صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَتْلُ كَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ: باب: کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا قصہ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ , فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا ، قَالَ : " قُلْ " , فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا صَدَقَةً , وَإِنَّهُ قَدْ عَنَّانَا وَإِنِّي قَدْ أَتَيْتُكَ أَسْتَسْلِفُكَ ، قَالَ : وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلُّنَّهُ ، قَالَ : إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ شَأْنُهُ , وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ , وحَدَّثَنَا عَمْرٌو غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ يَذْكُرْ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ ، فَقَالَ : " أُرَى فِيهِ وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ " ، فَقَالَ : نَعَمِ ارْهَنُونِي ، قَالُوا : أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ ؟ قَالَ : ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْهَنُكَ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ ؟ فَيُقَالُ : رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ , هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي السِّلَاحَ فَوَاعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَجَاءَهُ لَيْلًا وَمَعَهُ أَبُو نَائِلَةَ وَهُوَ أَخُو كَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْحِصْنِ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ : امْرَأَتُهُ أَيْنَ تَخْرُجُ هَذِهِ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَخِي أَبُو نَائِلَةَ ، وَقَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو ، قَالَتْ : أَسْمَعُ صَوْتًا كَأَنَّهُ يَقْطُرُ مِنْهُ الدَّمُ ، قَالَ : إِنَّمَا هُوَ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَضِيعِي أَبُو نَائِلَةَ إِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ بِلَيْلٍ لَأَجَابَ ، قَالَ : وَيُدْخِلُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ مَعَهُ رَجُلَيْنِ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : سَمَّاهُمْ عَمْرٌو ، قَالَ : سَمَّى بَعْضَهُمْ ، قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ ، وَقَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو أَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ , وَالْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ , وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ عَمْرٌو : جَاءَ مَعَهُ بِرَجُلَيْنِ ، فَقَالَ : إِذَا مَا جَاءَ فَإِنِّي قَائِلٌ بِشَعَرِهِ فَأَشَمُّهُ فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي اسْتَمْكَنْتُ مِنْ رَأْسِهِ فَدُونَكُمْ فَاضْرِبُوهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : ثُمَّ أُشِمُّكُمْ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ مُتَوَشِّحًا وَهُوَ يَنْفَحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رِيحًا أَيْ أَطْيَبَ ، وَقَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو ، قَالَ : عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَاءِ الْعَرَبِ وَأَكْمَلُ الْعَرَبِ ، قَالَ عَمْرٌو ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشُمَّ رَأْسَكَ ، قَالَ : نَعَمْ فَشَمَّهُ ، ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِي ، قَالَ : نَعَمْ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ ، قَالَ : دُونَكُمْ فَقَتَلُوهُ ، ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کعب بن اشرف کا کام کون تمام کرے گا ؟ وہ اللہ اور اس کے رسول کو بہت ستا رہا ہے ۔ “ اس پر محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ اجازت دیں گے کہ میں اسے قتل کر آؤں ؟ آپ نے فرمایا ” ہاں مجھ کو یہ پسند ہے ۔ “ انہوں نے عرض کیا ، پھر آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں کہ میں اس سے کچھ باتیں کہوں آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ اب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس آئے اور اس سے کہا ، یہ شخص ( اشارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ) ہم سے صدقہ مانگتا رہتا ہے اور اس نے ہمیں تھکا مارا ہے ۔ اس لیے میں تم سے قرض لینے آیا ہوں ۔ اس پر کعب نے کہا ، ابھی آگے دیکھنا ، خدا کی قسم ! بالکل اکتا جاؤ گے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، چونکہ ہم نے بھی اب ان کی اتباع کر لی ہے ۔ اس لیے جب تک یہ نہ کھل جائے کہ ان کا انجام کیا ہوتا ہے ، انہیں چھوڑنا بھی مناسب نہیں ۔ تم سے ایک وسق یا ( راوی نے بیان کیا کہ ) دو وسق غلہ قرض لینے آیا ہوں ۔ اور ہم سے عمرو بن دینار نے یہ حدیث کئی دفعہ بیان کی لیکن ایک وسق یا دو وسق غلے کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ میں نے ان سے کہا کہ حدیث میں ایک یا دو وسق کا ذکر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرا بھی خیال ہے کہ حدیث میں ایک یا دو وسق کا ذکر آیا ہے ۔ کعب بن اشرف نے کہا ، ہاں ، میرے پاس کچھ گروی رکھ دو ۔ انہوں نے پوچھا ، گروی میں تم کیا چاہتے ہو ؟ اس نے کہا ، اپنی عورتوں کو رکھ دو ۔ انہوں نے کہا کہ تم عرب کے بہت خوبصورت مرد ہو ۔ ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ اس نے کہا ، پھر اپنے بچوں کو گروی رکھ دو ۔ انہوں نے کہا ، ہم بچوں کو کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں ۔ کل انہیں اسی پر گالیاں دی جائیں گی کہ ایک یا دو وسق غلے پر اسے رہن رکھ دیا گیا تھا ، یہ تو بڑی بے غیرتی ہو گی ۔ البتہ ہم تمہارے پاس اپنے «اللأمة» گروی رکھ سکتے ہیں ۔ سفیان نے کہا کہ مراد اس سے ہتھیار تھے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور رات کے وقت اس کے یہاں آئے ۔ ان کے ساتھ ابونائلہ بھی موجود تھے وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی تھے ۔ پھر اس کے قلعہ کے پاس جا کر انہوں نے آواز دی ۔ وہ باہر آنے لگا تو اس کی بیوی نے کہا کہ اس وقت ( اتنی رات گئے ) کہاں باہر جا رہے ہو ؟ اس نے کہا ، وہ تو محمد بن مسلمہ اور میرا بھائی ابونائلہ ہے ۔ عمرو کے سوا ( دوسرے راوی ) نے بیان کیا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا تھا کہ مجھے تو یہ آواز ایسی لگتی ہے جیسے اس سے خون ٹپک رہا ہو ۔ کعب نے جواب دیا کہ میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں ۔ شریف کو اگر رات میں بھی نیزہ بازی کے لیے بلایا جائے تو وہ نکل پڑتا ہے ۔ راوی نے بیان کیا کہ جب محمد بن مسلمہ اندر گئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے ۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا عمرو بن دینار نے ان کے نام بھی لیے تھے ؟ انہوں نے بتایا کہ بعض کا نام لیا تھا ۔ عمرو نے بیان کیا کہ وہ آئے تو ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے اور عمرو بن دینار کے سوا ( راوی نے ) ابوعبس بن جبر ، حارث بن اوس اور عباد بن بشر نام بتائے تھے ۔ عمرو نے بیان کیا کہ وہ اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لائے تھے اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ جب کعب آئے تو میں اس کے ( سر کے ) بال ہاتھ میں لے لوں گا اور اسے سونگھنے لگوں گا ۔ جب تمہیں اندازہ ہو جائے کہ میں نے اس کا سر پوری طرح اپنے قبضہ میں لے لیا ہے تو پھر تم تیار ہو جانا اور اسے قتل کر ڈالنا ۔ عمرو نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ پھر میں اس کا سر سونگھوں گا ۔ آخر کعب چادر لپیٹے ہوئے باہر آیا ۔ اس کے جسم سے خوشبو پھوٹی پڑتی تھی ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، آج سے زیادہ عمدہ خوشبو میں نے کبھی نہیں سونگھی تھی ۔ عمرو کے سوا ( دوسرے راوی ) نے بیان کیا کہ کعب اس پر بولا ، میرے پاس عرب کی وہ عورت ہے جو ہر وقت عطر میں بسی رہتی ہے اور حسن و جمال میں بھی اس کی کوئی نظیر نہیں ۔ عمرو نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ، کیا تمہارے سر کو سونگھنے کی مجھے اجازت ہے ؟ اس نے کہا ، سونگھ سکتے ہو ۔ راوی نے بیان کیا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سر سونگھا اور ان کے بعد ان کے ساتھیوں نے بھی سونگھا ۔ پھر انہوں نے کہا ، کیا دوبارہ سونگھنے کی اجازت ہے ؟ اس نے اس مرتبہ بھی اجازت دے دی ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے پوری طرح اپنے قابو میں کر لیا تو اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ تیار ہو جاؤ ۔ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کی اطلاع دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انہوں نے آنحضرت ﷺ سے وعدہ تو کرلیا مگر کئی دن تک متفکر رہے۔
پھر ابو نائلہ کے پاس آئے جو کعب کارضاعی بھائی تھا اور عباد بن بشر اور حارث بن اوس۔
ابو عبس بن جبر کو بھی مشورہ میں شریک کیا اور یہ سب مل کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم جو مناسب سمجھیں کعب سے ویسی باتیں کریں۔
آپ نے ان کو بطور مصلحت اجازت مرحمت فرمائی اور رات کے وقت جب یہ لوگ مدینہ سے چلے تو آنحضرت ﷺ بقیع تک ان کے ساتھ آئے۔
چاندنی رات تھی۔
آپ نے فرمایا جاؤ اللہ تمہاری مدد کرے۔
کعب بن اشرف مدینہ کا بہت بڑا متعصب یہودی تھا اور بڑا مال دار آدمی تھا۔
اسلام سے اسے سخت نفرت اور عداوت تھی۔
قریش کو مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے ابھارتا تھا اور ہمیشہ اس ٹوہ میں لگا رہتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح دھوکے سے آنحضرت ﷺ کو قتل کرا دے۔
فتح الباری میں ایک دعوت کا ذکر ہے جس میں اس ظالم نے اس غرض فاسد کے تحت آنحضرت ﷺ کو مدعو کیا تھا مگر حضرت جبرئیل ؑ، نے اس کی نیت بد سے آنحضرت ﷺ کو آگاہ کردیا اور آپ بال بال بچ گئے۔
اس کی ان جملہ حرکات بد کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے اس کو ختم کرنے کے لیے صحابہ کے سامنے اپنا خیال ظاہر فرمایا جس پر محمد بن مسلمہ انصاری ؓ نے آمادگی کا اظہار کیا۔
کعب بن اشرف محمد بن مسلمہ کا ماموں بھی ہوتا تھا۔
مگر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا رشتہ دنیاوی سب رشتوں سے بلند وبالا تھا۔
بہر حل اللہ تعالی نے اس ظالم کو بایں طور ختم کرایا جس سے فتنوں کا دروازہ بند ہوکر امن قائم ہوگیا اور بہت سے لوگ جنگ کی صورت پیش آنے اور قتل ہونے سے بچ گئے۔
