حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ الْبَدْرِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ابان نے ، ان سے عبداللہ بن یزید انصاری نے ، انہوں نے ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ عقبہ بن عمرو انصاری سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” انسان کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
4006. حضرت ابو مسعود بدری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’آدمی کا اپنی بیوی اور اولاد پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:4006]
حدیث حاشیہ: روایت میں حضرت ابو مسعود بدری ؓ کا ذکرہے۔
حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔
حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4006 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5351 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5351. سیدنا عبداللہ بن یزید انصاری سیدنا ابو انصاری ؓ سے روایت کرتے ہیں (عبداللہ بن یزید کہتے ہیں) کہ میں نے (سیدناابو مسعود ؓ سے) پوچھا: کیا (آپ یہ حدیث) نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ماں۔ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو یہ خرچ کرنا اس کے لیے صدقہ ہوگا۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5351]
حدیث حاشیہ:
جب انسان اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے، حالانکہ یہ اس کی ذمے داری ہے اور اس کے فرائض میں شامل ہے، اگر یہ خرچ کرنا حصول ثواب کی نیت سے ہو تو باعث اجر و ثواب ہے اور اگر کوئی خرچ جو اس کی ذمے داری نہیں وہ تو بالاولیٰ باعث ثواب ہو گا۔
بہرحال بیوی، چھوٹے بچے اور بالغ اولاد جو غریب ہو اور کمائی نہ کر سکتے ہوں تو ان تمام کے اخراجات پورے کرنا انسان کی ذمہ داری ہے اور اگر ثواب کی نیت سے ہو گا تو اجر و ثواب سے محروم نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
جب انسان اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے، حالانکہ یہ اس کی ذمے داری ہے اور اس کے فرائض میں شامل ہے، اگر یہ خرچ کرنا حصول ثواب کی نیت سے ہو تو باعث اجر و ثواب ہے اور اگر کوئی خرچ جو اس کی ذمے داری نہیں وہ تو بالاولیٰ باعث ثواب ہو گا۔
بہرحال بیوی، چھوٹے بچے اور بالغ اولاد جو غریب ہو اور کمائی نہ کر سکتے ہوں تو ان تمام کے اخراجات پورے کرنا انسان کی ذمہ داری ہے اور اگر ثواب کی نیت سے ہو گا تو اجر و ثواب سے محروم نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5351 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 55 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
55. حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:55]
حدیث حاشیہ:
1۔
بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر طاعت نہیں ہوتے، انسان انھیں اپنی طبیعت کے تقاضے سے کرتا ہے زیادہ سے زیادہ انھیں حسن معاشرت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن اگر نیت کا استحضار ہو جائے، یعنی اخلاص پیدا ہو جائے تو یہ عمل طاعت کا عمل بن جاتا ہے۔
اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا باعث ثواب ہے اگر نیت کا استحضار نہیں بلکہ ویسے ہی خوش دلی سے خرچ کرتا ہے حصول ثواب کی نیت نہیں ہے۔
اس طرح ذمے داری تو ادا ہو جائے گی لیکن ثواب نہیں ملے گا 2۔
زیرک اور دانا وہ شخص ہے جو ہر وقت اللہ کی رضا کا طالب ہو، اس طرح نیت کے استحضار سے اس کا سونا بھی موجب قربت ہے مثلاً رات کو سوتے وقت یہ نیت کی کہ صبح جلدی اٹھوں گا اور نماز فجر باجماعت ادا کروں گا، اس نیت سے سونا مقدمہ عبادت ہونے کی وجہ سے باعث اجرو ثواب ہے۔
1۔
بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر طاعت نہیں ہوتے، انسان انھیں اپنی طبیعت کے تقاضے سے کرتا ہے زیادہ سے زیادہ انھیں حسن معاشرت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن اگر نیت کا استحضار ہو جائے، یعنی اخلاص پیدا ہو جائے تو یہ عمل طاعت کا عمل بن جاتا ہے۔
اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا باعث ثواب ہے اگر نیت کا استحضار نہیں بلکہ ویسے ہی خوش دلی سے خرچ کرتا ہے حصول ثواب کی نیت نہیں ہے۔
اس طرح ذمے داری تو ادا ہو جائے گی لیکن ثواب نہیں ملے گا 2۔
زیرک اور دانا وہ شخص ہے جو ہر وقت اللہ کی رضا کا طالب ہو، اس طرح نیت کے استحضار سے اس کا سونا بھی موجب قربت ہے مثلاً رات کو سوتے وقت یہ نیت کی کہ صبح جلدی اٹھوں گا اور نماز فجر باجماعت ادا کروں گا، اس نیت سے سونا مقدمہ عبادت ہونے کی وجہ سے باعث اجرو ثواب ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 55 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2546 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کون سا صدقہ افضل ہے؟`
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2546]
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2546]
اردو حاشہ: گھر والوں کی ضروریات کے لیے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، یعنی اس سے بھی ثواب حاصل ہوگا بشرطیکہ نیت رکھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2546 سے ماخوذ ہے۔