حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنِي يَحْيَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ . قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا .
مولانا داود راز

´مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا ( سورۃ النور کی آیت میں ) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم‏» کرتی تھیں اور ( اس کی تفسیر میں ) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے ۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4144
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4144. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے ﴿إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ﴾ پڑھا، یعنی جس وقت تم اپنی زبانوں سے جھوٹ بولتے تھے، اور فرمایا: وَلَقَ کے معنی جھوٹ کے ہیں۔ ابن ابی ملیکہ نے کہا: حضرت عائشہ‬ ؓ ا‬س قراءت کو دوسروں کی نسبت زیادہ جاننے والی تھیں کیونکہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4144]
حدیث حاشیہ:

عام قراءت (تَلَقَّوْنَهُ)
ہے جو (تلقي)
سے ماخوذ ہے جس کے معنی لینا اور قبول کرنا ہیں، جبکہ حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک (تَلِقُونَه)
ہے جو ولق سے مشتق ہے۔
اس کے معنی جھوٹ بولنے میں جلدی کرنا ہیں لیکن پہلی قراءت متواتر ہے اور سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے متعلق اس آیت کا نازل ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان کی قرآءت متواتر اور صحیح ہے۔

قراءت متواتر ہ میں ایک تاکو خذف کردیا گیا ہے۔
اصل میں (تتلقونه)
فعل مضارع کا صیغہ ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4144 سے ماخوذ ہے۔