حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ مُخَاطًا أَوْ بُصَاقًا أَوْ نُخَامَةً فَحَكَّهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھرچ ڈالا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 407
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 549 | سنن ابن ماجه: 764

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
407. ام المومنین حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیوار قبلہ پر ناک کی رطوبت یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے کھرچ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:407]
حدیث حاشیہ:
حضرت انس ؓ کی روایت میں بلغم، حضرت ابن عمر ؓ سے مروی حدیث میں تھوک اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں شک کے طور پر ناک کی رطوبت، تھوک اور بلغم کاذکر ہے۔
امام بخاری ؒ ان تینوں روایات کولاکر یہ بتاناچاہتے ہیں کہ منہ کا تھوک ہویاناک کی رطوبت یا سینے کا بلغم، تینوں ہی قابل نفرت چیزیں ہیں اور مسجد کے معاملے میں ان کا حکم برابر ہے۔
یہ چیزیں مسجد کے فرش پر نظر آئیں یا دیوار قبلہ پر، ترہوں یا خشک، احترام مسجد کے پیش نظر ضروری ہے کہ انھیں فوراً دور کردیا جائے، یہ ہر دیکھنے والے کے ذمے داری ہے، مسجد کے خادم یا مؤذن کا انتظار نہ کیا جائے۔
اس سے نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، لہذا انھیں کسی صورت میں بھی برقرار نہ رکھا جائے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 407 سے ماخوذ ہے۔