صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةُ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِئْرِ مَعُونَةَ: باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عنه عَنْ الْقُنُوتِ فِي الصَّلَاةِ , فَقَالَ : نَعَمْ , فَقُلْتُ : كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : قَبْلَهُ , قُلْتُ : فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ : بَعْدَهُ , قَالَ : كَذَبَ , إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا , أَنَّهُ كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ وَهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ قِبَلَهُمْ , فَظَهَرَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ , فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن احول بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں قنوت کے بارے میں پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد ؟ انہوں نے کہا کہ رکوع سے پہلے ۔ میں نے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے آپ ہی کا نام لے کر مجھے بتایا کہ قنوت رکوع کے بعد ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے غلط کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت پڑھی ۔ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو جو قاریوں کے نام سے مشہور تھی جو ستر کی تعداد میں تھے ، مشرکین کے بعض قبائل کے یہاں بھیجا تھا ۔ مشرکین کے ان قبائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صحابہ کے بارے میں پہلے حفظ و امان کا یقین دلایا تھا لیکن بعد میں یہ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اس جماعت پر غالب آ گئے ( اور غداری کی اور انہیں شہید کر دیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر رکوع کے بعد ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی اور اس میں ان مشرکین کے لیے بددعا کی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پہلے اس نے بنو عامر قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا۔
انہوں نے ان مسلمانوں سے لڑنا منظور نہ کیا پھر اس مردود نے رعل اور عصیہ اور ذکوان کو بنو سلیم کے قبیلے میں سے تھے بہکایا حالانکہ آنحضرت ﷺ سے اور بنو سلیم سے عہد تھا مگر عامر کے کہنے سے ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور قاریوں کو ناحق مار ڈالا۔
بعضوں نے کہا آنحضرت ﷺ اور بنو عامر سے عہد تھا۔
جب عامر بن طفیل نے بنو عامر کو ان مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بلایا تو انہوں نے عہدشکنی منظور نہ کی۔
آخر اس نے رعل اور عصیہ اور ذکوان کے قبیلوں کو بھڑکا یا جن سے عہد نہ تھا انہوں نے عامر کے بہکانے سے ان کو قتل کیا۔
1۔
ان احادیث کو پیش کرنے کا مقصد کسی فقہی مسئلے کا بیان نہیں بلکہ صرف بئرمعونہ کے سانحہ کی مناسبت سے انھیں ذکر کیا گیا ہے۔
اس حادثے میں عامر بن طفیل کا بڑا ہاتھ تھا۔
پہلے اس نےبنو عامرقبیلے کو مسلمان قراء کے خلاف بھڑکایا۔
جب انھوں نے انکار کردیا قبیلہ رعل، ذکوان اور عصبہ کو جنگ پر آمادہ کیا۔
یہ قبائل بنو سلیم کے تھے اور ان سے بھی رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ تھا مگر ان لوگوں نے عہد شکنی کی اور قراء کو ناحق مار ڈالا۔
رسول اللہ ﷺ کو اس درد ناک سانحے کا اس قدر رنج پہنچا اور اتنے غمگین ہوئے کہ جن قبائل نے قراء سے غداری کی تھی آپ ان پر مہینہ بھر بدعا کرتے رہے۔
2۔
بئر معونہ کے المیہ نے غزوہ احد کا چرچا تازہ کردیا اور یہ اس لحاظ سے زیادہ المناک تھا کہ شہدا ئے احد تو کھلی اور دو بدو جنگ میں شہید ہوئے تھے مگر یہ بے چارے ایک شرمناک غداری کی نذر ہوگئے۔
حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ غمگین کبھی نہیں دیکھا تھا۔
رضي اللہ عنهم أجمعین۔
1۔
