حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ , فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ , فَقَالَ : أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ .´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے ۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں ۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت ابن عمر ؓ سے بھی خیبر کے دن گدھوں کے گوشت کی حرمت مروی ہے۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5521)
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اس دن رسول اللہ ﷺ نے نکاح متعہ اور گدھوں کا گوشت حرام قراردیا۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5523)
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؓ نے گدھوں کا گوشت حرام قراردیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔
(صحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5524)
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید ؓ سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گدھوں کے گوشت سے منع فرمایاتھا؟ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بصرے میں حکم بن عمرو غفاری بھی یہی کہتے ہیں لیکن علم کے سمندر حضرت ابن عباس ؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ یہ آیت پڑھتے ہیں: ’’کہہ دیجئے!جو وحی میری طرف آئی ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو۔
‘‘ (الأنعام 145: 6۔
وصحیح البخاري، الذبائح والصید، حدیث: 5529)
اس مسئلے کی مزید وضاحت کتاب الذبائح میں بیان ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
پہلی حدیث میں تھا کہ اسلامی لشکر رات کے وقت خیبر پہنچا تھا جبکہ اس روایت میں ہے کہ مسلمان صبح کے وقت وہاں پہنچے تھے، ممکن ہے کہ رات کے وقت لشکر وہاں پہنچ گیا ہو لیکن رات کچھ فاصلے پر گزاری ہو۔
پھر جب صبح ہوئی تو اسلامی لشکر میدان میں اُتر ایا۔
2۔
صرف محمد بن سیرین ؒ کی روایت میں گدھوں کے گوشت کا ذ کر ہے، اس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(فتح الباري: 585/7)
3۔
رسول اللہ ﷺ نے جب یہودیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس سے آپ نے خیبرکی تباہی کومعلوم کیا۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے درج ذیل آیت کریمہ سے خیبر کی تباہی کو اخذ کیا ہو: ’’جب عذاب ان کے صحن میں اترے گا توڈرائے جانے والوں کی صبح بہت بُری ہوگی۔
‘‘ (الصّٰفّٰت: 177: 37)
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے مضمون کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(1)
اس روایت میں ممکن ہے کہ تین شخص علیحدہ علیحدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوں یا ایک شخص بار بار حاضر خدمت ہوا ہو۔
جب پہلی مرتبہ کہا گیا کہ گدھے کھائے گئے ہیں تو آپ نے ادھر کوئی التفات نہ فرمایا تو دوسری دفعہ آپ سے گزارش کی گئی، بالآخر جب تیسری مرتبہ کہا گیا کہ گدھے تو ختم ہو گئے ہیں تو آپ نے گدھوں کے گوشت کی حرمت کا اعلان کر دیا۔
شاید پہلی یا دوسری مرتبہ کہتے وقت اس کی تحریم نازل نہ ہوئی ہو، اس لیے آپ خاموش رہے۔
آخر کار تیسری مرتبہ جب گزارش کی گئی تو اس کی تحریم بھی نازل ہو چکی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق اعلان کرا دیا۔
(2)
صحیح مسلم میں ہے کہ اعلان کرنے والے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔
(صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 5021 (1940)
سنن نسائی میں ہے کہ اعلان کرنے والے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
(سنن النسائی، الصید والذبائح، حدیث: 4346)
شاید پہلے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا، پھر تفصیل کے ساتھ حضرت ابو طلحہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس کی حرمت سے آگاہ کیا ہو اور بتایا ہو کہ یہ نجس اور پلید ہیں۔
(فتح الباري: 810/9)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 69]
➋ امام نسائی رحمہ اللہ نے شاید اس روایت کے الفاظ «إِنَّهَا رِجْسٌ» سے گدھے کے جوٹھے کے پلید ہونے پر استدلال کیا ہے، مگر جو اس کے جوٹھے کی طہارت کے قائل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اکثر گدھے کو بطور سواری استعمال کیا ہے، ظاہر ہے اس کا لعاب اور پسینہ وغیرہ کپڑوں کو لگتا ہو گا اور آپ نے کبھی بھی گدھے کے لعاب سے پرہیز کا حکم نہیں دیا اور یہی بات امت کے حق میں زیادہ بہتر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امت سے تنگی کو دور کرنے ہی کی کوشش کی ہے اور یسروا ولاتعسروا کی تلقین کرتے رہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت خیبر پہنچے اور وہ سب (خیبر والے) ہماری طرف نکلے تھے، ان کے ساتھ کدال (بیلچے) تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور فوج، اور جلدی جلدی واپس قلعے میں چلے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: ” «اللہ أكبر اللہ أكبر» ، خیبر کا برا ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں تنبیہ کی جا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4345]
(2) ”ہاتھ اٹھائے“ ممکن ہے نعرہ تکبیر (اللہ اکبر) لگانے کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوں، جیسے نماز کے شروع میں اٹھائے جاتے ہیں یا اس سے اوپر۔
(3) ”خیبر تباہ ہوگیا“ یا ”خیبر تباہ ہو جائے“ دونوں معانی ہو سکتے ہیں بطور فال فرما دیا یا بطور پیش گوئی یا یہ دعا ہے کہ خیبر تباہ ہو جائے۔
(4) ”وہ پلید ہیں“ مطلب یہ کہ گدھوں کا گوشت حرام ہے۔ ویسے ان پر سواری کرنا جائز ہے، البتہ گدھے کے پسینے، لعاب اور جوٹھے وغیرہ کی بابت حدیث میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ملتی۔ ظن غالب یہی ہے کہ یہ چیزیں پلید نہیں مزید برآں یہ کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بکثرت گدھے اور خچر پر سواری کی ہے۔ اگر ان کا پسینہ، لعاب اور جھوٹا وغیرہ پلید ہوتا تو رسول اللہ ﷺ ضرور اس کی وضاحت فرماتے۔ واللہ أعلم۔ اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن النسائي، مترجم: 1/ 319، 320، مطبوعه دارالسلام)