حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَاتَ أَبُو زَيْدٍ وَلَمْ يَتْرُكْ عَقِبًا وَكَانَ بَدْرِيًّا " .
مولانا داود راز

´مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ، ہم سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ابوزید رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور انہوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی ، وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3996
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3996. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ابوزید ؓ فوت ہوئے تو ان کی اولاد نہیں تھی اور وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3996]
حدیث حاشیہ:
ابو زید کا نام قیس بن سکن ہے۔
انصاری اور خزرجی ہیں۔
جن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں قرآن جمع کیا تھا ان میں وہ بھی تھے۔
حضرت انس ؓ کے چچا ہیں۔
ان کی کنیت نام پر غالب ہے۔
لاولد فوت ہوئے تھے۔
ایک روایت کے مطابق انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم ان کیا جائیداد کے وارث بنے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5004)
انھوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اس وجہ سے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 392/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3996 سے ماخوذ ہے۔