حدیث نمبر: 4498
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا عَمْرٌو , قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ , فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِهَذِهِ الْأُمَّةِ : كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ سورة البقرة آية 178 فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 178 يَتَّبِعُ بِالْمَعْرُوفِ وَيُؤَدِّي بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة البقرة آية 178 قَتَلَ بَعْدَ قَبُولِ الدِّيَةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` بنی اسرائیل میں قصاص یعنی بدلہ تھا لیکن دیت نہیں تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے کہا کہ ” تم پر مقتولوں کے باب میں قصاص فرض کیا گیا ، آزاد کے بدلے میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام اور عورت کے بدلے میں عورت ، ہاں جس کسی کو اس کے فریق مقتول کی طرف سے کچھ معافی مل جائے ۔ “ تو معافی سے مراد یہی دیت قبول کرنا ہے ۔ سو مطالبہ معقول اور نرم طریقہ سے ہو اور مطالبہ کو اس فریق کے پاس خوبی سے پہنچایا جائے ۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے ۔ “ یعنی اس کے مقابلہ میں جو تم سے پہلی امتوں پر فرض تھا ۔ ” سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا ، اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہو گا ۔ “ ( زیادتی سے مراد یہ ہے کہ ) دیت بھی لے لی اور پھر اس کے بعد قتل بھی کر دیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4498
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4498. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنی اسرائیل میں قصاص ہی تھا۔ ان میں دیت دینے کا قانون نہیں تھا۔ اللہ تعالٰی نے اس امت کے لیے فرمایا: "تم پر مقتولین کے باب میں قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، ہاں جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے کچھ معافی مل جائے۔" معافی یہ ہے کہ وہ قتل عمد میں دیت لینا قبول کر لے تو۔ دستور کے مطابق دیت کا مطالبہ ہو اور اچھے طریقے سے اس کی ادائیگی ہو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے۔ " یہ مہربانی ان لوگوں کی بنسبت ہے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان میں قطعا معافی نہ تھی۔ "اس کے بعد اگر کوئی زیادتی کرے گا تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔" زیادتی سے مراد یہ ہے کہ دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4498]
حدیث حاشیہ: قصاص سے بدلہ لینا مراد ہے جو اسلامی قوانین میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وہ قانون ہے جس کی وجہ سے دنیا میں امن رہ سکتا ہے۔
اگر یہ قانون نہ ہوتا تو کسی ظالم انسان کے لیے کسی غریب کا خون کرنا ایک کھیل بن کر رہ جاتا۔
مقتول کے وارثوں کی طرف سے معافی کا ملنا بھی اس وقت تک ہے، جب تک مقدمہ عدالت میں نہ پہنچے۔
عدالت میں جانے کے بعد پھر قانون کا لاگو ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4498 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4498. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنی اسرائیل میں قصاص ہی تھا۔ ان میں دیت دینے کا قانون نہیں تھا۔ اللہ تعالٰی نے اس امت کے لیے فرمایا: "تم پر مقتولین کے باب میں قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، ہاں جس کسی کو اپنے بھائی کی طرف سے کچھ معافی مل جائے۔" معافی یہ ہے کہ وہ قتل عمد میں دیت لینا قبول کر لے تو۔ دستور کے مطابق دیت کا مطالبہ ہو اور اچھے طریقے سے اس کی ادائیگی ہو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے۔ " یہ مہربانی ان لوگوں کی بنسبت ہے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان میں قطعا معافی نہ تھی۔ "اس کے بعد اگر کوئی زیادتی کرے گا تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔" زیادتی سے مراد یہ ہے کہ دیت بھی لے لے اور قتل بھی کر دے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4498]
حدیث حاشیہ:

علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں: آیت قصاص محتاج تفسیر ہے کیونکہ معافی کے بعد اتباع بالمعروف "چہ معنی دارد" پھر اس کا جواب دیا ہے کہ اس کا مطلب مشروط معافی ہے، یعنی قصاص سے دستبردارہوکر دیت لینے پر راضی ہونا ہے۔
(فتح الباري: 222/8)

اسلامی قوانین میں قصاص بڑی اہمیت کا حامل ہے، یعنی وہ قانون ہے جو دنیا میں امن کو ضمانت دیتا ہے۔
اگریہ قانون نہ ہوتو ظالم کے لیے کسی غریب کا خون کرنا کھیل بن کر رہ جائے گا۔
قرآن کریم نے قانون قصاص کو سوسائٹی کی زندگی قراردیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل کے بدلے میں سزائے موت قابل نفرت چیز نہیں جیسا کہ بعض متجددین کا خیال ہے بلکہ یہ باعث امن ہے۔
اس کا مشاہدہ آج بھی سعودی معاشرے میں کیا جاسکتا ہے، جہاں اسلامی حدود کے نفاذ کی یہ برکات ہیں۔
دوسرے اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اسلامی حدود کا نفاذ کرکے اپنے عوام کو پرسکون زندگی مہیا کریں۔

جوسوسائٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھہراتی ہے وہ دراصل اپنی آستین میں سانپ پالتی ہے۔
وہ ایک قاتل کی جان بچا کر بہت سے بے گناہ انسانوں کی جان خطرے میں ڈالتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4498 سے ماخوذ ہے۔