حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ , ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا , فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ، فَقَالَ : أَسْلَمْتُ لِلَّهِ , أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " .´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جریج نے ، ان سے زہری نے ، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے ، ان سے عبیداللہ بن عدی نے اور ان سے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ، ان سے ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ ) نے ، اپنے چچا ( محمد بن مسلم بن شہاب ) سے بیان کیا ، انہیں عطاء بن یزید لیثی ثم الجندعی نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی اور انہیں مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ نے ، وہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے خبر دی کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے ، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے ” میں اللہ پر ایمان لے آیا ۔ “ تو کیا یا رسول اللہ ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسے قتل نہ کرنا ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ پہلے میرا ایک ہاتھ بھی کاٹ چکا ہے ؟ اور یہ اقرار میرے ہاتھ کاٹنے کے بعد کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی یہی فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا ، کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر ڈالا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہو گا اور تمہارا مقام وہ ہو گا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اس کلمہ کا اقرار نہیں کیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا , فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ , أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ . . .»
”. . . انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر کسی موقع پر میری کسی کافر سے ٹکر ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش میں لگ جائیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ ڈالے، پھر وہ مجھ سے بھاگ کر ایک درخت کی پناہ لے کر کہنے لگے ”میں اللہ پر ایمان لے آیا۔“ تو کیا یا رسول اللہ! اس کے اس اقرار کے بعد پھر بھی میں اسے قتل کر دوں؟ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي: 4019]
«لَاذَ» فعل ماضی کا صیغہ ہے، باب «لَاذَ يَلُوْذُ» (بروزن نصر) سے، معنی ہے پناہ پکڑنا۔
فہم الحدیث:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کلمہ پڑھنے والے کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے خواہ حالات یہ بتا رہے ہوں کہ اس نے محض اپنی جان بچانے کے لیے ہی کلمہ پڑھا ہے، دل کی تصدیق سے نہیں۔ کیونکہ حکم ظاہر پر لگایا جاتا ہے، کسی بھی بندے کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا گیا کہ وہ پوشیدہ باتوں کی بھی معرفت حاصل کرے۔
پہلے اس کا مار ڈالنا درست تھا ایسے ہی اب اس کے قصاص میں تیرا مار ڈالنا درست ہوجائے گا۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو انسان کلمہ شہادت ادا کرکے مسلمان ہو جاتا ہے، اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے، پھر اس کے باطن احوال کرید کرنے کے ہم مکلف نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے حالات میں فرمایا: ’’کیا تونے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا کہ اس میں کفر چھپا ہوا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 277۔
(96)
کلمہ توحید کا اقرار کرنے سے پہلے وہ معصوم الدم نہیں تھا یعنی اسے قتل کرنا درست تھا۔
کلمہ پڑھنے کے بعد وہ معصوم الدم ہو گیا۔
یعنی اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔
اگر تم نے اسے قتل کردیا تو تم محفوظ الدم نہیں رہو گے بلکہ تمھیں اس کے قصاص میں قتل کردیا جائے گا۔
2۔
اس حدیث میں حضرت مقداد ؓ کے غزوہ بدر میں شریک ہونے کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اسے بیان کیا ہے۔
: لَاذَ: پناہ پکڑنا، بچاؤ اختیار کرنا۔
فوائد ومسائل:
کافر جب کلمہ اسلام زبان سے کہہ لیتا ہے تو اس کی جان کو حرمت وتحفظ حاصل ہوجاتا ہے، اور اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہوتا، اگر کوئی مسلمان اس کو قتل کردے گا تو اس مسلمان کی جان کی حرمت اور تحفظ ختم ہوجائے گا، اور اس کو قصاص میں قتل کرناجائز ہوگا۔
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں تم اسے قتل نہ کرو “، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2644]
1۔
کوئی بھی ذمہ داری لینے سے پہلے اس کے فرائض واجبات اور حقوق و آداب کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
جیسے کہ حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفصیلات حاصل کیں۔
2۔
ہرمجاہد اسلام اورہر داعی کو اپنے میدان عمل میں انتہائی دانشمندی حلم و صبر اور اطاعت شریعت کا ثبوت دینا لازمی ہے۔
3۔
بلا سبب شرعی کسی مسلمان کا قتل کرنا جرم عظیم ہے۔
اور اس کی سزا جہنم ہے۔