صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ: باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ : الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ : مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ : فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ : حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ : عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : وَنَوْسَاتُهَا .مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ہشام نے خبر دی، انہوں نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور مجھے ابنِ طاؤس نے خبر دی، انہوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی، انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوا، اس وقت ان کی چوٹیوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے کہا: لوگوں کے معاملات میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ ہی رہی ہیں، اور اس معاملے میں میرے لیے کچھ بھی مقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا: تم جا کر لوگوں سے ملو، کیونکہ وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، اور مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارا ان سے رک جانا کہیں اختلاف کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں جانے پر آمادہ کیا یہاں تک کہ وہ چلے گئے۔ پھر جب لوگ منتشر ہو گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص اس معاملے میں بات کرنا چاہتا ہے، وہ سامنے آ کر کھلے دل سے اپنی بات کرے، کیونکہ ہم اس کے اور اس کے باپ سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ نے ان کا جواب کیوں نہ دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے اپنی بیٹھک کھولی اور ارادہ کیا کہ کہوں: اس معاملے کا تم سے زیادہ حق دار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام پر جنگ کی تھی، مگر مجھے اندیشہ ہوا کہ میں کوئی ایسی بات نہ کہہ بیٹھوں جو جماعت میں تفرقہ ڈال دے، خونریزی کا سبب بن جائے، اور میری بات کا کوئی اور مطلب لیا جائے، چنانچہ میں نے وہ سب یاد کیا جو اللہ تعالیٰ نے جنتوں میں تیار کر رکھا ہے۔ حبیب بن مسلمہ نے کہا: آپ محفوظ رکھے گئے اور بچا لیے گئے۔ محمود نے عبدالرزاق سے روایت کیا کہ لفظ «ونوساتها» آیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی مراد وہ حکومت کا جھگڑا ہے جو صفین کے مقام پر حضرت علی ؓ اور معاویہ ؓ کے درمیان واقع ہوا۔
اس کے لیے حرمین کے بقایا صحابہ ؓ نے باہمی مراسلت کرکے اس قضیہ نا مرضیہ کو ختم کرنے میں کوشش کرنے کے لیے ایک مجلس شوری کو بلایا جس میں شرکت کے لیے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اپنے بہن سے مشورہ کیا۔
بہن کا مشورہ یہی ہوا کہ تم کو بھی اس مجلس میں ضرور شریک ہونا چاہیے ورنہ خطرہ ہے کہ تمہاری طرف سے لوگوں میں خواہ مخواہ بد گمانیاں پیدا ہو جائیں گی جن کا نتیجہ موجودہ فتنے کے ہمیشہ جاری رہنے کی صورت میں ظاہر ہو تو یہ اچھا نہ ہوگا۔
جب مجلس شوری ختم ہوئی تو معاملہ دونوں طرف سے ایک ایک پنچ کے انتخاب پر ختم ہوا۔
چنانچہ حضرت ابو موسی اشعری ؓ حضرت علی ؓ کی طرف سے اور حضرت عمرو بن العاص ؓ حضرت معاویہ ؓ کی طرف سے پنچ قرار پائے۔
بعد میں وہ ہوا جو مشہور ومعروف ہے۔
1۔
غزوہ احزاب میں اگرچہ باقاعدہ جنگ کی صورت نہیں تھی لیکن کفر نے ایک متحدہ محاذ کی شکل میں اسلام اور اہل اسلام کو ختم کرنے کے لیے مدینے پر چڑھائی کی۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح و کامیابی سے ہمکنار کیا۔
انھوں نے خندق کھود کر شہر کو ان کے حملے سے محفوظ کر لیا تھا اور کفار اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے اور ناکام واپس لوٹ گئے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو حضرت ابن عمر ؓ کے اس ارشاد کی بنا پر پیش کیا جو انھوں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ ’’تم سے زیادہ خلافت کا حق دار وہ ہے جس نے تم سے اور تمھارے باپ سے اسلام کی سر بلندی کے لیے جنگ لڑی تھی۔
‘‘ یعنی غزوہ احد اور خندق کے دن معاویہ اور ان کے باپ ابو سفیان سے قتال کیا۔
اس مقابلے میں حضرت علی ؓ مہاجرین اور حاضرین خندق ؓ مراد ہیں جن میں حضرت ابن عمر ؓ بھی شامل تھے۔
اس اعتبار سے اس واقعے کو غزوہ خندق کے عنوان میں لایا گیا ہے 3۔
بنو ہاشم زہدہ وتقوی میں پیش تھے جبکہ بنو امیہ میں طاقت اور دولت تھی چنانچہ جب تک ان میں قوت رہی انھوں نے بنو ہاشم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔
حضرت ابو سفیان ؓ تو آخر وقت تک مسلمانوں سے لڑتے رہے آخر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے۔
4۔
حضرت ابن عمر ؓ کا موقف تھا کہ فاضل کی موجود گی میں مغضول کے ہاتھ پر بیعت کر لینا مسلمانوں کی خونریزی سے بہترہے اس لیے انھوں نے حضرت معاویہ ؓ اور ان کے بیٹے یزید سے بیعت کی۔
5۔
بہرحال اس حدیث کی غزوہ خندق سے یہ مناسبت ہے کہ خلفائے راشدین ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ غزوہ خندق میں موجود تھے جبکہ ابو سفیان اور حضرت معاویہ ؓ اس وقت مخالف اسلام تھےاس مقام پر خلافت اور حکومت کے استحقاق سے بحث مقصود نہیں وہ ہم کتاب الاحکام میں بیان کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