انصار اور قریش کے درمیان ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ تھا۔
اسلام میں اس عقد حلف کی ممانعت ہے جو قتل وغارت کے لیے ایک دوسرے کی موافقت پر ہو۔
اس حدیث میں بھائی چارے کا ذکر ہے جسے اسلام نے جائز قرار دیا ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس سے گھر کی عظمت بیان کرنا چاہتے ہیں جس میں یہ معاہدہ ہوا تھا۔
دوسری حدیث میں قبائل بنوسلیم پر بددعا کرنے کا ذکر ہے کیونکہ وہ بدباطن غدار تھے جنھوں نے چند قراء کو دھوکے سے اپنے پاس بلایا، پھر انھیں شہید کر ڈالا تھا۔
واضح رہے کہ ان کے درمیان بھی معاہدہ تھا لیکن انھوں نے عہد شکنی کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو شہید کیا۔
(صحیح البخاري، الوتر، حدیث: 1002)
بئرمعونہ بنوعامر اور بنو سلیم کی پتھریلی زمین کے درمیان نجد کی طرف واقع ہے۔
وہاں ستر قرآء کو دھوکے سے شہید کیا گیا۔
حدیث میں مذکور آیات عرصہ دراز تک پڑھی جاتی رہیں۔
پھر انھیں منسوخ کردیا گیا اور آل عمران کی درج بالا آیات نازل ہوئیں جیسا کہ امام ابن جریر طبری ؓنے اپنی تفسیر میں اس بات کی صراحت کی ہے۔
اس حدیث کی عنوان سے یہی مناسبت ہےکہ عنوان میں ذکر کردہ آیات کا پس منظر بئر معونہ کا واقعہ ہے۔
(عمدة القاري: 122/10)
اللہ تعالی نے اپنے رسول کی بد دعا قبول کی اور یہ قبائل تباہ ہو گئے۔
الاما شاءاللہ۔
اس حدیث میں عامر بن طفیل کی موت کا ذ کر ہے۔
حالانکہ اس کی موت کا سریہ قراء سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر عامر کی غداری کی وجہ سے قراء حضرات کی شہادت واقع ہوئی تھی، اس لیے اس کی موت کا ذکر بھی آگیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی غداری اور اپنے چچا ابوبراء کی امان کا لحاظ نہ کرنے پر اس کے خلاف بددعا فرمائی۔
بددعا کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ!عامر کے شرسے مجھے کفایت فرما۔
اس پر بددعا کا اثر اس طرح ظاہر ہوا کہ طاعون کی گلٹی اس کے کان کے پیچھے نکل آئی جبکہ یہ ایک عورت کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔
چونکہ بہادر آدمی بستر پر موت پسند نہیں کرتا، اس لیے وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہوا اور وہیں اسے موت نے آلیا۔
بہرحال اس کی موت کا واقعہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے۔
سریہ قراء سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بئر معونہ کے حادثے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور مذکورہ گفتگو کی۔
واللہ اعلم۔
ان قاریوں کی ایک خاص صفت یہ بیان کی گئی کہ یہ حضرات دن میں رزق حلال کےلیے لکڑیاں فروخت کیا کرتے تھے۔
آج کےقاریوں جیسے نہ تھے جو فن سےقرات کوشکم پروری کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں اورجگہ جگہ قرات پڑھ پڑھ کردست سوال دراز کرتے رہتے ہیں۔
الاماشاءاللہ۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خودرعل اور ذکوان قبائل عرب نے رسول اللہ ﷺ سے مدد مانگی تھی جبکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ خود عامر بن طفیل نے مجاہدین کے خلاف ان قبائل سے مدد مانگی تھی۔
ان روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ ظاہری طور پررعل اور ذکوان نے اپنے اسلام کا اظہار کیا اور دشمنوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے مدد مانگی لیکن باطن میں کفر چھپائے رکھا اور ان مجاہدین کے خلاف غداری کی اوردھوکے سے انھیں شہید کردیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ قبیلہ بنو سلیم کے دوسرے لوگوں سے عامر بن طفیل نے مدد مانگی ہو تاکہ مجاہدین قراء کا مقابلہ کرکے ان کو شہید کردیاجائے۔
2۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس قصے میں بنولحیان کا ذکرکسی راوی کا وہم ہے کیونکہ ان کا ذکر غزوہ رجیع میں ہوا ہے جو حضرت خبیب ؓ کے قصے سے متعلق ہے وہ بئرمعونہ کے حادثے میں شامل تھے۔
