حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا ، فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ ، وَلَا رُكُوعُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ ( نماز میں ) قبلہ کی طرف ہے ، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع ، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 418
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 741 | صحيح مسلم: 424 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 187 | مسند الحميدي: 991

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
418. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم میرا منہ اس طرف سمجھتے ہو؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے اور نہ تمہارا رکوع۔ اور میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:418]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒ نے مصالح مساجد کی طرف اشارہ فرمایا کہ امام کو چاہیے وہ مقتدیوں کے احوال پر نظر رکھے۔
اگر وہ نماز وغیرہ صحیح نہ پڑھتے ہوں تو انھیں تنبیہ کرے۔
اگر اسے دائیں بائیں التفات کرنا پڑے تو اس میں چنداں حرج نہیں۔
البتہ یہ التفات گوشہ چشم سے ہونا چاہیے اپنا منہ اور سینہ قبلے کی طرف رکھے، کیونکہ چہرے کا انحراف کراہت اور سینے کا انحراف فساد نماز کا حکم رکھتا ہے۔
بعض شارحین نے رکوع کی مناسبت سے خشوع سے مراد سجدہ لیا ہے، لیکن ہمارے نزدیک بہتر ہے کہ خشوع کو اپنے عموم پر رکھا جائے تاکہ تمام افعال نماز اس میں آجائیں خاص طور پر رکوع کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس میں کوتاہی زیادہ ہوتی ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ جلد بازی میں بہت سے لوگ رکوع کا اتمام نہیں کرتے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں خشوع کے بجائے سجود کے الفاظ ہیں۔
(فتح الباري: 666/1)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں پچھلی سمت سے بھی سامنے کی طرح دیکھتا ہوں۔
‘‘ اس روایت کے متعلق شارحین کے کئی اقوال ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: اس سے مراد آپ کا معلوم کرلینا ہے، خواہ بذریعہ وحی ہو یا بطریق الہام ان کے ذریعے سے آپ کو مقتدی حضرات کی حرکات و سکنات بتادی جاتی تھیں مگر یہ درست نہیں، کیونکہ اس سے پیٹھ پیچھے کی قید بے فائدہ ہو جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ دائیں بائیں کے لوگوں کو کسی قدر التفات نظر سے دیکھ لیتے ہوں گے، مگر یہ رائے بھی بے وزن ہے، کیونکہ اس میں آپ کی کیا خصوصیت رہی۔

دیوار قبلہ میں آئینے کی طرح رسول اللہ ﷺ کے سامنے نمازیوں کی تصاویر آجاتی تھیں جس سے آپ صورت حال سے مطلع ہو جاتے تھے۔
عام مشائخ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے، لیکن اس پر قرآن و سنت سے کوئی دلیل نہیں ملتی۔

رسول اللہ ﷺ کو پشت مبارک میں قوت باصرہ عطا فرمائی گئی تھی، پھر آگے وضاحت ہے کہ قوت باصرہ مہرنبوت میں تھی یا دونوں کندھوں کے درمیان سوئی کی نوک کی طرح آنکھیں عطا کی گئی تھیں۔
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ اس موقف کو بھی محققین نے مسترد کردیا ہے کہ اگر ايسی بات ہوتی تو سیرت ہوتی تو سیرت نگار آپ کے احوال میں اس کا تذکرہ کرتے۔

سب سے بہتر اور راجح موقف یہ ہے جسے جمہور نے اختیار کیا ہے کہ سامنے کی طرح پیچھے بھی دیکھنا رسول اللہ ﷺ کے خصائص سے تھا اور وہی علم وادراک حقیقی کا سبب تھا جو بطور خرق عادت (معجزہ)
آپ کو حاصل تھا۔
امام بخاری ؒ کا پسندیدہ موقف بھی یہی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ انھوں نے اسی روایت کو علامات نبوت میں بھی ذکر فرمایا ہے۔
اہل سنت و الجماعت کا بھی رجحان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوعام انسانوں کی مقررہ عادت کے خلاف انھی آنکھوں سے ہرسمت دیکھنے کی طاقت عطا فرما دی تھی۔
اس لیے بعید نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نماز میں یہ خصوصیت ہو کہ آپ مقتدیوں کو بلا جہت دیکھتاہوں، لیکن یہ حالت کلی طور پر نہیں رہتی تھی کہ اس سے مسئلہ علم غیب کشیدکیا جا سکے، کیونکہ ابو بکرہ کی روایت میں ہے کہ وہ مسجد میں آئے جبکہ جماعت ہو رہی تھی۔
انھوں نے دور ہی سے رکوع کر لیا۔
نماز کے بعد دریافت کرنے پر رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے انھیں تنبیہ فرمائی۔
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے ہانپتے کانپتے ہوئے رکوع سے اٹھتے وقت بلند آواز سے (حَمْداً كَثِيراً طَيِّباً مُبَارَكاً فِيهِ)
کے الفاظ کہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بعد دریافت فرمایا کہ بآواز بلندیہ کلمات کہنے والا کون تھا؟ بتانے پر معلوم ہوا کہ وہ فلاں شخص تھا اگر آپ کو ہمیشہ بحالت نماز پیچھے سے نظر آتا رہتا تو دریافت کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو خشوع اور اتمام ارکان کی طرف توجہ دینی چاہیے، نیز امام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو نماز سے متعلقہ مسائل واحکام پر متنبہ کرتا رہے۔
خاص طور پر اگر ان میں کوتاہی نظر آئے تو اس کی اصلاح کرنے میں پوری توجہ کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 667/1)
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 418 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 741 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
741. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا منہ اسی قبلے کی طرف ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع پوشیدہ نہیں رہتا اور میں تمہیں پس پشت سے بھی دیکھتا ہوں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:741]
حدیث حاشیہ: آپ ﷺ مہرنبوت سے دیکھ لیا کرتے تھے اور یہ آپ کے معجزات میں سے ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 741 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 187 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´نماز خشوع و خضوع سے پڑھنی چاہئیے`
«. . . 328- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: هل ترون قبلتي هاهنا فوالله ما يخفى على خشوعكم ولا ركوعكم إني لأراكم من وراء ظهري. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرا قبلہ یہاں دیکھتے ہو؟ اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع اور تمہارا رکوع مخفی نہیں ہے، میں تمہیں پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 187]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 418، ومسلم 424، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حالت نماز میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو پیٹھ پیچھے سے بھی اسی طرح نظر آتا تھا جس طرح سامنے سے نظر آتا ہے اور یہ آپ کا ایک عظیم معجزہ ہے۔
➋ نماز پورے خشوع و خضوع سے پڑھنی چاہئے۔
➌ کبھی کبھار بشری تقاضوں اور لوگوں کی حرکات کی وجہ سے نماز میں توجہ بَٹ سکتی ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہئے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 328 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 991 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
991- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا رشاد فرمایاہے: تم یہ سمجھتے ہو کہ میں قبلہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہوتا ہوں تمہارا رکوع کرنا اور تمہارا خشوع (راوی کوشک ہے شائد یہ الفاظ ہیں) تمہارے رکوع اور تمہارے سجدے مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:991]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں قبلہ کی طرف ہی منہ کرتے تھے اور ادھر ہی دیکھتے تھے، نیز اس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نماز میں آپ کو پیچھے والے لوگ بھی دکھائے جاتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 990 سے ماخوذ ہے۔