مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3979
قَالَتْ : وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : لَهُمْ مَا قَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ " , إِنَّمَا قَالَ : " إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ " ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 , وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22 يَقُولُ : حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ " .
مولانا داود راز

‏‏‏‏ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئیں تھیں ‘ ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ‘ یہ اسے سن رہے ہیں ۔ تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان سے میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق تھا ۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «إنك لا تسمع الموتى‏» ” آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ۔ “ «وما أنت بمسمع من في القبور‏» ” اور جو لوگ قبروں میں دفن ہو چکے ہیں انہیں آپ اپنی بات نہیں سنا سکتے ۔ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ( آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے ) جو اپنا ٹھکانا اب جہنم میں بنا چکے ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3979
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