(فتح الباري: 483/7)
ان قبائل کا جرم اتنا سنگین تھا کے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ نے بددعا فرمائی اور ایسا کرنا ضروری تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی بددعا قبول فرمائی اور یہ قبائل صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
الا ما شاء اللہ۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے جوستر70 قراء بھیجے تھے، وہ دن کے وقت لکڑیاں اکٹھی کرکے فروخت کرتے، پھر اس قیمت سے اہل صفہ کے لیے کھانا تیار کرتے اور رات کے وقت قرآن کریم پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔
انھیں جس کام کے لیے روانہ فرمایا روایات میں اس کی وضاحت ہے کہ قبیلہ رعل اور ذکوان والوں نے رسول اللہ ﷺ سے فوجی مدد مانگی تو آپ نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ستر قاری ان کے ہمراہ روانہ کردیے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں دعوت دین اوراشاعت اسلام کے لیے بھیجا تھا۔
بہرحال یہ دونوں اغراض پیش نظر تھیں۔
تعلیم اسلام بھی مقصود تھی اور ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کے ہمراہ کفار سے جہاد بھی کرنا ہے لہذا دونوں قسم کی روایات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
بہرحال ان قراء کو قتل کرنے والے دوسرے لوگ تھے اگرچہ وہ ان کے قبیلے سے تھے۔
جو انھیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے تھے وہ ان کے قاتل نہ تھے۔
اس سریے کو سریۃ القراء بھی کہا جاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ابوبراء عامر بن مالک رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی لیکن مسلمان نہ ہوا بلکہ اس نے کہا کہ آپ میرے ساتھ کچھ لوگوں کو بھیج دیں جومیری قوم کو دین کی دعوت دیں، امید ہے کہ وہ اس دین کوقبول کرلیں گے۔
میں ان کی طرف سے ضمانت دیتا ہوں۔
آپ نے ستر قراء اس کے ہمراہ بھیج دیے۔
جب بئر معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے حضرت حرام بن ملحان کو عامر بن طفیل کے پاس بھیجا جو ابوالبراء کا بھتیجا تھا۔
اس نےرعل اور ذکوان قبائل کو ساتھ ملا کر ان تمام قراء کو گھیر لیا۔
لڑائی ہوئی بالآخر یہ حضرات شہید ہوگئے۔
ابوبراء کو جب ان حضرات کی اطلاع ملی تو اس نے اظہار افسوس کیا۔
(فتح الباري: 483/7)
2۔
مصیبت، جنگ اور غلبہ دشمن کے وقت کی جانے والی دعا کو قنوت نازلہ کہا جاتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ جب کسی پر بددعا یاکسی کے لیے دعا کا ارادہ فرماتے توآخری رکعت کے رکوع کے بعد: (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ)
کہنے کے بعد اونچی آواز سے دعا فرماتے تھے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4559۔
4560)
یہ ستر آدمی انصار کے قاری تھے اور آپ نے دین کی تعلیم پھیلانے کے لئے قبیلہ بنی عامر کے ہاں بھیجے تھے جن کے لئے خود اس قبیلہ نے درخواست کی لیکن راستے میں بنو سلیم نے دغا کی اور ان غریب قاریوں کو ناحق قتل کردیا۔
بنو سلیم کا سردار عامر بن طفیل تھا۔
لعنت کے سلسلہ میں جن قبائل کا ذکر روایت میں آیا ہے یہ سب بنو سلیم کی شاخیں ہیں۔
آیت جس کا ذکر روایت میں آیا ہے ان آیتوں میں سے ہے جن کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
1۔
اصل واقعہ یوں ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے خود کو مسلمان ظاہر کرکے درخواست کی کہ ہمارے ہمراہ کچھ قراء بھیج دیں تاکہ وہ ہمیں دین اسلام کی تعلیم دیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلیم ؓ کے بھائی حضرت حرام بن ملحان ؓ اور ستر آدمیوں کوان کے ہمراہ قبیلہ بنو عامر کی طرف روانہ کردیا۔
یہ ستر آدمی انصار کے قاری اور قرآن کریم کے ماہر تھے لیکن راستے میں بنوسلیم نے غداری کی اور بئر معونہ کے پاس انھیں ناحق قتل کر دیا۔
