حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ : " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنْ الْأَنْصَارِ , فَلَقِينَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ شَهِدَا بَدْرًا , فَحَدَّثْتُ بِهِ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ : هُمَا عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ , وَمَعْنُ بْنُ عَدِيٍّ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا آپ ہمیں ساتھ لے کر ہمارے انصاری بھائیوں کے یہاں چلیں ۔ پھر ہماری ملاقات دو نیک ترین انصاری صحابیوں سے ہوئی جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی ۔ عبیداللہ نے کہا ، پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عروہ بن زبیر سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں صحابی عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی رضی اللہ عنہما تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس حدیث سے یہ ثابت کرنا ہے کہ حضرت عویم بن ساعد اور معن بن عدی ؓ بدری صحابہ سے ہیں۔
یہ دونوں بیعت عقبہ میں شریک تھے۔
اس کے بعد انھوں نے غزوہ بدر احد اور خندق میں شرکت کی۔
حضرت معن بن عد ؓ حضرت ابو بکر ؓ کے دور خلافت میں جنگ یمامہ کے وقت شہید ہوئے تھے۔
2۔
اس حدیث میں خلافت ابو بکر ؓ کا بیان ہے جو آئندہ تفصیل سے بیان ہو گا۔
(صحیح البخاري، الحدود، حدیث: 6830)
3۔
یہ حدیث "حدیث سقیفہ" کے نام سے مشہور ہے۔