حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَقَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ : وَفِيهِمْ أُنْزِلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 ، قَالَ : هُمُ الَّذِينَ تَبَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ , وَعَلِيٌّ , وَعُبَيْدَةُ , أَوْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْحَارِثِ , وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ .
مولانا داود راز

´مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا ، ہم سے معتمر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے ، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا ۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات ( حمزہ ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم ) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم‏» ” یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی ۔ “ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے ، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم ( اور کافروں کی طرف سے ) شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3965
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3965. حضرت علی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں پہلا شخص ہوں گا جو اللہ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دوزانوں ہو کر بیٹھوں گا۔ قیس بن عباد نے کہا کہ انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ’’یہ دونوں فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔‘‘ ان سے مراد وہ حضرات ہیں جو غزوہ بدر کے دن ایک دوسرے کے مقابلے کے لیے لڑائی میں نکلے۔ مسلمانوں کی طرف سے حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اور کفار کی طرف سے شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سامنے آئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3965]
حدیث حاشیہ: ہوا یہ کہ بدر کے دن کافروں کی طرف سے یہ تین شخص میدان میں نکلے تھے اور کہنے لگے اے محمد! ہم سے لڑنے کے لئے لوگوں کو بھیجو۔
ادھر سے انصار مقابلہ کو گئے تو کہنے لگے ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔
ہم تو اپنے برادری والوں سے یعنی قریش والوں سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اے حمزہ! اٹھو، اے علی! اے عبیدہ! اٹھو، حضرت حمزہ شیبہ کے مقابلہ پر اور علی ولید کے مقابلہ پر کھڑے ہوئے۔
حمزہ نے شیبہ کو علی نے ولید کو مارلیا اور عبیدہ اور عتبہ دونوں ایک دوسرے پر وار کررہے تھے کہ حضرت علی ؓ نے جاکر عتبہ کو ختم کیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3965 سے ماخوذ ہے۔