لغت کے سلسلے میں جن قبائل کا ذکر آیا ہے وہ سب بنوسلیم کی شاخیں ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں جو زخمی ہوجائے یا اسے نیزاماراجائے اور وہ ایسی حالت میں فوت ہوجائے تو اسے بھی شہادت کا درجہ ملتا ہے جیسا کہ مذکورہ واقعے میں حضرت حرام بن ملحان ؒ کے ساتھ ہوا۔
ملحوظہ: إلی قوم مشركين دون أولئك وكان بينهم و بين رسول الله صلي الله عليه وسلم عهد۔
۔
، یہ عبارت مبہم ہے۔
اس کا ترجمہ حدیث کے دیگر طرق کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے تاکہ فہم حدیث میں دقت پیش نہ آئے۔
اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (فتح الباري: 489/1و 496)
حنفیہ کے ہاں صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا مکروہ ہے، اہلحدیث کے ہاں گاہے بگاہے قنوت پڑھ لینا بھی جائز اور ترک بھی جائز۔
اسی لیے مسلک اہلحدیث افراط وتفریط سے ہٹ کر ایک صراط مستقیم کا نام ہے۔
اللہ پاک ہم کو سچا اہلحدیث بنائے۔
(آمین)
یہ بھی مروی ہے کہ ابو براء عامر بن مالک نامی ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! آپ چند مسلمانوں کو نجد کی طرف بھیج دیں تو مجھے امید ہے کہ نجد والے مسلمان ہوجائیں گے۔
آپ نے فرمایا میں ڈرتا ہوں نجد والے ان کو ہلاک نہ کر دیں۔
وہ شخص کہنے لگا میں ان لوگو ں کو اپنی پناہ میں رکھوںگا۔
اس وقت آپ نے یہ ستر صحابی روانہ کئے۔
صرف ایک صحابی کعب بن زید ؓ زخمی ہو کر بچ نکلے تھے۔
جنہوں نے مدینہ آکر خبر دی تھی۔
1۔
امام بخاری ؒنے اس واقعے سے ثابت کیا ہے کہ اگرمجاہدین کو میدان جنگ میں کسی وقت نفری کی ضرورت ہوتو ان کے طلب کرنے پر مزید کمک روانہ کی جاسکتی ہے۔
اسے میدان جنگ میں لڑنے والوں کی کم ہمتی یا بزدلی شمار نہیں کیا جائےگا۔
2۔
اس روایت میں بنو لحیان کا ذکر کسی راوی کا وہم ہے کیونکہ بنو لحیان کاتعلق بئر معونہ سے نہیں بلکہ اصحاب رجیع سے ہے۔
ان کی طرف دس افراد پر مشتمل ایک فوجی دستہ جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔
اس کے سربراہ عاصم بن ثابت انصاری ؓ تھے۔
بنولحیان نے انھیں سات ساتھیوں سمیت قتل کیا اور حضرت خبیب بن عدی ؓ کو اہل مکہ کے ہاتھ فروخت کیا۔
رسول اللہ ﷺ کو دونوں واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے قنوت کی تھی۔
بہرحال یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔
(فتح الباري: 217/6)
اگر یہ زندہ رہتے تو ان سے ہزارہا لوگوں کو فائدہ پہنچتا۔
اسی لیے ایک سچے عالم کی موت کو عالم جہان کی موت کہاگیا ہے۔
قنوت قبل الرکوع اور بعدالرکوع کے متعلق شیخ الحدیث حضرت مولانا استاذ عبیداللہ صاحب مبارک پوری فرماتے ہیں۔
ورواه ابن المنذر عن حميد عن أنس بلفظ: إن بعض أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم - قنتوا في صلاة الفجر قبل الركوع، وبعضهم بعد الركوع، وهذا كله يدل على اختلاف عمل الصحابة في محل القنوت المكتوبة فقنت بعضهم قبل الركوع وبعضهم بعده، وأما النبي - صلى الله عليه وسلم - فلم يثبت عنه القنوت في المكتوبة إلا عند النازلة، ولم يقنت في النازلة إلا بعد الركوع، هذا ما تحقق لي، والله أعلم. (مرعاة المفاتیح، جلد: 2ص: 224)
یعنی حضرت انس ؓ کی اسی روایت کو ابن منذر نے اس طرح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ رسول ﷺ فجر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے، بعض رکوع کے بعد پڑھتے اور ان سب سے معلوم ہوتاہے کہ فرض نمازوں میں محل قنوت کے بارے میں صحابہ میں اختلاف تھا اور نبی کریم ﷺ سے فرض نمازوں میں سوائے قنوت نازلہ کے اور کوئی قنوت ثابت نہیں ہوئی۔
آپ نے صرف قنوت نازلہ پڑھی اور وہ رکوع کے بعد پڑھی ہے میری تحقیق یہی ہے واللہ أعلم۔
امام نووی استحباب القنوت میں فرماتے ہیں: و محل القنوت بعد رفع الراس فی الرکوع فی الرکعۃ الاخیرہ یعنی قنوت پڑھنے کا محل آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے۔