حافظ صاحب فرماتے ہیں: وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ بن مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ كَعْبَ بْنَ الْأَشْرَفِ كَانَ شَاعِرًا وَكَانَ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَرِّضُ عَلَيْهِ كُفَّارَ قُرَيْشٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَهْلُهَا أَخْلَاطٌ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِصْلَاحَهُمْ وَكَانَ الْيَهُودُ وَالْمُشْرِكُونَ يُؤْذُونَ الْمُسْلِمِينَ أَشَدَّ الْأَذَى فَأَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ وَالْمُسْلِمِينَ بِالصَّبْرِ فَلَمَّا أَبَى كَعْبٌ أَنْ يَنْزِعَ عَنْ أَذَاهُ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ رهطا ليقتلوه وَذكر بن سَعْدٍ أَنَّ قَتْلَهُ كَانَ فِي رَبِيعٍ الْأَوَّلِ مِنَ السَّنَةِ الثَّالِثَةِ(فتح الباري)
خلاصہ یہ کہ کعب بن اشرف شاعر تھا جو شعروں میں رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرتا اور کفار قریش کو آپ کے اوپر حملہ کرنے کی ترغیب دلاتا۔
آنحضرت ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے وہاں کے باشندے آپس میں خلط ملط تھے۔
آنحضرتﷺنے ان کی اصلاح وسدھار کا بیڑا اٹھایا۔
یہودی اور مشرکین آنحضرت ﷺ کو سخت ترین ایذائیں پہنچانے کے درپے رہتے۔
پس اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مسلمانوں کو صبر کا حکم فرمایا۔
جب کعب بن اشرف کی شرارتیں حدسے زیاد ہ بڑھنے لگیں اور ایذا رسانی سے باز نہ آیا تب آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ کو حکم فرمایا کہ ایک جماعت کو بھیجیں جو اس کا خاتمہ کرے۔
ابن سعد نے کہا کہ کعب بن اشرف کا قتل3ھ میں ہوا۔
1۔
کعب کا باپ اشرف بنونہیان قبیلے سے تھا۔
دورجاہلیت میں اس نے کسی آدمی کو قتل کردیا، پھر وہاں سے بھاگ کر مدینہ طیبہ میں آگیا اور بنو نضیر سے عہدوپیمان کرلیا، پھر اس نے ابوالحقیق کی لڑکی عقیلہ سے شادی کی تو اس سے کعب پیدا ہوا۔
اس کے قتل کرنے کے متعلق دو سبب بیان کیے جاتے ہیں: الف۔
غزوہ بدر کے بعد اس نے قریش کو جگ پر ابھارا اورہرقسم کے مال واسباب کے ساتھ تعاون کایقین دلایا بلکہ ساٹھ آدمیوں کا وفد لے کے مکے گیا اور انھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ پرآمادہ کیا۔
اس کے علاوہ یہ شاعر بھی تھا اپنے اشعار میں اسلام اور اہل اسلام کی توہین کرتا اور مسلم خواتین کے متعلق نازیبا اشعار کہتا تھا۔
ب۔
اس نے رسول ا للہ ﷺ کی دعوت کی اور پروگرام اس طرح طے پایا کہ جب آپ مکان میں تشریف فرماہوں تو اچانک آپ پرحملہ کرکے آپ کو شہید کردیا جائے لیکن حضرت جبرئیل ؑ نے آپ کو اس سے مطلع کردیا اور آپ کو اپنے پروں میں چھپا کر لے آئے تو واپس آکر آپ نے فرمایا: ’’اب اس کی ایذارسانی انتہا کو پہنچ چکی ہے،اسے قتل کرنا چاہیے۔
‘‘ چنانچہ اسے کیفر کردارتک پہنچادیا گیا۔
(فتح الباري: 421/7،422)
2۔
کعب بن اشرف یہودی کے قتل میں پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حصہ لیا: محمد بن مسلمہ، ابوعبس بن جبیر، حارث بن اوس، ابونائلہ اور عباد بن بشر رضوان اللہ عنھم اجمعین۔
خود رسول اللہ ﷺ بقیع تک ان کے ساتھ آئے۔
پھر اللہ کا نام لے کر انھیں روانہ کیا اور دعا فرمائی: ’’اے اللہ!ان کی مدد فرما۔
‘‘ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جب اسے قتل کرکے واپس آئے تو بقیع کے پاس پہنچ کر انھوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر اس کا سرآپ کے آگے پھینک دیا۔
آپ نے اس کے قتل ہوجانے پر اللہ کا شکر اداکیا۔
(فتح الباري: 424/7)
یہاں تک کہ قریش مکہ کو بھی مسلمانوں کے خلاف ابھارتا اور ہمیشہ مسلمانوں کی گھات میں لگا رہتا لیکن اللہ پاک کو اسلام اور مسلمانوں کی بقا منظور تھی اس لئے بایں صورت اس فسادی کو ختم کرکے اسے جہنم رسید کیا گیا‘ سچ ہے ؎ نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ابو رافع کی طرح یہ مردود بھی مسلمانوں کی دشمنی پر تلا ہوا تھا۔
