اول اور دور کمال کا اعتبار کر کے کسی کے دین کو ناقص نہیں کہا جاسکتا ہے۔
3۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود ساختہ عیدوں کی بھی تردید کرتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں کہ اپنی طرف سے جو دن چاہیں عید کے لیے مقرر کرلیں بلکہ ہم تو اس سلسلے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے محتاج ہیں۔
ہمارے نزدیک جمعہ تو عید المومنین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بطورعید مقررکیا ہے نہ کہ ہم نے اپنی طرف سے یوم عید قراردیا ہے۔
ایک تو جمعہ کا دن تھا جو اسلام کی ہفتہ واری عید ہے۔
دوسرے یوم عرفات تھا جو عید سے بھی بڑھ کر فضیلت رکھتا ہے۔
حجۃ الوداع کا ذکر ہی باب سے وجہ مناسبت ہے۔
1۔
جامع ترمذی میں ہے کہ یہودیوں کے ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ سے سوال کیا تھا۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3043)
چونکہ قوم یہود کے سردار کعب احبار تھے بطورنمائندہ انھوں نے ہی سوال کیا تھا، اس لیے جامع ترمذی کی روایت کے مطابق ہے۔
چونکہ جماعت ان کے ہمراہ تھی، اس لیے صحیح بخاری کی روایت میں سوال کی نسبت متعدد آدمیوں کی طرف کی گئی ہے۔
(فتح الباري: 136/8)
2۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس دن دوہری عید تھی: ایک توجمعہ کا دن تھا جو اسلام کی ہفتہ وار عید ہے، دوسرے یوم عرفہ تھا جو عید سے بڑھ کرفضیلت رکھتا ہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3044)
چونکہ اس میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی جو پیغمبر ﷺ کا آخری حج تھا جس کے تین ماہ بعد آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے۔
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عرفہ کی شام کوجمعہ کے روز اتری تھی۔
اس کے بعد حلال حرام کا کوئی حکم نہیں اترا۔
آپ ﷺ کی وفات سے نو رات پہلے آخری ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ﴾ نازل ہوئی جس دن یہ آیت اتری اس دن پانچ عیدیں جمع تھیں۔
جمعہ کا دن، عرفہ کا دن، یہود کی عید، نصاریٰ کی عید، مجوس کی عید۔
اس آیت سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیئے جو رائے اور قیاس پر چلتے ہیں اور نص کو چھوڑتے ہیں گویا ان کے نزدیک دین کامل نہیں ہوا۔
نعوذ باللہ۔
1۔
دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے جس دن یہ آیت کریمہ نازل ہوئی وہ جمعے کا دن تھا۔
(صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 45)
سفیان ثوری کے شک کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سوموار کے دن ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی جیسا کہ مشہور ہے اگر یوم عرفہ جمعے کا دن تھا تو پھر کسی صورت میں بارہ ربیع الاول کو سوموار کا دن نہیں پڑتا، بہر حال اس بات پر اتفاق ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعۃ المبارک کا دن تھا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اسحاق کی روایت نقل کی ہے کہ جمعہ اور عرفہ دونوں دن ہمارے لیے عید ہیں طبرانی کی روایت بھی اسی طرح ہے۔
(فتح الباري: 142/1، والمعجم الأوسط للطبراني: 202/1)
2۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمعہ کا دن تو واقعی ہمارے لیے عید ہے لیکن عرفہ کے دن کو عید کس بنا پر کہا گیا ہے؟ اس کےدو جواب دیے گئے ہیں۔
۔
حج کرنے والوں کی اصل عید تو یوم عرفہ ہی ہوتی ہے کیونکہ اس دن حج کار کن اعظم یعنی وقوف عرفہ ادا ہوتا ہے۔
۔
اصل عید تو دسویں تاریخ یوم النحر کو ہوتی ہے چونکہ یہ دن یوم عرفہ کے متصل ہوتا ہے اور کسی شے کے قرب کو بھی وہی حکم دیا جاتا ہے جو اصل چیز کا ہوتا ہے، اس لیے یوم عرفہ کو عید کہا ہے کیونکہ اس کے متصل لیلۃ العید شروع ہو جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت: «اليوم أكملت لكم دينكم» ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے، جس رات ۱؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3005]
(2) ”جمعے کی رات“ ممکن ہے آنے والی رات کو قرب کی بنا پر جمعے کی رات کہہ دیا ہو ورنہ یہ آیت تو جمعے کے دن اتری ہے، ہاں رات قریب تھی، اس لیے نسبت کر دی۔ واللہ أعلم