صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ: باب: غزوہ بدر کا بیان۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ :سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَةِ بَدْرٍ ، وَلَمْ يُعَاتَبْ أَحَدٌ تَخَلَّفَ عَنْهَا , إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ " .´مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے ، ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوے کئے ، میں غزوہ تبوک کے سوا سب میں حاضر رہا ۔ البتہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکا تھا لیکن جو لوگ اس غزوے میں شریک نہ ہو سکے تھے ، ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کو تلاش کرنے کے لیے نکلے تھے ۔ ( لڑنے کی نیت سے نہیں گئے تھے ) مگر اللہ تعالیٰ نے ناگہانی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں سے بھڑا دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس میں سب مسلمانوں کے ساتھ جانے کا حکم تھا جو لوگ نہیں گئے ان پر اس لیے عتاب ہوا۔
1۔
امام بخاری ؒ نے حضرت کعب بن مالک ؓ کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے۔
اس کا تفصیلی ذکر آئندہ بیان ہوگا، البتہ اس مقام پر غزوہ بدر کاپس منظر بیان کرنا مقصود ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنگی تیاری کے ساتھ باہر نہیں نکلے تھے بلکہ آپ کا مقصد صرف ابوسفیان کے قافلے پر گرفت کرنا تھی جو شام کے علاقے سے ہتھیار خرید کر واپس آرہا تھا۔
جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ان سے جنگی سامان چھیننے کا پروگرام تشکیل دیا کیونکہ ایسے ہنگامی حالات میں دشمن سے اسلحہ چھین لینا ہی ایک بہترین جنگ چال ہے، بلکہ اس کے برعکس رواداری کرنا سیاسی غلطی ہے۔
2۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے وعدہ فرمایا تھا کہ دوگروہوں تجارتی قافلے یا لشکر میں سے ایک پر آپ کوکامیاب کرےگا، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ابوسفیان کے قافلے پر کامیابی زیادہ محبوب تھی کیونکہ اس سے لڑائی کے بغیر جنگی سامان ہاتھ آنے کی اُمید تھی۔
ابوسفیان نے ساحلی راستہ اختیار کیا اور اپنا قافلہ مسلمانوں سے بچا کر نکل جانے میں کامیاب ہوگیا۔
ادھر ابوجہل اس قافلے کی مدد کے لیے ایک ہزار کی نفری کے ساتھ مکے سے نکل پڑاتھا، چنانچہ مقام بدر میں حق وباطل کے درمیان عظیم معرکہ برپا ہوا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ سے جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے والوں پر کسی قسم کا اظہارِ ناراضی نہیں فرمایا، لیکن غزوہ تبوک کا معاملہ اسے مختلف تھا۔
اس میں تمام مسلمانوں کو جنگ کے لیے باہرنکلنے کا حکم تھا، اس لیے جو لوگ نہیں گئے ان پرعتاب نازل ہواجن میں حضرت کعب بن مالک ؓ بھی تھے۔