حدیث نمبر: 4228
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا " ، قَالَ : فَسَّرَهُ نَافِعٌ فَقَالَ : إِذَا كَانَ مَعَ الرَّجُلِ فَرَسٌ فَلَهُ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَسٌ فَلَهُ سَهْمٌ " .مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عمر نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر میں ( مال غنیمت سے ) سواروں کو دو حصے دیئے تھے اور پیدل فوجیوں کو ایک حصہ ‘ اس کی تفسیر نافع نے اس طرح کی ہے اگر کسی شخص کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اسے تین حصے ملتے تھے اور اگر گھوڑا نہ ہوتا تو صرف ایک حصہ ملتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4228. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھوڑے کے دو حصے اور پیادے کے لیے ایک حصہ تقسیم کیا۔ (راوی حدیث) حضرت نافع نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: جس آدمی کے ساتھ گھوڑا ہوتا تو اس کو تین حصے ملتے اور اگر اس کے پاس گھوڑا نہ ہوتا تو اسے ایک حصہ ملتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4228]
حدیث حاشیہ:
فرس سے مراد گھوڑا ہے یا گھڑسوار؟کچھ حضرات کا خیال ہے کہ مراد فارس، یعنی گھڑ سوار ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں پیادے (پیدل)
کا حصہ بیان ہواہے۔
ان کے نزدیک گھڑسوار کے دوحصے ہیں: ایک حصہ اس کی ذات کے لیے اوردوسرا اس کے گھوڑے کے لیے، جبکہ پیادے کا صرف ایک حصہ ہے، لیکن محدثین کے نزدیک اسے گھوڑے کی وجہ سے دیے جاتے۔
حضرت نافع ؒ کی تفسیر سے محدثین کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے اور یہی قرین قیاس ہے۔
واللہ اعلم۔
فرس سے مراد گھوڑا ہے یا گھڑسوار؟کچھ حضرات کا خیال ہے کہ مراد فارس، یعنی گھڑ سوار ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں پیادے (پیدل)
کا حصہ بیان ہواہے۔
ان کے نزدیک گھڑسوار کے دوحصے ہیں: ایک حصہ اس کی ذات کے لیے اوردوسرا اس کے گھوڑے کے لیے، جبکہ پیادے کا صرف ایک حصہ ہے، لیکن محدثین کے نزدیک اسے گھوڑے کی وجہ سے دیے جاتے۔
حضرت نافع ؒ کی تفسیر سے محدثین کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے اور یہی قرین قیاس ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4228 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2863 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2863. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کا ایک حصہ مقرر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2863]
حدیث حاشیہ: تو اللہ تعالیٰ نے عربی گھوڑے کی تخصیص نہیں کی۔
عربی اور ترکی سب گھوڑوں کو برابر حصہ ملے گا یعنی سوار کو تین حصے ملیں گے‘ پیدل کو ایک حصہ۔
اکثر اماموں اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
عربی اور ترکی سب گھوڑوں کو برابر حصہ ملے گا یعنی سوار کو تین حصے ملیں گے‘ پیدل کو ایک حصہ۔
اکثر اماموں اور اہلحدیث کا یہی قول ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2863 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2863 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2863. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کا ایک حصہ مقرر کیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2863]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ مال غنیمت سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کے لیے ایک حصہ ہے یعنی گھوڑے پر سوار مجاہد کو غنیمت مال سے تین حصے اور پیدل مجاہد کو صرف ایک حصہ دیا جائے گا۔
امام مالک ؒ، امام شافعی ؒ،امام ابو یوسف ؒاور امام محمد ؒ کا یہی مذہب ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس موقف کی تائید میں حدیث پیش کی ہے جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ کا موقف ہے کہ سوار کو دو حصے دیے جائیں۔
لیکن یہ موقف احادیث کے خلاف ہے اور اسے ان کے شاگردوں نے بھی تسلیم نہیں کیا نیز جس گھوڑے پر مجاہد سوار ہے اسے صرف اس گھوڑے کا حصہ دی جائے کیونکہ وہ اس کے کام آرہا ہے اور جس پر سواری نہیں ہوئی اس کا حصہ نہیں نکالا جائے گا۔
دو گھوڑوں پرتو بیک وقت سوار نہیں ہوا جا سکتا کہ اسے دو گھوڑوں کا حصہ دیا جائے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ مال غنیمت سے گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کے لیے ایک حصہ ہے یعنی گھوڑے پر سوار مجاہد کو غنیمت مال سے تین حصے اور پیدل مجاہد کو صرف ایک حصہ دیا جائے گا۔
امام مالک ؒ، امام شافعی ؒ،امام ابو یوسف ؒاور امام محمد ؒ کا یہی مذہب ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس موقف کی تائید میں حدیث پیش کی ہے جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ کا موقف ہے کہ سوار کو دو حصے دیے جائیں۔
لیکن یہ موقف احادیث کے خلاف ہے اور اسے ان کے شاگردوں نے بھی تسلیم نہیں کیا نیز جس گھوڑے پر مجاہد سوار ہے اسے صرف اس گھوڑے کا حصہ دی جائے کیونکہ وہ اس کے کام آرہا ہے اور جس پر سواری نہیں ہوئی اس کا حصہ نہیں نکالا جائے گا۔
