حدیث نمبر: 4376
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ ، قُلْنَا : مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ ، فَلَا نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلَا سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ .
مولانا داود راز

´ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا کہ میں نے ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` ہم پہلے پتھر کی پوجا کرتے تھے اور اگر کوئی پتھر ہمیں اس سے اچھا مل جاتا تو اسے پھینک دیتے اور اس دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے ۔ اگر ہمیں پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک ٹیلہ بنا لیتے اور بکری لا کر اس پر دوہتے اور اس کے گرد طواف کرتے ۔ جب رجب کا مہینہ آ جاتا تو ہم کہتے کہ یہ مہینہ نیزوں کو دور رکھنے کا ہے ۔ چنانچہ ہمارے پاس لوہے سے بنے ہوئے جتنے بھی نیزے یا تیر ہوتے ہم رجب کے مہینے میں انہیں اپنے سے دور رکھتے اور انہیں کسی طرف پھینک دیتے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4376
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة