صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ ، فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، فَقَالَ : أَجَلُ ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ " .´ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ آپ کو ( مجالس میں ) اپنے قریب بٹھاتے تھے ۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا کہ اس جیسے تو ہمارے بچے ہیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ طرز عمل جس وجہ سے اختیار کیا ، وہ آپ کو معلوم بھی ہے ؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ( یعنی ) «إذا جاء نصر الله والفتح» کے متعلق پوچھا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی ، آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( آیت میں ) اسی کی اطلاع دی ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو تم نے بتایا وہی میں بھی اس آیت کے متعلق جانتا ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس سورت کے متعلق دریافت فرمایا: تو کچھ حضرات نے جواب دیا کہ اس سے مراد ہماری فتح و نصرت ہے جب شہر اور محلات فتح ہوں تو ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد و ثناء کریں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور کچھ حضرات نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا لیکن کچھ حضرات بالکل خاموش رہے تو آپ نے مجھے فرمایا: اے ابن عباس ؓ! تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: اس سے مراد فتح مکہ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات قریب ہونے کی اطلاع ہے یعنی جب مکہ فتح ہو جائے تو آپ کی موت بھی قریب ہوگی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4294)
بہر حال ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کا ذکر ہے اس لیے انھیں بیان کیا گیا ہے۔
غیب داں صرف اللہ ہے۔
انبیاءاولیاءسب اللہ کے علم کے محتاج ہیں۔
بغیر اللہ کے بتلائے وہ کچھ بھی بول نہیں سکتے۔
1۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کا مقصد تھا کہ ہم شیوخ ہیں اور یہ ایک نوخیز لڑکا ہے آپ اسے کیوں ہم سے آگے بٹھا تے ہیں؟ حضرت عمر ؓ نے بتایا میں اسے اس کے علم کی وجہ سے آگے بٹھاتا ہوں اور اپنے قریب کرتا ہوں اور علم ہر اس انسان کو بلند کرتا ہے جو بلند نہ ہو۔
چنانچہ انھوں نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر پوچھی تو انھوں نے وہی بتائی جسے حضرت عمر بھی جانتے تھے۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کا نتیجہ تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو چھاتی سے لگا کر یہ دعا فرمائی تھی۔
’’اے اللہ! اسے دین میں سمجھ عطا کر۔
‘‘ (صحیح البخاري، الوضو، حدیث: 143)
’’اے اللہ!اسے اپنی کتاب کا علم دے۔
‘‘ (صحیح البخاري، العلم، حدیث: 75)
’’اے اللہ! اسے حکمت سے مالا مال کر دے۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل، حدیث: 3756)
واقعی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت تمام ہو چکی ہے اور دین مکمل ہو گیا ہے اب آپ کی وفات کا وقت قریب آگیا ہے۔
2۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے۔
آپ نے حضرت ابن عباس ؓ کوبتا دیا تھا کہ اس میں میری وفات کی طرف اشارہ ہے آپ نے وقوع سے پہلے خبر دی چنانچہ اس کے مطابق ہی ہوا۔
یہ آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اہل فضل اور اہل علم قابل تعظیم ہیں گو ان کی عمر کم ہو اور یہ بھی ثابت ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ علم کے بڑے قدردان تھے اور ہر ایک بادشاہ یا خلیفہ کو علم کی قدردانی اور عالموں کی تعظیم اور تکریم ضروری ہے۔
افسوس مسلمان جو تباہ ہوئے اور غیر قوموں کے دست نگر بن گئے وہ جہالت اور کم علمی ہی کی وجہ سے اور اس قدر تباہی پر اب بھی مسلمان امراء علم کی طرف متوجہ نہیں ہوئے بلکہ جاہلوں اور بے وقوفوں کو اپنا مصاحب بناتے ہیں۔
عالم کی صحبت سے گھبراتے ہیں۔
لا حولَ وَ لَا قُوةَ إلا باللہ (وحیدی)
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم ہے کہ آخری آخری مکمل سورت کون سی نازل ہوئی تھی؟ میں نے کہا: ﴿إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّـهِ وَٱلْفَتْحُ﴾ ہے۔
آپ نے فرمایا: ہاں یہی سورت ہے۔
(صحیح مسلم، التفسیر، حدیث: 7546(2024)
اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سمجھ لیا کہ میری بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہے، اب میں عنقریب اس دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں، چنانچہ اسی سال حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’شاید آئندہ سال تم میں موجود نہ ہوں گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اہل فضل اور اہل علم قابل تعظیم ہیں اگرچہ وہ عمر میں چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقام و مرتبہ دیا تھا۔