مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 4050
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ , وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ : فِرْقَةً تَقُولُ : نُقَاتِلُهُمْ , وَفِرْقَةً تَقُولُ : لَا نُقَاتِلُهُمْ , فَنَزَلَتْ : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا سورة النساء آية 88 وَقَالَ : إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ.
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے ، میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا ، وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` انہوں نے بیان کیا ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے ( منافقین ، بہانہ بنا کر ) واپس لوٹ گئے ۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں ۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے ۔ اس پر آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا‏» ” پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے ۔ “ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ” طیبہ “ ہے ، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 4050
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2776

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
4050. حضرت زید بن ثابت انصاری ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ غزوہ اُحد کے لیے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے واپس لوٹ آئے۔ (ان واپس آنے والوں کے متعلق) نبی ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے دو گروہ بن گئے: ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے جنگ کریں گے اور دوسرا گروہ کہتا کہ ہم ان سے نہیں لڑیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو، حالانکہ اللہ تعالٰی نے ان کی بدعملی کی وجہ سے انہیں سابقہ حالت (کفر) کی طرف لوٹا دیا ہے۔‘‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مدینہ، طیبہ ہے جو گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4050]
حدیث حاشیہ: آیت مذکورہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
بعضوں نے کہا یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت ﷺ نے منبر پر فرمایا تھا کہ یہ بدلہ اس شخص سے کون لیتا ہے جس نے میری بیوی (حضرت عائشہ ؓ)
کو بد نام کر کے مجھے ایذا دی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4050 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
4050. حضرت زید بن ثابت انصاری ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ غزوہ اُحد کے لیے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے واپس لوٹ آئے۔ (ان واپس آنے والوں کے متعلق) نبی ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے دو گروہ بن گئے: ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے جنگ کریں گے اور دوسرا گروہ کہتا کہ ہم ان سے نہیں لڑیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو، حالانکہ اللہ تعالٰی نے ان کی بدعملی کی وجہ سے انہیں سابقہ حالت (کفر) کی طرف لوٹا دیا ہے۔‘‘ نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مدینہ، طیبہ ہے جو گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4050]
حدیث حاشیہ:

غزوہ احد کے موقع پر منافقین کی دو قسمیں سامنے آئیں۔
ایک قسم وہ تھی جس کا نفاق کھل کر اس وقت سامنے آیا جب عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی راستے سے مدینہ طیبہ واپس آگیا۔
اور دوسری قسم وہ تھی جو لڑائی شروع ہونے کے بعد شکست کے وقت بھاگ کر مدینہ طیبہ آگئے ان میں مسلمان بھی تھے انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
‘‘ (آل عمران: 155)

مذکورہ حدیث میں منافقین کی وہ قسم مراد ہے جو راستے ہی میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر مدینہ طیبہ بھٹی کی طرح ہے۔
وہ مدینہ چھوڑ جائیں گے یا مدینہ ان کے خبث کو دور کردے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ مختلف روحانی و جسمانی بیماروں میں مبتلا ہو کر خاک میں مل گئے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4050 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