دو گھوڑوں پرتو بیک وقت سوار نہیں ہوا جا سکتا کہ اسے دو گھوڑوں کا حصہ دیا جائے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2863 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1554 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´(مال غنیمت میں سے) گھوڑے کے حصے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی (سوار) کو ایک حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1554]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی (سوار) کو ایک حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1554]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی گھوڑ سوار کو تین حصے دئے گئے، ایک حصہ اس کا اور دوحصے اس کے گھوڑے کے، گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور اس کی دیکھ بھال پرکافی خرچ ہوتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی گھوڑ سوار کو تین حصے دئے گئے، ایک حصہ اس کا اور دوحصے اس کے گھوڑے کے، گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور اس کی دیکھ بھال پرکافی خرچ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1554 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2733 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گھوڑے کے حصے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2733]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2733]
فوائد ومسائل:
جہاد میں پیدل جہاد کرنے والے کے مقابلے میں گھوڑ سوار کی کارگردگی عموما بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اس لئے غنیمت میں گھوڑے کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔
فی زمانہ ٹینکوں لڑاکا طیاروں اور دیگر سواریوں کا بھی یہی حکم ہوگا۔
جہاد میں پیدل جہاد کرنے والے کے مقابلے میں گھوڑ سوار کی کارگردگی عموما بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اس لئے غنیمت میں گھوڑے کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔
فی زمانہ ٹینکوں لڑاکا طیاروں اور دیگر سواریوں کا بھی یہی حکم ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2733 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2854 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے، دو حصے گھوڑے کے، اور ایک حصہ آدمی کا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2854]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے، دو حصے گھوڑے کے، اور ایک حصہ آدمی کا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2854]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
جہاد کے لیے گھوڑے پالنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے اس لیے مال غنیمت میں گھوڑے کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔
ورنہ ممکن تھا کہ مجاہد کا حصہ گھوڑے کی خدمت ہی پر خرچ ہوجاتا اور وہ خود مال غنیمت میں سے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔
(2)
گھوڑے کا حصہ آدمی کے حصے سے دگنا ہے۔
اس لیے گھوڑے والے مجاہد کو تین حصے ملتے ہیں۔
فوائد ومسائل: (1)
جہاد کے لیے گھوڑے پالنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے اس لیے مال غنیمت میں گھوڑے کا بھی حصہ رکھا گیا ہے۔
ورنہ ممکن تھا کہ مجاہد کا حصہ گھوڑے کی خدمت ہی پر خرچ ہوجاتا اور وہ خود مال غنیمت میں سے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔
(2)
گھوڑے کا حصہ آدمی کے حصے سے دگنا ہے۔
اس لیے گھوڑے والے مجاہد کو تین حصے ملتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2854 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1110 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا (بخاری ومسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدل مرد مجاہد کے لئے ایک حصہ اور گھڑ سوار کے لئے تین حصے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ اس کا اپنا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1110»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ دیا (بخاری ومسلم) یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدل مرد مجاہد کے لئے ایک حصہ اور گھڑ سوار کے لئے تین حصے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ اس کا اپنا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1110»
تخریج:
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة خبير، حديث:4228، ومسلم، الجهاد والسير، باب كيفية قسمة الغنيمة بين الحاضرين، حديث:1762، وحديث: "أسهم لرجل..." أخرجه أبوداود، الجهاد، حديث:2733 وسنده صحيح.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے ہیں (دو اس کے گھوڑے کے اور ایک اس کا اپنا) جبکہ پیدل کے لیے صرف ایک حصہ ہے۔
2. گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور دیکھ بھال پر کافی اخراجات آتے ہیں۔
«أخرجه البخاري، المغازي، باب غزوة خبير، حديث:4228، ومسلم، الجهاد والسير، باب كيفية قسمة الغنيمة بين الحاضرين، حديث:1762، وحديث: "أسهم لرجل..." أخرجه أبوداود، الجهاد، حديث:2733 وسنده صحيح.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے ہیں (دو اس کے گھوڑے کے اور ایک اس کا اپنا) جبکہ پیدل کے لیے صرف ایک حصہ ہے۔
2. گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور دیکھ بھال پر کافی اخراجات آتے ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1110 سے ماخوذ ہے۔