صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ: باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3966
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَزَلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 فِي سِتَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , عَلِيٍّ , وَحَمْزَةَ , وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ , وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ , وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ " .مولانا داود راز
´ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوہاشم نے ، ان سے ابومجلز نے ، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` آیت کریمہ «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ” یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں مقابلہ کیا “ قریش کے چھ شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( تین مسلمانوں کی طرف کے یعنی علی ، حمزہ اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم اور ( تین کفار کی طرف کے یعنی ) شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3966. حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ: ’’یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا۔‘‘ قریش کے چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی: (تین مسلمانوں کی طرف سے، یعنی) حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اور (تین کفار کی طرف سے، یعنی) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3966]
حدیث حاشیہ: بدر میں کفار اور مسلمانوں کا یہ مقابلہ ہوا تھا جس میں مسلمان کامیاب رہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3966 سے ماخوذ ہے۔