صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتِهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4428
وَقَالَ يُونُسُ : عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ " .مولانا داود راز
´اور یونس نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرماتے تھے کہ خیبر میں ( زہر آلود ) لقمہ جو میں نے اپنے منہ میں رکھ لیا تھا ، اس کی تکلیف آج بھی میں محسوس کرتا ہوں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری شہ رگ اس زہر کی تکلیف سے کٹ جائے گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4428. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ اپنی اس بیماری میں فرمایا کرتے تھے جس میں آپ کی وفات ہوئی: ’’اے عائشہ! اس کھانے کا درد میں برابر محسوس کر رہا ہوں جو میں نے غزوہ خیبر کے وقت کھایا تھا۔ اس وقت میں اس زہر کے سبب اپنی شہ رگ کٹنی ہوئی محسوس کرتا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4428]
حدیث حاشیہ:
1۔
فتح خیبر کے وقت ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہرملا کررسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ بھیجا۔
آپ نے لقمہ ابھی منہ میں ڈالا تھا کہ بذریعہ وحی آپ کو خبر دار کر دیا گیا۔
اس حدیث میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
2۔
ابہری ایک رگ ہے جو پیٹھ سے ہو کر گزرتی ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
وہ پھٹتی ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو وفات کے قریب اس کا علم ہوا۔
اس اعتبار سے آپ شہید ہیں اگرچہ آپ بستر پر فوت ہوئے ہیں۔
آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ زہر اب مغلوب اور چھپا ہوا تھا جب کمزوری آگئی اور قوت مدافعت نہ رہی تو طبیعت پر اس کا غلبہ ہو گیا اور اس کا درد محسوس ہونے لگا۔
واللہ اعلم۔
1۔
فتح خیبر کے وقت ایک یہودی عورت نے بکری کے گوشت میں زہرملا کررسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ بھیجا۔
آپ نے لقمہ ابھی منہ میں ڈالا تھا کہ بذریعہ وحی آپ کو خبر دار کر دیا گیا۔
اس حدیث میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
2۔
ابہری ایک رگ ہے جو پیٹھ سے ہو کر گزرتی ہے جس کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔
وہ پھٹتی ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو وفات کے قریب اس کا علم ہوا۔
اس اعتبار سے آپ شہید ہیں اگرچہ آپ بستر پر فوت ہوئے ہیں۔
آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ وہ زہر اب مغلوب اور چھپا ہوا تھا جب کمزوری آگئی اور قوت مدافعت نہ رہی تو طبیعت پر اس کا غلبہ ہو گیا اور اس کا درد محسوس ہونے لگا۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4428 سے ماخوذ ہے۔