رسول کریمﷺ کی ہجو کرتا اور شرک کو دین اسلام سے بہتر بتاتا‘ مشرکوں کو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے اکساتا‘ ان کی روپے سے مدد کرتا۔
حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اس کے خاتمہ کے لئے اجازت مانگی کہ میں جو مناسب ہوگا آپ کی نسبت شکایت کے کلمے کہوں گا‘ آپﷺ نے اجازت دے دی۔
محمد بن مسلمہؓ کی اس سے یہ غرض تھی کہ کعب کو میرا اعتبار پیدا ہو‘ ورنہ وہ پہلے ہی چونک جاتا اور اپنی حفاظت کا بندوبست کرلیتا۔
بعضوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ حدیث ترجمہ باب کے مطابق نہیں ہے کیونکہ محمد بن مسلمہؓ کا کوئی جھوٹ اس میں مذکور نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مجتہد مطلق حضرت امام بخاریؒ نے اپنی عادت کے موافق اس کے دوسرے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں صاف یہ مذکور ہے کہ انہوں نے چلتے وقت آنحضرتﷺ سے اجازت لے لی تھی کہ میں آپ کی شکایت کروں گا‘ جو چاہوں وہ کہوں گا‘ آپﷺ نے اجازت دی اس میں جھوٹ بولنا بھی آگیا۔
آخر محمد بن مسلمہؓ نے کعب کو باتوں باتوں میں کہا یار تیرے سر سے کیا عمدہ خوشبو آتی ہے۔
وہ مردود کہنے لگا میرے پاس ایک عورت ہے جو سارے عرب میں افضل ہے۔
محمد بن مسلمہؓ نے کہا یار ذرا اپنے بال مجھ کو سونگھنے دو اس نے کہا سونگھو‘ محمد بن مسلمہؓ نے اس بہانے اس کے بال درمیان سر سے پکڑ کر مضبوط تھام لئے اور ساتھیوں کو اشارہ کردیا‘ انہوں نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا سر قلم کردیا‘ اسی سے باب کا مضمون ثابت ہوا۔
1۔
کعب بن اشرف مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا جو روازنہ مسلمانوں کے خلاف ایک نئی سازش تیار کرتا۔
رسول اللہ ﷺ کی ہجوکرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔
مشرکین مکہ کو مسلمانوں پرحملہ کرنے کے لیے اکساتا اور ان کی مالی مدد بھی کرتاتھا۔
آخر محمد بن مسلمہ ؓنے اس کاخاتمہ کرکے اسے جہنم رسید کیا۔
2۔
اگرچہ اس روایت میں جھوٹ بولنے کا ذکر نہیں ہے،تاہم امام بخاری ؒنے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ محمد بن مسلمہ ؓنے روانہ ہوتے وقت رسول اللہ ﷺسے اجازت طلب کی تھی کہ آپ کی شکایت کرتے ہوئےے جو چاہوں کہوں گا تو آپ نے اسے اجازت دی۔
اس میں جھوٹ بولنا بھی آجاتا ہے۔
بہرحال دوران جنگ میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے جیسا کہ ترمذی کی روایت میں پہلے بیان ہوچکا ہے۔
مزید تفصیل مذکور ہوچکی ہے۔
1۔
کعب بن اشرف یہودیوں کا طاغوت تھا۔
اشعار میں رسول اللہ ﷺ کی ہجوکرتا اور آپ کے لیے اذیت کا باعث تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے قتل کردینے کی خواہش کا اظہار کیا توحضرت محمد بن مسلمہ ؓنے اس کارخیر کی ذمہ داری قبول کی اور اسے قتل کردیا۔
یہ کہنادرست نہیں کہ محمد بن مسلمہ ؓ نے کعب بن اشرف کو امن دے کر قتل کیا تھا بلکہ انھوں نے خرید و فروخت کی بات کی اور ا س سے انس پیداکیا،پھر موقع پاکراسے قتل کردیا۔
2۔
اسی چالاکی ہوشیاری کانام جنگ ہے جس کے بغیر چارہ نہیں۔
آج کے مشینی دور میں بھی دشمن کی گھات میں بیٹھنا اقوام کا معمول ہے۔
اسلام میں یہ اجازت صرف حربی کافروں کے مقابلے کے لیے ہے،بصورت دیگر کسی کو دھوکے میں رکھ کر کوئی اقدام کرنا شرعاً جائز نہیں۔
اسلام آنے سے اس کو اپنے سرمایہ دارانہ وقار کے لیے ایک بڑا دھچکا محسوس ہوا اور یہ شب و روز اسلام کی بیخ کنی کے لیے تدابیر سوچتا رہتا تھا۔