حدیث ہذا میں حضرت انس ؓ کے بیان متعلق قنوت کا تعلق ان کی اپنی معلومات کی حد تک ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
جن قراء کو ان مشرکین نے شہید کیا وہ بڑے عالم اور قرآن کے عامل تھے۔
رسول اللہ ﷺ اس لیے غمناک ہوئے کہ یہ اگریہ زندہ رہتے تو ان کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے: (مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَمِ)
یعنی ایک عالم کی موت پورے جہان کی موت ہے۔
2۔
اس حدیث کے مطابق مشرکین کا آپ سے عہد وپیمان تھا، جب انھوں نے عہد شکنی کرتے ہوئے ظلم اور بربریت کے ساتھ سترقرائے کرام کو شہید کردیا تو آپ نے ان کے خلاف بددعا کی اور پورا ایک مہینہ فرض نمازوں میں قنوت کرتے رہے۔
3۔
قنوت کے متعلق ہمارا موقف یہ ہے کہ قنوت نازلہ رکوع کے بعد اورقنوت وتررکوع سے پہلے ہے جیسا کہ سنن نسائی میں اس کی صراحت ہے۔
(سنن النسائي، التطبیق، حدیث: 1071 و کتاب قیام اللیل، حدیث: 1700)
اس مسئلے کے متعلق تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔
حضرت مولانا شیخ الحدیث عبیداللہ صاحب مبارکپوری ؒ کے لفظوں میں اس جماعت کا تعارف یہ ہے: وكانوا من أوزاع الناس ينزلون الصفة يتفقهون العلم ويتعلمون القرآن، وكانوا ردءاً للمسلمين إذا نزلت بهم نازلة وكانوا حقاً عمار المسجد وليوث الملاحم، بعثهم رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى أهل نجد من بني عامر ليدعوهم على الإسلام ويقرؤا عليهم القرآن، فلما نزلوا بئر معونة قصدهم عامر بن الطفيل في أحياء من بني سليم، وهو رعل وذكوان وعصية فقاتلوهم. (فأصيبوا)
أي فقتلوا جميعاً. قيل: ولم ينج منهم إلا كعب بن زيد الأنصاري، فإنه تخلص وبه رمق وظنوا أنه مات، فعاش حتى استشهد يوم الخندق وأسر عمرو بن أمية الصغرى، وكان ذلك في السنة الرابعة من الهجرة أي في صفر على رأس أربعة أشهر من أحد، فحزن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حزناً شديداً، قال أنس: ما رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وجد على أحد ما وجد عليهم. (مرعاة ج: 2ص222)
یعنی بعض اصحاب صفہ میں سے یہ بہترین اللہ والے بزرگ تھے جو قرآن پاک اور دینی علوم میں مہارت حاصل کرتے تھے اور یہ وہ لوگ تھے کہ مصائب کے وقت ان کی دعائیں اہل اسلام کے لیے پشت پناہی کا کام دیتی تھی۔
یہ مسجد نبوی کے حقیقی طور پر آباد کرنے والے اہل حق لوگ تھے جو جنگ وجہاد کے مواقع پر بہادر شیروں کی طرح میدان میں کام کیا کرتے تھے۔
انہیں رسول اللہ ﷺ نے اہل نجد کے قبیلہ بنو عامر میں تبلیغ اسلام اور تعلیم قرآن مجید کے لیے روانہ فرمایا تھا۔
جب یہ بئر معونہ کے قریب پہنچے تو عامر بن طفیل نامی ایک غدار نے رعل اور ذکوان نامی قبائل کے بہت سے لوگوں کو ہمراہ لے کر ان پر حملہ کردیا اور یہ سب وہاں شہید ہوگئے۔
جن کا رسول کریم ﷺ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ آپ ﷺ نے پورے ایک ماہ تک قبائل رعل وذکوان کے لیے قنوت نازلہ پڑھی۔
یہ 4ھ کا واقعہ ہے۔
کہا گیا ہے کہ ان میں سے صرف ایک بزرگ کعب بن زید انصاری ؓ کسی طرح بچ نکلے۔
جسے ظالموں نے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔
یہ بعد تک زندہ رہے۔
یہاں تک کہ جنگ خندق میں شہید ہوئے۔
رضي اللہ عنهم آمین
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، نہ تو غم و پریشانی کے وقت اپنے چہرے کو نوچنا شروع کر دے جو شریعت کی خلاف ورزی پر مبنی ہے اور نہ اس کے متعلق قساوتِ قلبی ہی کا مظاہرہ کرے کہ پریشانی کے اثرات ہی چہرے پر نمایاں نہ ہوں۔
ایسے حالات میں پریشان انسان کو چاہیے کہ پروقار ہو کر اور اطمینان سے بیٹھے اور چہرے پر غمگینی اور پریشانی کے اثرات ہوں تاکہ پتہ چلے کہ واقعی یہ انسان کسی بڑی مصیبت سے دوچار ہے۔
(فتح الباري: 213/3) (2)
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجد کی طرف ستر (70)
