صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ , وَبِلَالٌ ، قَالَتْ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ , وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَتْ : فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ الْحُمَّى يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ وَيَقُولُ : أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا , وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا , وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مالک نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما کو بخار چڑھ آیا ، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : والد صاحب ! آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار چڑھا تو یہ شعر پڑھنے لگے ۔ ” ہر شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت تو جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے . “ اور بلال رضی اللہ عنہ کے بخار میں جب کچھ تخفیف ہوتی تو زور زور سے روتے اور یہ شعر پڑھتے ” کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ کبھی میں ایک رات بھی وادی مکہ میں گزار سکوں گا جب کہ میرے اردگرد ( خوشبودار گھاس ) اذخر اور جلیل ہوں گی ، اور کیا ایک دن بھی مجھے ایسا مل سکے گا جب میں مقام مجنہ کے پانی پر جاؤں گا اور کیا شامہ اور طفیل کی پہاڑیوں کو ایک نظر دیکھ سکوں گا ۔ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد ، وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها ، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة» ” اے اللہ ! مدینہ کی محبت ہمارے دل میں اتنی پیدا کر دے جتنی مکہ کی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ ، یہاں کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا ۔ ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد ( اناج ناپنے کے پیمانے ) میں برکت عنایت فرما اور یہاں کے بخار کو مقام جحفہ میں بھیج دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس وقت وہاں یہودی رہا کرتے تھے۔
امام قسطلانی نے کہا کہ اس حدیث سے یہ نکلا کہ کافروں کے لئے جو اسلام اور مسلمانوں کے ہر وقت درپے آزار رہتے ہوں ان کی ہلا کت کے لئے بد دعا کرنا جائز ہے امن پسند کافروں کا یہاں ذکر نہیں ہے مقام جحفہ اپنی خراب آب وہوا کے لئے اب بھی مشہور ہے جو یقینا آنحضرت ﷺ کی بددعا کا اثر ہے۔
حضرت مولانا وحید الزماں نے ان شعروں کا منظوم ترجمہ یوں کیا ہے۔
خیر یت سے ا پنے گھر میں صبح کرتا ہے بشر موت اس کی جوتی کے تسمے سے ہے نزدیک تر کاش میں مکہ کی وادی میں رہوں پھر ایک رات سب طرف میرے اگے ہوں واں جلیل اذخر نبات کاش پھر دیکھوں میں شامہ کاش پھر دیکھوں طفیل اور پیوں پانی مجنہ کے جو ہیں آب حیات شامہ اور طفیل مکہ کی پہاڑیوں کے نام ہیں۔
رونے میں جو آوازنکلتی ہے اسے عقیرہ کہتے ہیں۔
1۔
حجفہ میں اس وقت یہودی رہا کرتے تھے اور یہ مدینہ طیبہ سے سات مراحل پر واقع ہے۔
اس کے اور سمندر کے درمیان صرف چھ میل کا فاصلہ ہے۔
اب اہل مصر کا میقات ہے۔
آب و ہوا کی خرابی کی وجہ سے اب بھی مشہور ہے یقیناً رسول اللہ ﷺ کی بددعا کا اثر ہے۔
2۔
حضرت بلال ؓ بخار اترنے کے بعد یہ بھی کہا کرتے تھے۔
’’اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت کر، انھیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے جیسے انھوں نے ہمیں اس وبائی سر زمین میں آنے پر مجبور کیا۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
3۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عامر بن فہرہ کے پاس بھی جاتی اور اس سے حال پوچھتی تو وہ بھی کہتے کہ موت آنے سے پہلے ہی مجھے اس کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ حضرات شدت بخار کی وجہ سے ہذیان کا شکار ہیں: خود حضرت عائشہ ؓ کو مدینے پہنچ کر اس قدر سخت بخار ہوا کہ آپ کے بال جھڑ گئے تھے۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ کی آب و ہوا کے خوشگوار ہونے کی دعا فرمائی۔