بدر میں جو کافر مارے گئے تھے ان کا نوحہ کرکے کفار مکہ کو نبی کریم ﷺ سے لڑنے کے لیے ابھارتا رہتا اور آپ کی شان میں ہجو اور تنقیص کے اشعار گھڑتا۔
اس ناپاک مشن پر وہ ایک دفعہ جنگ بدر کے بعد مکہ بھی گیا تھا۔
آخر آنحضرت ﷺ نے اس کی ناشائستہ حرکات سے تنگ آکر اس کا مسئلہ مجمع صحابہ میں رکھا جس پر حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔
انہوں نے آپ سے اجازت لی کہ میں اس کے پاس جاکر آپ کے بارے میں جو کچھ مناسب ہوگا، اس کے سامنے کہوں گا۔
اس کی اجازت دیجئے۔
آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی تو حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کعب کے رضائی بھائی ابونائلہ کو ساتھ لے کر رات کو اس کے پاس گئے۔
اس نے قلعہ کے اندر بلالیا اور جب ان کے پاس جانے لگا تو اس کی عورت نے منع کیا، وہ بولا کوئی غیر نہیں ہے۔
محمد بن مسلمہ ہے اور میرا بھائی ابونائلہ محمد بن مسلمہ کے ساتھ ہے اور بھی دو یا تین شخص تھے۔
ابوعبس بن جبر، حارث بن اوس، عباد بن بشر۔
محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ میں کعب کے بال سونگھنے کے بہانے اس کا سرتھاموں گا۔
تم اس وقت جب دیکھو کہ میں سر کو مضبوط تھامے ہوا ہوں، اس کا سر تلوار سے قلم کردینا۔
پھر محمد بن مسلمہ ؓ جب کعب کے پاس آئے تو، یہی کہا کہ اے کعب! میں نے تمہارے سر جیسی خوشبو تمام عمر میں نہیں سونگھی۔
وہ کہنے لگا کہ میرے پاس ایک عورت ہے جو عرب کی ساری عورتوں سے زیادہ معطر ہے اور خوشبودار رہتی ہے۔
محمد بن مسلمہ ؓ نے اس کا سر سونگھنے کی اجازت مانگی اور کعب کے سر کو مضبوط تھام کر اپنے ساتھیوں کو اشارہ کردیا۔
انہوں نے تلوار سے سر اڑا دیا اور لوٹ کر دربار رسالت میں یہ بشارت پیش کی۔
آپ بہت خوش ہوئے اور ان مجاہدین اسلام کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔
حضرت محمد بن مسلمہ ؓ کی کنیت ابوعبداللہ انصاری ہے اور یہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے ہیں۔
کعب بن اشرف کے قتل کی ایک وجہ یہ بھی بتلائی گئی ہے کہ اس نے اپنا عہد توڑ دیا تھا۔
اس طور پر وہ ملک کا غدار بن گیا اور بار بار غداری کی حرکات کرتا رہا۔
لہٰذا اس کی آخری سزا یہی تھی جو اسے دی گئی۔
حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے کعب کے ہاں ہتھیار رہن رکھنے کا ذکر فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
(1)
کعب بن اشرف ایک یہودی سردار تھا۔
جنگ بدر میں جب قریش کے بڑے بڑے طاغوت مارے گئے تو اس نے اہل مکہ کو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔
اپنے اشعار میں مسلمان عورتوں کا مذاق اُڑاتا اور رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
(2)
شارح بخاری ابن منیر کہتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے ’’زرہ گروی رکھنے‘‘ کے بعد مذکورہ عنوان اس لیے قائم کیا ہے کہ زرہ ایک دفاعی ہتھیار ہے، جارحانہ نہیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ جارحانہ ہتھیار بھی گروی رکھا جا سکتا ہے۔
اس استدلال پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ روایت میں ہتھیار گروی رکھنے کی بات بطور چال تھی، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن چال ہونے کے باوجود کعب بن اشرف کو یہ باور کرایا گیا کہ تیرے ساتھ جو معاملہ کر رہے ہیں یہ ہمارے ہاں جائز اور مباح ہے، اس پر معاملہ ہوا۔
امام بخاری ؒ نے اس سے استدلال کر لیا۔