قراء بھیجے جو بڑے بہادر اور فاضل تھے، انہیں دھوکے سے شہید کر دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے مہینہ بھر ان قبائل کے لیے بددعا فرمائی جنہوں نے قراء حضرات کو قتل کیا تھا۔
اس وقت رسول الله ﷺ اس کیفیت سے دوچار ہوئے جس کا حدیث میں ذکر ہے۔
علاقہ نجد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔
آپﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی مگر اس نے نہ اسے قبول کیا نہ رد، اور آپﷺ کو بڑے مخلصانہ انداز میں یہ مشورہ دیا کہ آپ اپنے کچھ ساتھیوں کو میرے علاقہ میں بھیجیں امید ہے لوگ اسلام قبول کر لیں گے اور آپﷺ کے لوگ میری پناہ میں ہوں گے، آپﷺ نے تعلیم وتبلیغ کے لیے ستر قاری بھیجے تاکہ وہ معلم اور داعی کا فریضہ سرانجام دیں، آپﷺ نے ان کا امیر منذر بن عمرو کو مقرر فرمایا آپﷺ نے ابوبراء کے بھتیجے عامر بن طفیل کےنام خط دیا تھا جب یہ وفد بئر معونہ نامی جگہ پر پہنچا تو وہاں سے حرام بن ملحان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر عامر بن طفیل کی طرف روانہ ہوئے، اس نے خط دیکھے بغیر ہی اپنے آدمی کو اشارہ کر کے ان کو قتل کروا دیا۔
پھر اپنی قوم بنو عامرکو کہا کہ مدینہ سے آنے والے لوگوں پر حملہ کرو لیکن انہوں نے اپنے سردار ابوبراء کے عہد کو توڑنا گوارا نہیں کیا۔
تب اس نے بنو سلیم کی شاخوں یعنی رعل، ذکوان، لحیان اور عصیہ کو اس کام پر آمادہ کیا ان لوگوں نے مسلمان قاریوں کو شہید کر دیا صرف دو آدمی زندہ بچے، آپ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپﷺ کو بے حد دکھ ہوا اور آپﷺ نے ان قبائل کے خلاف ایک ماہ تک قنوت نازل فرمائی۔
ان شہداء کی خواہش پر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی اور ان کا پیغام پہنچا دیا جس کو وقتی طور پر پڑھا گیا پھر وہ منسوخ ہو گیا منسوخ شدہ آیات چونکہ اب قرآن میں نہیں ہیں اس لیے وہ تواتر سے ثابت نہیں ہیں۔
نوٹ۔
اس واقعہ بئیر معونہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کو علم غیب نہ تھا وگرنہ آپﷺ ابوبراء کے کہنے پر سترمنتخب افراد کو اس کے علاقہ میں نہ بھیجتے لیکن علامہ سعیدی اس کا انتہائی مضحکہ خیز جواب دیتے ہیں کہ آپﷺ کو ان کی شہادت کا علم تھا آپﷺ نے اہل نجد کے مطالبہ تبلیغ پر انہیں نجد بھیج دیا تاکہ کل قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم نے تو قبول اسلام کے لیے تیرے نبی سے مبلغ مانگتے تھے، اس نے نہیں بھیجے۔
(شرح صحیح مسلم: 2/ 332)
حالانکہ اوپر یہ لکھا ہے کہ آپﷺ نے ابوبراء کے کہنے پر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھیجا تھا اور اس نے ان کی حفاظت کی ضمانت دی تھی، اس کی ضمانت پر بھیجا تھا۔
پھر اگر آپﷺ کو معلوم تھا تو آپﷺ نے اس قدر رنج وملال کا اظہار کیوں فرمایا اور ایک ماہ تک ان کے خلاف دعا کیوں فرمائی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو روک دیا، مزید برآں یہ لوگ اہل نجد تک تو پہنچے ہی نہیں۔
بئرمعونہ تو مکہ اور عسفان کے درمیان ہذیل کا علاقہ ہے۔
عامر بن طفیل نے تو ان کو راستہ میں ہی روک لیا تھا۔
اَحْيَاء: حَیٌّ کی جمع ہے، قبیلہ کو کہتے ہیں۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ رکوع کے بعد دعائے قنوت کرنے کے قائل ہیں۔
صحیح روایات کی روشنی میں قنوت نازلہ رکوع کے بلند آوازسے ہے۔
اس میں ہاتھ اٹھائے جائیں گے اور مقتدی آمین کہیں گے۔
وتر میں قنوت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے لیکن نسائی اورابن ماجہ کی روایت ہے کہ آپﷺ وتر میں رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔
ابن حبان کی روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وتر میں رکوع کے بعد قنوت سکھایا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1071]
➋ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نماز میں غیر قرآن الفاظ کے ساتھ دعا کرنا ممنوع قرار دیتے ہیں۔ حدیث ان کے موقف کی تردید کرتی ہے۔
