صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ: باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ ، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ " .´ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل ، جاء الحق ، وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ ” حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
حق سے مراد دین اسلام اور باطل سے بت اور شیطان مراد ہے۔
باطل کا آغاز اور انجام سب خراب ہی خراب ہے۔
1۔
حق سے مراد، دین اسلام اور باطل سے مراد کفر، بت اور شیطانی حرکات ہیں۔
باطل کاآغاز اور انجام سب خراب ہی خراب ہے۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس بت اور مورتی کے سامنے جاتے اور اس کی طرف اشارہ کرتے تو وہ گڑپڑتی، حالانکہ انھیں اچھی طرح نسب کیا گیاتھا اورابلیس نے انھیں تانبے کی تاروں سے باندھا ہوا تھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 339/10۔
رقم الحدیث 10656۔
)
3۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ اقدا م اس لیے کیا تاکہ بتوں اوران کے پرستاروں کو ذلیل کیا جائے اور اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے انھیں گرایا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔
یہ تو اپنا دفاع نہیں کرسکتے کسی دوسرے کو نفع یا نقصان کیا پہنچاسکتے ہیں۔
(فتح الباري: 22/8۔
)
حتی کہ کچھ بت حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی طر ف بھی منسوب تھے۔
فتح مکہ کے دن اللہ کے رسول ﷺ نے کعبہ شریف کو ان سے پاک کیا اورآج کے دن سے کعبہ شریف ہمیشہ کے لیے بتوں سے پاک ہوگیا۔
الحمد للہ آج چودھویں صدی ختم ہو رہی ہے اسلام بہت سے نشیب و فراز سے گزرا مگر بفضلہ تعالیٰ تطہیر کعبہ اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔
(1)
رسول اللہ ﷺ نے اپنی چھڑی سے مارا اور انہیں زمین پر گرا دیا۔
اس عمل سے بتوں اور ان کے پجاریوں کی رسوائی مقصود تھی، نیز اس بات کا اظہار تھا کہ یہ بت خود اپنے آپ کو نفع یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے تو دوسروں کو کیا فائدہ دے سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کا ایندھن پتھروں کو بھی بنایا ہے تاکہ مشرکین کی مزید رسوائی ہو کہ ان کے معبود بھی ان کے ہمراہ جہنم کا سامان بنے ہوئے ہیں۔
(2)
خلاف شرع آلات ضائع کرنا جائز ہیں۔
اس کے علاوہ آلات موسیقی توڑ کر ان کی شکل و صورت تبدیل کرنا جائز ہے، توڑنے کے بعد ان کی لکڑی استعمال میں لائی جا سکتی ہے۔
اگر بت سونے چاندی کے ہوں تو انہیں توڑنے کے بعد بقیہ ٹکڑوں کی خریدوفروخت کی جا سکتی ہے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو اس وقت آپ نے یہ کام کیا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4287)
حق سے مراد قرآن اوردین حق، باطل سے مراد کفر وشرک ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے، جس سے باطل ختم ہوگیا ہے، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔
2۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ نے کعبہ میں تصویریں دیکھیں تو آپ اس میں داخل نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ کے حکم سے تمام تصویریں مٹا دی گئیں۔
آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں دیکھیں جن کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی کے تیر تھے۔
آپ نے فرمایا: ’’ان(مشرکوں)
کو اللہ تباہ و برباد کرے! اللہ کی قسم! انھوں (سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام)
نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی تھی۔
‘‘ (صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3352)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو دیکھا وہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ مریم علیہ السلام کی تصاویر ہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’وہ تو سن چکے ہیں کہ جس گھر میں تصویریں ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر ہے ان کو کیا ہوا؟ بھلا وہ ان تیروں سے قسمت آزمائی کرتے؟‘‘ (صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3351)
3۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان آیات کی تلاوت کرتے ہوئے بیت اللہ میں داخل ہوئے تو یہ آیات ایک واضح حقیقت بن کر قریش مکہ کے سامنے آچکی تھیں۔
واللہ اعلم۔
(1)
نُصُبٌ يا نُصْبُ: اس کی جمع انصاب ہے، بت جن کو اللہ کو چھوڑ کر پوجا جاتا ہے۔
(2)
ذهق الباطل: باطل تباہ وبربادہوا، مٹ گیا، ماند پڑگیا۔
(3)
مَايُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَايُعِيْدُ: بقول زمحشری: لا يبدئي ولايعيد کا جملہ اس وقت استعمال کرتے ہیں، جب کوئی چیز مٹ جائے یا ختم ہوجائے، اس لیے معنی ہوا حق آگیا اور اس کی آمد پر یہ باطل مٹ گیا۔
فوائد ومسائل: فاکہی اور طبرانی کی روایت سے ثابت ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بت کے سامنے گئے وہ زمین میں مضبوط طور پر پیوست ہونے کے باوجود اپنی گدی کے بل گر گیا۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے (عبداللہ نے کبھی ایسا کہا) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ” حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا “ (بنی اسرائیل: ۸۱)، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ” حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3138]
وضاحت:
1؎:
حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اورختم ہونا ہی تھا۔
(بنی اسرائیل: 81)
2؎:
حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اورنہ ہی لوٹ کر آئے گا۔
(سبا: 49)
اس حدیث مبارکہ میں فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کے اردگرد سے بتوں کوختم کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام طاقت سے ہی غالب آ تا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے، اس کو کوئی بھی مغلوب نہیں کر سکتا۔ بتوں کو توڑنا فرض ہے کیونکہ یہ شرک کے اڈے ہوتے ہیں۔ یہی توحید کی غیرت ہے، اور دین ابراہیم علیہ السلام کی تجدید بھی ہے۔ جو چیز غلط ہو اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور قلم استعمال کرنا فرض ہے، تاکہ احقاق حق اور ابطال باطل ثابت کیا جا سکے۔ امت مسلمہ سوئی ہوئی ہے، بزدل بن چکے ہیں، جرٱت ختم ہو چکی ہے، حالانکہ انقلاب کے لیے استقامت، حوصلہ اور جرٱت چاہیے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شق القمر کے معجزے پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا تا ہے کہ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اس کا مشاہدہ پوری دنیا میں ہونا چاہیے تھا اور تاریخ کی کتابوں میں بھی اس کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔
«تـبـصـره» ...... اگر اس معجزے کے وقت کا اندازہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ چاند کا پوری دنیا میں دیکھا جانا ناممکنات میں سے تھا۔ کیونکہ اس وقت چاند صرف عرب اور اس کے مشرقی ممالک میں نکلا ہوا تھا۔ پھر اس معجزے کا وقت بھی طویل نا تھا اور اس روایت کے مطابق کوئی دھماکہ یا تیز روشنی کا اخراج بھی نہیں ہوا اور نا ہی اس کے اثرات زمین پر کسی قسم کے پڑے کہ لوگ خصوصی طور پر گھروں سے نکل آتے اور اس منظر کو دیکھ پاتے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک متوقع معجزہ نہیں تھا کہ تمام دنیا کی نظر میں چاند پر ہوتیں۔ اس لیے میں معجزہ صرف انھی لوگوں نے دیکھا جنھوں نے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پھر بھی بہت سے ایسے آثار موجود ہیں جو اس واقعے کی گواہی دیتے ہیں، ہم چند کا تذکرہ کرتے ہیں۔
? آثار قدیمہ کے ماہرین کو بھی اس قسم کے کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جو معجزۂ شق القمر کو بخو بی واضح کرتے ہیں،، کچھ غیر ملکی اخبار نے ایک خبر نشر کی تھی جس کا عربی ترجمہ آستانہ سے نکلنے والے عربی اخبار ”الانسان“ میں شائع ہوا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چین کی ایک قدیم عمارت سے کچھ پتھر نکلے ہیں جن پر لکھا ہوا ہے کہ اس مکان کی تعمیر فلاں سال میں ہوئی، جس سال کہ ایک بہت بڑا آسمانی حادثہ اس طور پر رونما ہوا تھا کہ چاند دو حصوں میں بٹ گیا، ماہرین نے اس پتھر پر لکھی ہوئی تاریخ کا جب حساب لگایا تو ٹھیک وہی تاریخ تھی جب مولانا و سیدنا رسول اللہ ﷺ کے انگلیوں کے اشارہ سے معجزہ شق القمر رونما ہوا تھا!! (باكورة الكلام، بحواله محمد ﷺ ص: 383، مطبعه دارالکتب العلميه بيروت، سنه 5791)
? انگریز دور میں پادری فنڈر نے مشہور عالم مولا نا رحمت اللہ کیرانوی کے ساتھ مناظرہ میں بھی یہ سارے اشکالات پیش کیے تھے۔ مولانا کے جوابات سے لا جواب ہوا (یہ جوابات مولا نا کیرانوی کی مشہور زمانہ کتاب اظہار الحق کی اردو شرح بائبل سے قرآن تک از مفتی تقی عثمانی صاحب کی تیسری جلد میں صفحہ 115 پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں)۔ اس کے علاوہ مفتی عنایت اللہ رحمہ اللہ نے رسالہ الكلام المبین میں بھی بعض اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ یہاں اس کی نقل کی گنجائش نہیں، مفتی صاحب نے بعض راجاؤں کے دیکھنے کے بھی مستند حوالے دیے ہیں۔ اس طرح مولانا رفیع الدین صاحب کا ایک مستقل رسالہ ان عتراضات کے جواب میں ہے۔ (اسلام اور عقلیات صفحہ: 294)