(فتح الباري: 177/5) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے حق میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے اگرچہ وہ ذمی ہی کیوں نہ ہو، لیکن امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ایسے شخص کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقام پر علامہ عینی ؒ نے بڑی جراءت اور ہمت سے کہا: میں بھی اس بات کا قائل ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والا مطلق طور پر واجب القتل ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔
(عمدة القاري: 30/5)
علمائے حق کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ حق کی پیروی کرتے ہیں، خواہ وہ حق ان کے اپنے کسی محبوب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آپ کی اتباع کا یہی تقاضا ہے۔
کعب بن اشرف، قبیلہ طے کی شاخ بنو نبہان سے تعلق رکھتا تھا، اس لیے عربی النسل تھا، اس کے باپ اشرف نے کسی کو قتل کر ڈالا، اس لیے بھاگ کر مدینہ آ گیا اور بنو نضیر سے دوستانہ قائم کر لیا اور ابو الحقیق یہودی کی بیٹی عقیلہ سے شادی کر لی، جس سے کعب پیدا ہوا، واقعہ بدر کے بعد اس نے مسلمانوں کی ہجو شروع کر دی اور دشمنان اسلام کی مدح سرائی کرنے لگا، پھر مشرکین کی غیرت بھڑکانے، ان کی آتش انتقال تیز کرنے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ کرنے کے لیے اشعار کہہ کہہ کر ان سرداران قریش کا نوحہ و ماتم کرنے لگا، جنہیں جنگ بدر میں قتل کرنے کے بعد کنویں میں پھینک دیا گیا تھا، پھر صحابہ کرام کی عورتوں کے بارے میں واہیات شعر کہنے لگا اور اپنی زبان درازی اور بدگوئی کے ذریعہ مسلمانوں کو سخت اذیت پہنچائی، ان حالات سے تنگ آ کر آپ نے اس کا کام تمام کرنے کا فیصلہ کیا۔
(2)
رضیعہ اور ابو نائلہ کے درمیان واو وہم ہے کیونکہ رضیع سے مراد ابو نائلہ ہی ہے۔
ابو نائلہ، محمد بن مسلمہ اور کعب بن اشرف تینوں رضاعی بھائی تھے، اس کے باوجود کینہ خصلت اور مسلمانوں کا دشمن محمد بن مسلمہ بیوی اور بیٹا گروی رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے، اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کس قدر موذی انسان تھا، جو صرف آپ کا ہی نہیں بلکہ سب مسلمانوں اور دین کا دشمن تھا، اس لیے ایسے موذی انسان کا قتل کروانا سب کو آرام اور سکون پہنچانا ہے۔
تفصیل کے لیے الرحیق المختوم دیکھئے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، کہہ سکتے ہو “، پھر انہوں نے کعب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2768]
1۔
کعب بن اشرف یہودی کا تعلق بنو نضیرسے تھا۔
وہ بڑا مال داراور شاعر تھا۔
اسے مسلمانوں سے سخت عداوت تھی۔
اور لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرتا رہتا تھا۔
اس نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ان کا دفاع کرنے کی بجائے مکہ جا کر قریش کو جنگ کے لئے آمادہ کیا۔
اور عہد شکنی بھی کی۔
2۔
دشمن پر وار کرنے کےلئے بناوٹی طور پر کچھ ایسی باتیں بنانا جو بظاہر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوں۔
وقتی طور پر جائز ہے۔
اور جنگ دھوکے (چال بازی) کا نام ہے۔
اس حدیث سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غیرت اور جرٱت کا ثبوت ملتا ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ یا اس کے نبی کے بارے میں بُرے الفاظ استعمال کرے تو اس کوقتل کر دینا چاہیے، جیسے کعب بن اشرف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کے گھر جا کر اس کو قتل کر دیا، اس طرح کی غیرت ایمانی کے کئی واقعات کتب سیر میں ملتی ہیں۔ بچوں کو رہن (گروی) رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو تکریم دی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾ (بنی اسرائیل: 70) کوئی اور چیز گروی رکھنا ٹھیک ہے مصلحت کی خاطر امیر کا مسلمانوں کو برا بھلا کہنا درست ہے۔