اس کی تفصیل کتاب فضائل المدینہ کے آخر میں حدیث 1889 کے تحت ملاحظہ کریں۔
(1)
ایک روایت میں اس دعا کا پس منظر بیان ہوا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت یہ شہر سخت وبائی امراض کی لپیٹ میں تھا۔
یہاں پہنچ کر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت بلال رضی اللہ عنہا کو بخار ہو گیا۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ تو جذبات سے بے قابو ہو کر سردارانِ قریش کو لعنت کرتے ہوئے کہنے لگے: اے اللہ! ان کا ستیاناس کر انہوں نے ہمیں ہماری سرزمین سے وبائی خطے کی طرف آنے پر مجبور کر دیا۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دعا مانگی۔
(2)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان کا پہلا جز ثابت کیا ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ مدینہ ان دنوں وبائی امراض میں گھرا ہوا تھا۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
اسلام قبول کرنے پر ان کو اہل مکہ نے بے حد دکھ دیا۔
امیہ بن خلف ان کا آقا بہت ہی زیادہ ستاتا تھا اللہ کی شان یہی امیہ ملعون جنگ بدر میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔
آخری زمانہ میں ملک شام میں مقیم ہو گئے تھے اور 63 سال کی عمر میں سنہ20 ھ میں دمشق یا حلب میں انتقال فرمایا، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
(1)
ان دنوں مقام جحفہ میں یہودی آباد تھے جو مسلمانوں کے خلاف آئے دن منصوبے بناتے رہتے تھے، اس لیے آپ نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! مدینہ طیبہ کے بخار کو وہاں بھیج دے۔
‘‘ پھر آپ نے خواب میں دیکھا کہ مدینہ طیبہ سے ایک عورت پراگندہ حالت میں نکل کر جحفہ چلی گئی ہے جس کی تعبیر وباؤں اور بخار وغیرہ کا وہاں منتقل ہونا تھا۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7038) (2)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ عورت، مردوں کی تیمارداری کر سکتی ہے لیکن اس پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ تو پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے؟ اس کا جواب حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دیا ہے کہ آج بھی ستروحجاب کی پابندی کے ساتھ عورت کسی بھی اجنبی شخص کی تیمارداری کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہاں کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔
(فتح الباري: 146/10)
اسی لیے وہ بخار میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے۔
حضرت بلال ؓ کے درد انگیز اشعار ظاہر کرتے ہیں کہ مکہ شریف کا ماحول وہاں کے پہاڑ حتی کہ وہاں کی گھاس تک ان کو کس قدر محبوب تھی مگر اللہ و رسول اللہ ﷺ کی محبت ان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی تھی، حضرت بلال ؓ کے اشعار میں ذکر کردہ جلیل اور اذخر دو قسم کی گھاس ہیں جو اطراف مکہ میں بکثرت پیدا ہوتی ہیں اور شامہ اور طفیل مکہ سے تین میل کے فاصلے پر دو پہاڑ ہیں۔
مجنہ مکہ سے چند میل مر الظہران کے قریب ایک مقام ہے جہاں کا پانی بے حد شیریں ہے، حضرت بلال ؓ نے اپنے ان اشعار میں ان ہی سب کا ذکر فرمایا ہے۔
حضرت مولانا وحید الزماں مرحوم نے بلالی اشعار کا اردو ترجمہ اشعار میں یوں فرمایا: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً کاش! پھر مکہ کی وادی میں رہوں میں ایک رات بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ سب طرف میرے اگے ہوئےں واں إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ اور پیؤں پانی مجنہ کے جو آب حیات وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ کاش! پھر دیکھوں میں شامہ کاش! پھر دیکھوں طفیل اللہ پاک نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی دعا قبول فرمائی کہ مدینہ نہ صرف آب و ہوا بلکہ ہر لحاظ سے ایک جنت کا نمونہ شہر بن گیا اور اللہ نے اسے ہر قسم کی برکتوں سے نوازا اور سب سے بڑا شرف جو کائنات عالم میں اسے حاصل ہے وہ یہ کہ یہاں سرکار دو عالم رسول اکرم ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔
