حدیث نمبر: 4481
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَقْرَؤُنَا أُبَيٌّ ، وَأَقْضَانَا عَلِيٌّ وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَيٍّ وَذَاكَ أَنَّ أُبَيًّا ، يَقُولُ : لَا أَدَعُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى :مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا سورة البقرة آية 106 .
مولانا داود راز

´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے حبیب نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، ہم میں سب سے بہتر قاری قرآن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ علی رضی اللہ عنہ میں قضاء یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے ۔ اس کے باوجود ہم ابی رضی اللہ عنہ کی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے جو ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے ، میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها‏» الخ کہ ” ہم نے جو آیت بھی منسوخ کی یا اسے بھلایا تو پھر اس سے اچھی آیت لائے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4481
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4481. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہم میں قرآن کے بہترین قاری حضرت ابی بن کعب ؓ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ فیصلے کرنے کی صلاحیت حضرت علی ؓ رکھتے ہیں۔ لیکن (اس کے باوجود) ہم حضرت ابی ؓ کی یہ بات نہیں مانتے جو ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے انہیں ترک نہیں کروں گا، حالانکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: "جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں۔" (یعنی حضرت ابی ؓ نسخ کے قائل نہیں جبکہ مذکورہ آیت سے نسخ ثابت ہوتا ہے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4481]
حدیث حاشیہ: حضرت عمرؓ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ گوابی بن کعب ؓ ہم سب سے زیادہ قرآن مجید کے قاری ہیں مگر بعض آیتیں وہ ایسی بھی پڑھتے ہیں جن کی تلاو ت منسوخ ہوگئی ہے کیونکہ ان کو نسخ کی خبر نہیں پہنچی۔
حضرت عمرؓ کے اس قول سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کیسا ہی بڑا عالم ہو مگر اس کی سب باتیں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔
خطا اور لغزش ہر ایک عالم سے ممکن ہے۔
بڑا ہو یا چھاٹا، معصوم عن الخطاء صرف اللہ کے نبی و رسول ہوتے ہیں جو براہ راست اللہ سے ہم کلامی کا شرف پاتے ہیں، باقی کوئی نہیں ہے۔
مقلدین ائمہ اربعہ کو اس سے سبق لینا چاہئیے۔
جن کی تقلید پر جمود نے مذاہب اربعہ کو ایک مستقل چار دینوں کی حیثیت دے رکھی ہے۔
ہرحنفی، شافعی کو بنظر حقارت دیکھتا ہے اور ہر شافعی، حنفی کو دیکھ کر چرغ پاہوجاتا ہے، الاماشاء اللہ۔
یہ کس قدر افسوسناک بات ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی ؒ ہر گز ایسا تصور نہیں رکھتے تھے کہ ان کے ناموں پر فقہی مسلک کو ایک مستقل دین کی حیثیت دے کر امت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔
کہنے والے نے سچ کہا ہے دین حق راچارمذہب ساختند رخنہ درد ین نبی اندا ختند ہر امام بزرگ کا یہی آخری قول ہے کہ اصل دین قرآن وحدیث ہیں جو ان کی بات قرآن کے موافق ہو، ہو سر آنکھو ں سے قبول کی جائیں، جو بات ان کی قرآن وحدیث کے خلاف ہوا سے چھوڑ دیا جائے اور یہی عقیدہ رکھا جائے کہ غلطی کا امکان ہر کسی سے ہے صرف انبیاء ورسل ہی معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4481 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4481. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ہم میں قرآن کے بہترین قاری حضرت ابی بن کعب ؓ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ فیصلے کرنے کی صلاحیت حضرت علی ؓ رکھتے ہیں۔ لیکن (اس کے باوجود) ہم حضرت ابی ؓ کی یہ بات نہیں مانتے جو ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے انہیں ترک نہیں کروں گا، حالانکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: "جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں، اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں۔" (یعنی حضرت ابی ؓ نسخ کے قائل نہیں جبکہ مذکورہ آیت سے نسخ ثابت ہوتا ہے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:4481]
حدیث حاشیہ:

حضرت عمرؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ گو حضرت ابی بن کعب ؓ ہم سب سے زیادہ قرآن کریم کے ماہرقاری ہیں لیکن وہ بعض آیات ایسی بھی پڑھتے ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے مگر انھیں تخ کی خبر نہیں پہنچی۔

تخ کے اعتبار سے آیات کی چند قسمیں حسب ذیل ہیں۔

تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہو چکے ہیں۔

جن کا حکم تو منسوخ ہے لیکن تلاوت باقی ہے۔

۔
جن کی تلاوت منسوخ لیکن حکم باقی ہے۔

قرآن کریم کا پیشتر حصہ محکم آیات پر مشتمل ہے یعنی ان کا حکم اور تلاوت دونوں باقی ہیں۔

حضرت عمرؓ کے فرمان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، لیکن اس کی تمام باتیں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں، خطا اور لغزش ہر ایک عالم سے ممکن ہے۔
اللہ کے بندوں میں صرف انبیائے کرام ؑ ہی معصوم ہوتے ہیں جنھیں براہ راست اللہ تعالیٰ سے احکام ملتے ہیں۔
باقی رہے آئمہ دین اور محدثین عظام، ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کی حیثیت حضرات انبیاء ؑ سے مختلف ہے۔
ان کی جو بات قرآن و حدیث کے موافق ہو، وہ سر آنکھوں پر اور جو بات قرآن و حدیث کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
ان بزرگوں کی بھی یہی تعلیم ہے۔
غلطی کا امکان ہر کسی سے ہے معصوم عن الخطا صرف انبیاء اور رسولوں کی جماعت ہے۔

کفار ومشرکین رسول اللہ ﷺ پر یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ یہ نبی بھی عجیب ہے۔
آج ایک کام کرنے کا حکم دیتا ہے، کل اسے سے منع کر دیتا ہے، اس اعتراض کے دور میں مذکورہ آیت نازل ہوئی کہ جب ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں تومصلحت وقت کے اعتبار سے لوگوں کی ہمت کے موافق پہلے حکم سے بہتر یا اس جیسا کوئی اور حکم نازل کر دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تحقیق کے مطابق قرآن کریم کی صرف پانچ آیات منسوخ ہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4481 سے ماخوذ ہے۔