صحيح البخاري
كتاب تفسير القرآن— کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
بَابُ: {سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} : باب: آیت کی تفسیر ”بہت جلد بیوقوف لوگ کہنے لگیں گے کہ مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا، آپ کہہ دیں کہ اللہ ہی کے لیے سب مشرق و مغرب ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت کر دیتا ہے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، سَمِعَ زُهَيْرًا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ ، وَأَنَّهُ صَلَّى أَوْ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ صَلَّى مَعَهُ ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَهُمْ رَاكِعُونَ ، قَالَ : أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ ، وَكَانَ الَّذِي مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ رِجَالٌ قُتِلُوا لَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ سورة البقرة آية 143 .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا میں نے زہیر سے سنا ، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی لیکن آپ چاہتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ( کعبہ ) ہو جائے ( آخر ایک دن اللہ کے حکم سے ) آپ نے عصر کی نماز ( بیت اللہ کی طرف رخ کر کے ) پڑھی اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی پڑھی ۔ جن صحابہ نے یہ نماز آپ کے ساتھ پڑھی تھی ، ان میں سے ایک صحابی مدینہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرے ۔ اس مسجد میں لوگ رکوع میں تھے ، انہوں نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے ، تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے ۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ جو لوگ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پہلے انتقال کر گئے ، ان کے متعلق ہم کیا کہیں ۔ ( ان کی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں ؟ ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كان الله ليضيع إيمانكم إن الله بالناس لرءوف رحيم» ” اللہ ایسا نہیں کہ تمہاری عبادات کو ضائع کرے ، بیشک اللہ اپنے بندوں پر بہت بڑا مہربان اور بڑا رحیم ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ تمہاری نمازوں کو جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی ہیں ضائع کردے، ان کا ثواب نہ دے۔
ہوایہ کہ جب قبلہ بدلاتومشرکین مکہ کہنے لگے کہ اب محمد ﷺ رفتہ رفتہ ہمارے طریقہ پر آچلے ہیں۔
چند روز میں یہ پھر اپنا آبائی دین اختیار کرلیں گے۔
منافق کہنے لگے کہ اگر پہلاقبلہ حق تھا تو یہ دوسرا قبلہ باطل ہے۔
اہل کتاب کہنے لگے اگر یہ سچے پیغمبر ہوتے تو اگلے پیغمبروں کی طرح اپناقبلہ بیت المقدس ہی کو بنا تے۔
اسی قسم کی بیہودہ باتیں بنا نے لگے۔
اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیات ﴿سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ﴾ (البقرہ: 142)
کو نازل فرمایا۔
آیت میں لفظ عبادت کو ایمان کہا گیا ہے جس سے اعمال صالحہ اور ایمان میں یکسانیت ثابت ہوتی ہے۔
جب تحویل قبلہ ہوا تو ومشرکین اور منافقین و یہود نے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کردیں۔
مشرکین مکہ کہنے لگے۔
اب محمد (صلی اللہ علیه وسلم)
رفتہ رفتہ ہمارے طریقے کو اختیار کر رہے ہیں۔
چند دنوں کے بعد نیا دین چھوڑ کر اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں گے مدینہ طیبہ کے منافقین کہنے لگے۔
اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو دوسرا قبلہ غلط ہے اور اگردوسرا صحیح ہے تو پہلا غلط تھا۔
اسی طرح اہل کتاب کہنے لگے۔
اگر یہ سچے رسول اللہ ﷺ! ہوتے تو پہلے انبیاء ؑ کی طرح بیت المقدس ہی کو قبلہ بناتے۔
اسی طرح یہ سب مل کر بے ہودہ اور فضول باتیں کرنے لگے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی فضول باتوں کے جواب میں یہ آیات نازل فرمائیں۔
"عنقریب بے وقوف لوگ کہیں گے۔
۔
۔
"آخر تک۔
(فتح الباري: 215/8)
2۔
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں نمازوں کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے ایمان اور اعمال میں یکسانیت معلوم ہوتی ہے۔