➌ کفار پر لعنت بھیجنا اور ان کے خلاف بددعا کرنا جائز ہے۔
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1184]
فائدہ: یہاں حدیث میں اختصار ہے۔
اصل میں یہ وہی حدیث ہے جس میں یہ درج ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک مہینہ مسلسل پانچوں فرض نمازوں میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے، اور عرب کے ایک قبیلہ (قبیلہ مضر پر) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1243]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قنوت نازلہ قبیلہ مضر کے خلاف پڑھی تھی۔
وہ لوگ اس وقت کافر تھے۔
اور مسلمانوں کے لئے بہت سی مشکلات کا باعث تھے۔
(2)
ترک کرنے کا مطلب یہ ہےکہ اس قبیلے کے خلاف بددعا کرنی بند کردی۔
کیونکہ جن کمزور مسلمانوں کے حق میں دعا کی جاتی تھی۔
انھیں نجات مل گئی۔
بعض نے اس جملے سے یہ سمجھا ہے۔
کہ بعد میں کبھی قنوت نازلہ نہیں پڑھی۔
یہ سمجھنا غلط ہے۔
اب بھی حسب ضرورت قنوت نازلہ پڑھی جا سکتی ہے۔
«. . . وعن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قنت شهرا بعد الركوع يدعو على أحياء من العرب ثم تركه. متفق عليه. ولأحمد والدارقطني نحوه من وجه آخر وزاد: "وأما في الصبح فلم يزل يقنت حتى فارق الدنيا". . . .»
”. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری و مسلم) احمد اور دارقطنی وغیرہ نے ایک اور طریق سے اسے روایت کیا ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ صبح کی نماز میں دعائے قنوت تا دم زیست ہمیشہ پڑھتے رہے۔ . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 241]
«قَنَتَ» قنوت سے ماخوذ ہے۔ اس کے متعدد معانی ہیں۔ یہاں مراد ہے قیام کی حالت میں دوران نماز میں دعا کرنا۔ یہ دعا بعد از رکوع ہے۔
«عَليٰ أَحْيَاءٍ» «عَليٰ» ، اس جگہ نقصان و ضرر کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی جب کسی کے لیے بدعا کی جائے تو اس موقع پر «دَعَا عَلَيْهِ» بولا جاتا ہے، یعنی فلاں نے فلاں کے لیے بدعا کی۔ اور «أَحْيَاءٍ» جمع ہے «حَيّ» کی جس کے معنی قبیلہ کے ہیں۔ اور یہ قبائل (عہد شکن) رعل، ذکوان، عصیہ اور بنولحان تھے۔ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی، اس لیے کہ آپ نے ان کی درخواست پر پروردگار کے احکام پہنچانے اور تبلیغ اسلام کے لیے ان قبائل نجد کی طرف اپنے ستر قاری اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا۔ جب یہ قافلہ مبلغین، بئر معونہ پر پہنچا۔۔۔ اور یہ کنواں یا چشمہ بنی عامر کے علاقہ اور حرہ بنی سلیم کے درمیان واقع تھا بلکہ یہ حرہ بنی سلیم کے زیادہ قریب تھا۔۔۔ تو بنوسلیم کے قبائل کے جھرمٹ میں سے عامر بن طفیل ان کی طرف نکلا۔۔۔ اور یہ قبائل رعل، ذکوان اور عصیہ تھے۔ (جہاں یہ قراء حضرات ٹھہرے ہوئے تھے) وہیں ان قبائل کے لوگوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ ان قاریوں نے بھی اپنی تلواریں نکال لیں اور مد مقابل دشمنوں سے خوب لڑے حتی کہ سب کے سب جام شہادت نوش کر گئے۔ صرف سیدنا کعب بن زید رضی اللہ عنہ زندہ بچے۔ کفار نے انہیں اس حالت میں چھوڑا تھا کہ زندگی کی رمق ابھی ان کے اندر باقی تھی مگر انہوں نے اپنے گمان کے مطابق انہیں مار دیا تھا۔ اللہ نے انہیں زندگی عطا کی اور بالآخر غزوہ خندق میں جام شہادت نوش فرمایا۔ یہ المناک اور دردناک واقعہ غزوہ احد کے چار ماہ بعد 4 ہجری ماہ صفر میں پیش آیا۔ بنولحیان کے حق میں بددعا کی وجہ یہ تھی کہ عضل و قارہ کے قبائل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے (عالم) آدمیوں کا مطالبہ کیا تھا جو انہیں اسلام کی دعوت دے سکیں اور انہیں احکام شریعت کی تعلیم دے سکیں، چنانچہ آپ نے دس عظیم حضرات ان کی جانب بھیجے۔ جب یہ حضرات رجیع تک پہنچے۔۔۔۔۔۔ یہ جگہ رابغ اور جدہ کے درمیان واقع ہے۔۔۔۔ تو ان قبائل کے لوگوں نے ان دس آدمیوں کے ساتھ دھوکا کیا اور بنولحیان کو بھی اشارہ کیا (شہہ دی۔) یہ ہذیل کے قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا۔ یہ سب لوگ ان کی طرف نکل کھڑے ہوئے اور ان کو گھیرے میں لے لیا، چنانچہ ان لوگوں نے دو صحابہ کرام سیدنا خبیب بن عدی اور سیدنا زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما کو گرفتار کر لیا اور ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو انہوں نے تہ تیغ کر دیا۔ اور یہ واقعہ بھی ماہ صفر میں پیش آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں المناک واقعات کی اطلاع ایک ہی شب میں ملی۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہایت ہی افسردہ اور غمگین ہوئے کہ پورا ایک مہینہ ان کے لیے بددعا کرتے رہے۔ اور پھر بددعا کرنا ترک کر دیا۔ اس قسم کی دعائے قنوت کو قنوت نازلہ کہا جاتا ہے۔ فرضی نماز میں اس کے علاوہ کوئی قنوت نہیں ہے۔ یہ دعائے قنوت بڑے بڑے المناک اور دردناک واقعات کے ساتھ مخصوص ہے ورنہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعائے قنوت نہیں پڑھتے تھے، الا یہ کہ مسلمانوں کے لیے دعا فرمائیں یا کفار میں سے بدعہد، عہد شکن قسم کے لوگوں کے لیے بد دعا کریں۔ رہا نماز فجر میں مسند أحمد اور دارقطنی کے حوالے سے قنوت کے پڑھنے کا التزام و مواظبت کا اضافہ تو یہ قابل استدلال نہیں کیونکہ یہ اضافہ سنداً ضعیف ہے، نیز قنوت نازلہ کسی نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اسے تمام نمازوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے کئی مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔ نماز فجر میں آپ سے دعائے قنوت نازلہ ثابت ہے۔ عہد شکنی اور بدعہدی کی بنا پر مقتول صحابہ کی وجہ سے مہینہ بھر آپ بددعا کرتے رہے۔ ظاہر ہے یہ فرض نماز ہی تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع کے بعد دعا فرماتے رہے۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام دین تبلیغ ہے۔ مبلغین کی جماعت تیار رہنی چاہئے۔ جہاں تبلیغ کی ضرورت ہو وہاں جماعتی شکل میں تبلیغ کے لیے جانا چاہیے۔
➌ نظم جماعت کی طرف بھی اس سے اشارہ ملتا ہے اور اطاعت امیر بھی اس سے ظاہر ہے۔
➍ ایک بات یہ بھی واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی علم غیب نہیں رکھتے تھے۔ اگر آپ کو علم غیب ہوتا تو اپنے تیار مبلغین کو قتل کے لیے کیوں بھیجتے۔ نعوذ باللہ! جان بوجھ کر تو آپ نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع موصول نہیں ہوئی اس وقت تک آپ کو اپنے بھیجے ہوئے مبلغین کی صورت حال کی کچھ خبر نہیں تھی۔
➎ احناف اسی حدیث کی روشنی میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کے قائل ہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نماز فجر میں ہمیشہ دعائے قنوت پڑھنے کے قائل ہیں اور اسے مسنون قرار دیتے ہیں۔
➏ قنوت نازلہ کا طریقہ یہ ہے کہ امام رکوع کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعائے قنوت نازلہ پڑھے اور مقتدی آمین کہیں۔
انده اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان اور بشر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین بھی ہوتے تھے اور خوشی کے موقع پر راضی بھی ہوتے تھے، بئر معونہ والا واقعہ صفر 24 ھ میں پیش آیا، کافروں کا سردار عامر بن مالک خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آیا اور کہا کہ میرا ملک اسلام کے لیے آمادہ ہے، کچھ واعظ ساتھ بھیج دیجیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 70 (ستر) عالم ساتھ کر دیے، جب وہ ان کے علاقے میں پہنچے تو قبائل رعل و ذکوان و بنوسلمہ وغیرہ نے حملہ کیا، صرف سیدنا عمر و بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بچ کر آuy، باقی انہتر (69) قاریوں کو شہید کر دیا گیا۔