صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ: باب: غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، فَقَالَ لَهُ : " أَبْشِرْ " ، فَقَالَ : قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ ، فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فَقَالَ : رَدَّ الْبُشْرَى ، فَاقْبَلَا أَنْتُمَا ، قَالَا : قَبِلْنَا ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ ، وَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا ، وَأَبْشِرَا " ، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا ، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ : أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا ، فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید بن عبداللہ نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا جب آپ جعرانہ سے ، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے اتر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے ۔ اسی دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کیوں نہیں کرتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو ۔ اس پر وہ بدوی بولا بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ابوموسیٰ اور بلال کی طرف پھیرا ، آپ بہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا اس نے بشارت واپس کر دی اب تم دونوں اسے قبول کر لو ۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا ۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ ہر دو سے ) فرمایا کہ اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو ۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا ۔ پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا ۔ چنانچہ ان دونوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بدوی کو آنحضرت ا نے شاید کچھ روپے پیسے یا مال غنیمت دینے کا وعدہ فرمایا ہوگا جب وہ تقاضا کرنے آیا تو آپ نے فرمایا مال کی کیا حقیقت ہے جنت تجھ کو مبارک ہو لیکن بدقسمتی سے وہ بے ادب گنوار اس بشارت پر خوش نہ ہوا۔
آپ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا اور ابو موسی ؓ اوربلال ؓ کو یہ نعمت سرفراز فرمائی سچ ہے تہی دستان قسمت راچہ سود ازرہبر کامل کہ خضر از آب حیوان تشنہ می آرد سکندر را۔
جعرانہ کو مکہ اور مدینہ کے درمیا ن کہنا راوی کا بھول ہے۔
جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔
سنہ 70 ءکے حج میں جعرانہ جانے اور اس تاریخی جگہ کو دیکھنے کا شرف مجھ کو بھی حاصل ہے۔
(راز)
1۔
جعرانہ ایک منزل کا نام ہے۔
المستوفرہ سے آئیں تو حرم مکی کی حد یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
یہ جگہ بیت اللہ تقریباً 23 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ مقام مکے اورمدینے کے درمیان نہیں جیسا کہ اس روایت میں ہےبلکہ مکے اورطائف کے درمیان ہے کیونکہ یہ طائف سے واپسی کا واقعہ ہے۔
شاید کسی راوی سے سہواً ایسا ہوا ہے کہ اسے مکے اورمدینے کے درمیان بیان کیا ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے اس دیہاتی سےکوئی خاص وعدہ کیا ہوگا۔
ممکن ہےکہ عام وعدہ مراد ہو، وہ یہ کہ طائف سے جعرانہ واپس آکر اموال غنیمت تقسیم کریں گے لیکن وہ شخص اپنا حصہ لینے میں جلدی سے کام لے رہا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے اعرابی!تجھے بشارت ہو،عنقریب اموال غنیمت تقسیم ہوں گے۔
‘‘ یا تجھے صبر کرنے میں اللہ کے ہاں بہت ثواب ملے گا‘‘ اس کے بعد اعرابی کا رد عمل روایت میں موجود ہے۔
وہ بے ادب گنوار بدقسمتی سے رسول اللہ ﷺ کی بشارت پر خوش نہ ہوا۔
آپ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اورحضرت ابوموسیٰ ؓ اور حضرت بلال ؓ کو یہ نعمت عطا فرمائی، کسی نے سچ کہا ہے۔
تہی دستان ِ قسمت راچہ سود از رہبر کامل۔
۔
کہ خضر از آب حیوان تشنہ مے آرد سکندر را۔
3۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اموال غنیمت جعرانہ میں اکھٹے کررکھے تھے۔
آپ طائف چلے گئے۔
ایک خاص حکمت کے پیش نظر ان کی تقسیم میں دیرفرمائی، اس لیے نئے نئے مسلمانوں کو جلد بازی کی وجہ سے باتیں بنانے کا موقع ملا، چنانچہ آپ ﷺ نے طائف سے واپسی کے بعد انھیں تقسیم فرمایا۔
(فتح الباري: 58/8)
«. . . عَنْ أَبِي مُوسَى، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ " . . . .»
”. . . ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ فِي الْمِخْضَبِ وَالْقَدَحِ وَالْخَشَبِ وَالْحِجَارَةِ:: 196]
گو اس حدیث میں وضو کرنے کا ذکر نہیں۔ مگر منہ ہاتھ دھونے کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا ہی وضو کیا تھا اور راوی نے اختصار سے کام لیا ہے۔ باب کا مطلب نکلنا ظاہر ہے۔
اس روایت میں ’’قدح‘‘ کا ذکر ہے جو لکڑی کے بنے ہوئے پیالے کو کہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اس میں دست مبارک اور چہرے کو دھویا اور کلی کی۔
اگرچہ اس حدیث میں وضو کا ذکر نہیں، تاہم ہاتھ منہ دھونا اور کلی کرنا وضو کے اعمال ہیں۔
ممکن ہے کہ آپ نے مکمل وضو کیا ہو، لیکن راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
بہرحال امام بخاری ؒ اس روایت سے قدح میں وضو کرنا ثابت کرتے ہیں۔
اس لیے نوعیت اور مادہ دونوں چیزوں پر اس روایت سے استدلال ہو گیا۔
یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، اس سے متعلقہ فوائد حدیث: 188 میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
جعرانه: یہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے، آپ نے حنین کی غنیمتوں کو یہاں اکٹھا کیا تھا اور خود طائف کی طرف چلے گئے اور نئے نئے مسلمانوں کو آپ نے ان غنائم سے دینے کا وعدہ کیا تھا، جس کا وہ اعرابی مطالبہ کر رہا تھا، واپسی پر جب آپ مدینہ کا رخ کیے ہوئے تھے، آپ نے ان غنیمتوں کو تقسیم کیا، چونکہ آپ کا رخ مدینہ کی طرف تھا، اس لیے جعرانہ کو مکہ اور مدینہ کے درمیان کہہ دیا گیا اور اعرابی اس تاخیر پر بے صبرا ہو رہا تھا کہ مجھے غنیمت سے جلد سے جلد حصہ دیں۔