ثابت ہوا کہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں جس میں کمی و بیشی نہ ہو بلکہ اطاعت سے اس میں اضافہ اور نافرمانی سے اس میں کمی آجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں اہل ایمان کوتسلی دی ہے کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں بلکہ انھیں ان کی نمازوں کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔
تحویل قبلہ کا حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں نازل ہوا۔
ہوایوں کہ قبیلہ بنوسلمہ میں بشر بن براء ؓ کا انتقال ہو گیا تو آپ وہاں جنازے کے لیے تشریف لے گئے۔
یہ مقام مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔
جنازے سے فراغت کے بعد آپ سے کھانا کھانے کی درخواست کی گئی۔
اتنے میں ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ نے ظہر کی نماز مسجد بنو سلمہ میں ادا فرمائی دوران نماز وحی کے ذریعے سے آپ کو تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا تو اسی وقت آپ نے اور آپ کے پیرو کار بیت المقدس سے کعبے کی طرف پھر گئے۔
چونکہ آپ بارہ ربیع الاول بروز پیر مدینہ طیبہ ہجرت کر کے تشریف لائے تھے اس بنا پر کسر کو شمار کریں تو سترہ اور کسر کو حذف کریں تو سولہ ماہ بنتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
اللہ کا شکر ہے کہ راقم الحروف کو ایک مرتبہ1951 ءمیں اوردوسری مرتبہ 1962 ءمیں یہ مسجددیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔
قباوالوں کو دوسرے دن خبرہوئی تھی وہ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے اورنماز ہی میں کعبہ کی طرف گھوم گئے۔
1۔
اس روایت سے استقبال قبلہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ واقعہ مذکور میں دورکعات پڑھی جاسکتی تھیں، جب معلوم ہواکہ قبلے کے متعلق تبدیلی کا حکم آچکا ہے، اب یہ نہیں ہواکہ اس نماز کو ناتمام چھوڑ کرنئے سرے سے بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے اور یہ بھی نہیں ہوا کہ اس نماز کو بیت المقدس ہی کی طرف رخ کیے ہوئے پورا کرلیتے بلکہ استقبال کعبہ کی اہمیت کے پیش نظر دوران نماز ہی میں اسی وقت رخ بدل دیا گیا، حالانکہ اس تبدیلی میں یقیناً بہت زیادہ دشواری ہوئی ہوگی، خاص طور پر امام کے لیے بہت مشکل تھا، کیونکہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے میں رخ شمال کی طرف تھا اور اب اس کے برعکس جنوب کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔
بہرحال دشواری تویقیناً ہوئی، لیکن قبلہ اسی حالت میں درست کیا گیا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس تحویل کی کیفیت بایں الفاظ بیان کی ہے: ’’امام مسجد کے اگلے حصے سے پچھلے حصے کی طرف منتقل ہوا کیونکہ وہیں کھڑے کھڑے رخ پھیرلیا جاتا تو آدمیوں کے لیے پیچھے کھڑے ہونے کی جگہ نہ تھی،پھرآدمیوں نے اپنے رخ تبدیل کیے،عورتیں چل کرآدمیوں کے پیچھے آئیں۔
‘‘ (فتح الباری: 656/1)
2۔
رسول اللہ ﷺ جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو مدینے میں اکثر یہودی آباد تھے جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔
آپ کو کیا حکم ہوا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں، اس سے یہودی بہت خوش ہوئے، لیکن آپ کی دلی خواہش تھی کہ قبلہ ابراہیم ؑ یعنی بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں، چنانچہ آپ آسمان کی طرف منہ کیے اس حکم کا انتظار کرتے۔
آپ کو تبدیلی قبلہ کا اس لیے بھی انتظار رہتا کہ یہودی اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ نبی دیگراحکام میں ہماری مخالفت کرنے کے باوجود ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے پر مجبورہے۔
بالاخر سترماہ کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آگیا۔
رسول اللہ ﷺ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا بھی حکم ہواتھا۔
وہ آپ کااجتہاد یا اہل کتاب کی تالیف قلبی کی خاطر نہ تھا۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ ہی میں تھے کہ آپ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔
