صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ: باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا , وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ , كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا , فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ , فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا , ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا " .´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ‘` تم لوگ ( سورۃ انا فتحنا میں ) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو ۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں ۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے ۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی ( کہ پانی ختم ہو گیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا ۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی ۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا ۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ بھی آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا۔
اسی لیے اس باب کے ذیل اسے ذکر کیا گیا۔
1۔
اس حدیث میں چودہ سوافراد کا ذکر ہے جبکہ حضرت جابر ؓ نے ان کی تعداد پندرہ سوبتائی ہے۔
ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ایک عدددوسرے کی نفی نہیں کرتا۔
2۔
اس حدیث میں بھی ایک زبردست معجزے کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کے کلی کرنے سے کنواں چشمے کی طرح پھوٹ پڑا اور پانی سے بھر گیا۔
پانی کو زیادہ کرنے کے متعدد معجزے کتب احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا معجزہ حسب ذیل ہے: حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ دوران سفرمیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے وضو کے لیے پانی لانے کا حکم دیا۔
میں نے پانی تلاش کیا تو نہ ملا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فلاں انصاری سے پتہ کرو۔
۔
۔
وہ آپ کے لیے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرتا تھا۔
میں اس کے پاس گیا تو اس کی مشک کے منہ کے ساتھ پانی کا ایک قطرہ لگا ہواتھا۔
اگرمیں اسے لینے کی کوشش کرتا تو وہ بھی خشک ہوجاتا۔
بہرحال میں نے وہ قطرہ رسول اللہ ﷺ کے حضور پیش کردیا۔
آپ نے اسے لیا اور کچھ پڑھ کر اپنی ہتھیلی پر ملا،پھر مجھے ایک بڑا برتن لانے کو کہا۔
میں ایک برتن لے آیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو برتن میں رکھ دیا۔
ان سے پانی نکلا توآپ نے مجھے فرمایا: ’’جابر ؓ! بسم اللہ پڑھ کر اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو۔
‘‘ میں نے ایسا کیا تو آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی بہنے لگا،حتی کہ وہ برتن بھر گیا اور اس میں پانی گردش کرنے لگا۔
آپ نے مجھے حکم دیا: ’’جابر ؓ!لوگوں میں اعلان کردو جس کو پانی کی ضرورت ہو وہ پوری کرلے۔
‘‘ چنانچہ تمام لوگوں نے خوب سیر ہوکرپیا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے اس سے ہاتھ نکالا تو وہ برتن پانی سے بھرا ہوا تھا۔
(صحیح مسلم، الذھد والرقائق، حدیث: 7519(3013)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: یہ واقعہ تکثیر ماء کے دیگر واقعات سے زیادہ عجیب تر ہے کیونکہ اس میں پانی کی انتہائی کمی اور اس سے استفادہ کرنے والوں کی کثرت کا بیان ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 716/6)