سچ ہے: اخترت بین أماکن الغبراء دار الکرامة بقعة الزوراء (صلی اللہ علیه وسلم)
(1)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں اقامت رکھنا ایک مومن کی پسندیدہ خواہش ہونی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! اس کی آب و ہوا کو ہمارے لیے اچھا کر دے۔
‘‘ (2)
وطن سے محبت انسان کا ایک فطری جذبہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ کرام ؓ نے اگرچہ اللہ کی رضا کے لیے مکہ مکرمہ چھوڑا تھا لیکن شروع شروع میں وطن کی یاد بہت آیا کرتی تھی، نیز مدینہ طیبہ کا ماحول بھی اس وقت ناسازگار تھا، خاص طور پر اس کی آب و ہوا ان کے موافق نہ تھی، اس لیے انہیں بخار ہو جاتا۔
اس دوران میں حضرت بلال ؓ بڑے درد انگیز اشعار پڑھ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے۔
مکہ کا ماحول، وہاں کے پہاڑ حتی کہ وہاں کی گھاس تک کا اپنے اشعار میں ذکر کرتے مگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ان کے لیے سب سے زیادہ قیمتی تھی۔
حضرت بلال ؓ کے اشعار میں جلیل اور اذخر کا ذکر آیا ہے۔
یہ گھاس کے نام ہیں جو اطراف مکہ میں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔
شامہ اور طفیل مکہ سے تیس میل کے فاصلے پر دو پہاڑ ہیں۔
(3)
رسول اللہ ﷺ مکے سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اس وقت مدینہ طیبہ ایک سخت وبائی آب و ہوا کی لپیٹ میں تھا، چنانچہ مدینہ طیبہ میں آنے والے سخت بخار میں مبتلا ہو جاتے۔
رسول اللہ ﷺ کی دعا سے یہ وبا جحفه منتقل ہو گئی جو اس وقت مشرکین کی بستی تھی اور مدینہ طیبہ نہ صرف آب و ہوا بلکہ ہر اعتبار سے جنت کا نمونہ بن گیا۔
الغرض آج مدینہ طیبہ کی ہر بستی بابرکت ہے جس سے ساری دنیا کو فیض پہنچ رہا ہے۔
وَبِيْئَةٌ: وبائی علاقہ، جہاں لوگ جلد جلد موت کا شکار ہوتے ہیں۔
فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت حجفہ میں یہود آباد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وبا کے ادھر منتقل ہونے کی دعا فرمائی، جس سے ثابت ہوا کفار کے لیے بیماری اور ہلاکت وتباہی کی دعا کرنا جائز ہے۔
اس طرح مسلمانوں کے لیے صحت وسلامتی کی اور مسلمانوں کے ملک کے لیے صحت افزا مقام ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔
بعض متصوفین (تصوف زدہ)
کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ دعا خلاف توکل ہے، کیونکہ دعا بھی اللہ کے حضورجاتی ہے۔
جو افتقا رواحتیاج کی علامت ہے اور بہت بڑی عبادت ہے، اس طرح معتزلہ کا اس کو خلاف تقدیر کہہ کر بے فائدہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
کیونکہ دعا بھی تقدیر کا حصہ ہے۔
اور آپ کی دعا ہی کا یہ اثر ہے کہ حجفہ کا پانی بخار کا سبب بنتا ہے۔
اچھے شعر پڑھنا درست ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین موت کو بہت زیادہ یاد رکھتے تھے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی علاقے میں بیماری کی وباء عام ہو جائے تو اس خاص علاقے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ سے بڑی محبت تھی، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی، وہی دعا اور اس سے بہتر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لیے کی۔
راجح بات یہ ہے کہ مکہ افضل ہے اور مدینہ کو بہت زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ دعا جامع انداز میں کرنی چاہیے، اور اس حدیث میں نہایت جامع و مانع انداز سے دعا کی گئی ہے۔
اس موقع پر راقم فقیر ابن بشیر الحسینوی عفی عنہ بھی ایک دعا کرنا چاہتا ہے، ” یا رب العالمین! میں تجھ سے وہ مانگتا ہوں جو تیرے برگزیدہ بندوں نے مانگا، مثلاً محد ثین مفسرین، شارحین، ناشرین، اور ائمہ حرمین نے جو تجھ سے مانگا ہے، وہ ہمیں بھی دے دے، اور اس کی مثل اور بھی عطا فرما آمین۔ “