مکہ مکرمہ میں تین سال اسی طرح منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور نماز پڑھتے وقت آپ کعبے کو بھی اپنے سامنے کرلیتے، لیکن مدینہ پہنچ کر ایسا ممکن نہیں تھا، کیونکہ بیت اللہ اور بیت المقدس کی سمتیں باہم مخالف ہوگئیں تھیں، اس لیے آپ کو انتظار رہتا کہ کب اللہ تعالیٰ اس کی تبدیلی کا حکم دے، بالآخر آپ کی خواہش کے مطابق تبدیلی قبلہ کا حکم آگیا۔
(فتح الباري: 651/1)
3۔
تحویل قبلہ کا حکم کس مسجد اور کس نماز میں ہوا؟اس کے متعلق مختلف روایات ہیں: طبقات ابن سعد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی مسجد میں نماز ظہر پڑھا رہے تھے کہ تحویل کعبہ کے متعلق وحی آئی۔
آپ نے دوران نماز ہی میں کعبے کی طرف منہ کرلیا۔
یہ بھی کہاجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حضرت بشر بن براء ؓ کی والدہ کے ہاں قبیلہ بنو سلمہ میں گئے تو اس نے آپ کے لیے دعوت طعام کا اہتمام کیا، وہیں نماز ظہر کا وقت ہوگیا تو آپ نے بنو سلمہ کی مقامی مسجد ہی میں نماز پڑھنے کا پروگرام بنایا، ابھی دورکعت ہی پڑھی تھیں کہ کعبے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کاحکم آگیا، چنانچہ آپ دوران نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف پھرگئے، اس بنا پر مسجد بنو سلمہ کا نام مسجد قبلتین مشہور ہوا، کیونکہ اس مسجد میں ایک ہی نماز دوقبلوں کی طرف منہ کرکے مکمل کی گئی۔
حضرت بشر بن عباد وہاں نماز پڑھ کرعصر کے وقت بنوحارثہ کی مسجد میں گئے تو وہ عصر کی دورکعت پڑھ چکے تھے۔
آپ نے دوران نماز ہی میں نمازیوں کو تبدیلی کعبہ کی اطلاع کردی تو انھوں نے بھی اسی حالت میں قبلے کی طرف منہ کرلیا۔
(فتح الباري: 651/1)
چونکہ بنو حارثہ مدینے کے اندر ہی آباد تھے، اس لیے انھیں نماز عصر کے وقت اطلاع ہوگئی۔
البتہ اہل قباء جو مدینے کے باہر تھے، کے پاس صبح کی نماز کے دوران میں اطلاع پہنچی۔
انھوں نے بھی دوران نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف منہ کرلیا۔
(فتح الباري: 655-
656/1)
بعض روایتوں میں ظہر کی نماز مذکور ہے اور اگلی حدیث کا واقعہ دوسرے روز کا مسجد قبا کا ہے تو دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں رہا۔
باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ خبر واحد کو تسلیم کر کے اس پر جمہور صحابہ نے عمل کیا۔
جو لوگ خبر واحد کے منکر ہیں وہ جمہور صحابہ کے طرز عمل سے منکر ہیں۔
یہ واقعہ تحویل قبلہ کے پہلے دن کا ہے انصارکے قبیلے بنو حارث کی مسجد "قبلتین" آج بھی موجود ہے۔
ایک شخص کی خبر سن کر جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حالت نماز میں اپنا رخ کعبے کی طرف کر لیا۔
اس بنا پر خبر واحد حجت ہے اور جو لوگ اس کی حجیت کے منکر ہیں وہ گویا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے طرز عمل کے منکر ہیں ان حضرات کے پاس اس کے متعلق کوئی دلیل نہیں۔
یہ لوگ صرف محض ظن و تخمین کی پیروی کرتے ہیں جس سے قرآن کریم نے منع کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
1۔
اس سے مراد ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو کہتے ہیں کہ اعمال کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے حالانکہ قرآن کریم میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور نماز کا خصوصی تعلق ہے کیونکہ نماز ایمان کا عظیم شعار ہے بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے، دین کا مستحکم ستون ہے، اس تعلق کی وجہ سے صلاۃ گویا عین ایمان ہے۔
جب یہ عمل ایمان ٹھہرا تو اس میں کمی بیشی بھی ممکن ہے۔
نماز پر ایمان کا اطلاق، اطلاق الکل علی الجزء ہے لہٰذا ایمان کے لیے نماز ایک جز ثابت ہوئی۔
ھذا ھوالمقصود2۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی وہ نماز جو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئی نماز عصر تھی روایات کی رو سے وہ نماز ظہر تھی۔
دراصل واقعات یہ ہیں کہ بنو سلمہ جو مسجد نبوی سے تین میل کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے وہاں حضرت بشر بن براء کی وفات ہوگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں جنازے کے لیے تشریف لے گئے۔
وہیں نماز ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ نے ظہر کی نماز مسجد بنو سلمہ میں اد افرمائی دو رکعت پڑھنے کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آ گیا۔
آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اسی حالت میں بیت اللہ کی جانب متوجہ ہو گئے۔
