صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ: باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ " , فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ , فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، فَقَالَ : أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ ، قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ أَوْ قَالَ : قَتَلْتُمُوهُ . حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نَحْوَهُ .´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا ” کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا ؟ “ ابن مسعود رضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کے عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے ۔ انہوں نے اس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا ، تو ہی ابوجہل ہے ؟ اس نے کہا ، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے آج اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے یا ( اس نے یوں کہا کہ ) تم لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ہے ؟ مجھ سے ابن مثنیٰ نے بیان کیا ، ہم کو معاذ بن معاذ نے خبر دی ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، اسی طرح آگے حدیث بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہ کہنے لگا، کاش! مجھ کو کسانوں نے نہ مارا ہوتا۔
ان سے انصار کو مراد لیا۔
ان کو ذلیل سمجھا ایک روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس کا سرکاٹ کر لائے تو آنحضرت ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا اس امت کا فرعون مارا گیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس مردود کے ہاتھوں مکہ میں سخت تکلیف اٹھائی تھی۔
ایک روایت کے مطابق جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا تو مردود کہنے لگا۔
ارے ذلیل بکریاں چرانے والے! تو بڑے سخت مقام پر چڑھ گیا۔
پھر انہوں نے اس کا سرکاٹ لیا۔
1۔
ایک روایت کے مطابق ابوجہل نے کہا: کاش! مجھے کسانوں نے نہ ماراہوتا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4020)
اس لعنتی نے انصار کو ذلیل سمجھتے ہوئے ایسا کہا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس مردود کے ہاتھوں سخت تکلیف اٹھائی تھی۔
اس لیے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی داڑھی پکڑی، پھر اس کا سر کاٹا اور اسے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم یہ اللہ کے دشمن کا سر ہے۔
‘‘ اس پر آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
ایک روایت کے مطابق جب عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا تو لعین کہنے لگا: اے ذلیل، بکریاں چرانے والے تو بڑے سخت مقام پر چڑھ گیاہے۔
پھر انھوں نے اس کا سرکاٹ لیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔
(فتح الباري: 368/7)
2۔
واضح رہے کہ عفراء ؓ ایک صحابیہ ہیں۔
ان کے دونوں بیٹوں کانام معاذ اور معوذ ہے۔
ان کے والد محترم حضرت حارث بن رفاعہ ؓ ہیں۔
ان کےتیسرے بھائی کا نام عوف ہے وہ بھی بدر میں موجود تھا۔
یہ قومی اونچ نیچ کا تصور ابو جہل کے دماغ میں آخروقت تک سمایا رہا جو مسلمان آج ایسی قومی اونچ نیچ کے تصورات میں گرفتار ہیں ان کو سوچنا چاہیے کہ وہ ابو جہل کی خوئے بد میں گرفتار ہیں۔
اسلام ایسے ہی غلط تصورات کو ختم کرنے آیا مگر صد افسوس کہ خود مسلمان بھی ایسے غلط تصورات میں گرفتار ہوگئے۔
اکار کا ترجمہ مولانا وحید الزماں ؓ نے لفظ کمینے سے کیا ہے۔
گویا ابو جہل نے کاشتکاروں کو لفظ کمینے سے یاد کیا ہے۔
1۔
اس مردود کو تکلیف ہوئی کہ مدینے کے کاشتکاروں کے ہاتھوں کیوں مارا گیا ہے؟ کاش!یہ رئیس کسی رئیس کے ہاتھوں مارا جاتا۔
قومی اونچ نیچ کا تصور اس کے دماغ میں آخر تک سمایارہا۔
2۔
حضرت انس ؓ اگرچہ بدر کی جنگ میں شریک نہ تھے۔
تاہم انھوں نے کسی بدری صحابی سے سن کر یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔
3۔
بہر حال حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بدری صحابی ہیں جن سے ابو جہل نے کہا تھا۔
بکریوں کے چرواہے! تو ایک سخت چوٹی پر چڑھا ہے۔
انصار چونکہ زراعت پیشہ تھے اس لیے ابو جہل نے حقارت کے طور پر کہا: کاش! مجھے زراعت پیشہ قتل نہ کرتے کوئی بڑا آدمی قتل کرتا۔
فخر و غرور کا یہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔
(1)
حتي برك: حتیٰ کہ وہ گر گیا، بعض نسخوں میں ہے۔
حتي برد یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا پڑ گیا، یعنی اس کو اتنا گہرا زخم لگ چکا تھا کہ اب اس کا زندہ رہنا ممکن نہ تھا، آخری سانسوں پر تھا۔
(2)
هِل فَوق رَجُل قَتَلتُمُوه: امام نووی نے معنی کیا ہے، تمہارا مجھے قتل کرنا میرے لیے عار و ننگ کا باعث نہیں ہے، یعنی لڑ کر مرنا شرم و عار کا باعث نہیں ہے۔
(3)
فَلَو غَيرَ اَكَّار قَتَلَني: اے کاش مجھے ایک کسان کے علاوہ کوئی قتل کرتا۔
معاذ اور معوذ دونوں انصاری تھے اور انصار کاشت کار لوگ تھے، جن کو عرب حقیر اور کم حیثیت خیال کرتے تھے، اس لیے اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اے کاش مجھے میرے ہم پلہ قریشی قتل کرتے۔
فیصلہ کن وار کرنے والے تو حضرت معاذ بن عمرو بن جموح تھے، لیکن اس پر وار کرنے میں معاذ اور معوذ دونوں بھائی ٹھیک تھے اور سر کاٹ کر لانے والے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں اور آپﷺ نے سلب معاذ بن عمرو بن جموح کو دی تھی۔