اس مسجد کا نام مسجد قبلتین ہے۔
آج بھی اس مسجد میں دو محرابیں ہیں۔
اس کے بعد وہ پہلی نماز جو پوری بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئی وہ نماز عصر تھی جو مسجد نبوی میں ادا ہوئی پھر ان کی وساطت سے دوسری مساجد تک اطلاع پہنچی چنانچہ ایک آدمی مسجد بنی حارثہ کے پاس سے گزرا تو وہ ابھی نماز عصر پڑھ رہے تھے انھیں دوران نماز میں تحویل قبلہ کی اطلاع دی گئی وہ بلا تردد گھوم گئے۔
پھر اگلے دن مدینے سے باہر اہل قباء کو نماز فجر کے وقت اطلاع ملی۔
اب ان مختلف روایات (ظہر عصر اور فجر)
میں تطبیق دی جا سکتی ہے۔
(فتح الباري: 1؍ 131، 651)
3۔
روایت کے آخر میں زہیر راوی کا ایک طریق ہے جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب التفسیر (حدیث نمبر: 4488)
میں متصلا ذکر فرمایا ہے۔
اس میں تحویل قبلہ سے پہلے چند صحابہ کے مقتول ہونے کا ذکر ہے۔
حالانکہ اس وقت تک کوئی جنگ وغیرہ نہیں ہوئی تھی لیکن ضروری نہیں کہ جنگ ہی سے قتل کا واقعہ پیش آئے کفار سے دشمنی کی وجہ سے بھی قتل کی نوبت آسکتی ہے۔
ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد جو تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہوئے دس ہے تین مکہ مکرمہ میں عبد اللہ بن شہاب، مطلب بن ازہر اور سکران بن عمرو عامری اور پانچ حبشہ میں خطاب بن حارث، عمرو بن امیہ، عبد اللہ بن حارث، عمروبن عبد العزیٰ اور عدی بن نضلہ اور مدینہ منورہ میں براء بن معرور اور اسعد بن زرارۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان حضرات کے متعلق تشویش تھی جس کا روایت میں ذکر ہے چنانچہ آیت کے نزول سے تسلی ہو گئی۔
(فتح الباري: 132/1)
4۔
اس حدیث سے خبرواحد کی حجیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ایک قطعی چیز کومحض ایک صحابی کے حلفیہ بیان سے بدل دیا۔
اس کا مطلب ہے کہ بعض اوقات خبر واحد بھی قطعیت کا فائدہ دیتی ہے بالخصوص جب مقرون بالقرائن ہو۔
اگرچہ یقین کے مراتب مختلف ہوتے ہیں تاہم فقہاء کا یہ کہنا محل نظرہے کہ خبر واحد ہر وقت ظن کا فائدہ دیتی ہے۔
حدیث فقہاء کے اس خود ساختہ اصول کی تردید کرتی ہے۔
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ” ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں “ (البقرہ: ۱۴۴)، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2962]
وضاحت:
1؎:
ہم آپﷺ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپﷺ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں (البقرۃ: 144)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، یہ شک سفیان کی طرف سے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ (خانہ کعبہ) کی طرف پھیر دئیے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سولہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب نماز پڑھی، پھر آپ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیئے گئے، ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے، وہ لوگ (یہ سنتے ہی نماز کی حالت میں) کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 743]
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے، تو ایک آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں، (لوگوں نے یہ سنا) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھر گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
➋انصار کا نماز ہی میں بیت اللہ کی طرف رخ کرنا تمام نمازیوں کے لیے کچھ نہ کچھ حرکات کا باعث بنا کیونکہ بیت اللہ، بیت المقدس سے بالکل مخالف جانب ہے۔ ظاہر ہے امام کو صفیں چیر کر دوسری جانب آنا پڑا اور مقتدیوں کو بھی صفیں بدلنی پڑیں۔ معلوم ہوا کہ نماز کی اصلاح کے لیے جو بھی حرکت کرنی پڑے، وہ نماز کے فساد کا موجب نہیں، قلیل ہو یا کثیر۔
➌ثابت ہوا کہ خبرواحد حجت ہے۔
➍کسی حکم کے علم سے قبل اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ تبدیلی قبلہ کا حکم تو اس قبیلے کے نماز شروع کرنے سے قبل آچکا تھا مگر چونکہ ان کو علم نماز کے دوران میں ہوا، لہٰذا پہلے سے پڑھی ہوئی نماز جو دوسرے قبلے کی طرف تھی، فاسد نہیں ہوئی۔
➎یہ بات اختلافی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا وحی سے تھا یا اہل کتاب سے موافقت کی بنا پر۔