صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ , وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ , فَقَدِمَ بِلَالٌ , وَسَعْدٌ , وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى جَعَلَ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ : سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` سب سے پہلے ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( نابینا ) آئے یہ دونوں ( مدینہ کے ) مسلمانوں کو قرآن پڑھنا سکھاتے تھے ۔ اس کے بعد بلال ، سعد اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم آئے ۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ کو ساتھ لے کر ) تشریف لائے ۔ مدینہ کے لوگوں کو جتنی خوشی اور مسرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ہوئی میں نے کبھی انہیں کسی بات پر اس قدر خوش نہیں دیکھا ۔ لونڈیاں بھی ( خوشی میں ) کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو اس سے پہلے میں مفصل کی دوسری کئی سورتوں کے ساتھ «سبح اسم ربك الأعلى» بھی سیکھ چکا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نحن جوار من بني نجار۔
یا حبذا محمد من جار۔
دوسری روایت میں یوں ہے کہ انصار کی لڑکیاں گاتی بجاتی آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں نکلیں۔
وہ یہ کہہ رہی تھیں: طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکرعلینا ما دعا للہ داع آنحضرت ﷺ نے فرمایا: إن اللہ یحبکن یعنی تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے۔
قسطلانی نے ان بیس صحابہ کے اسماء گرامی بھی پیش کئے ہیں جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہجرت کرکے مدینہ پہنچ چکے تھے۔
مفصلات کی سورتیں وہ ہیں جو سورۃ حجرات سے شروع ہوتی ہیں۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو ہجرت کرنے کا حکم دیا تھا اور مدینہ طیبہ میں معلم اور مبلغ کا منصب ان کے حوالے کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ جب تشریف لائے تو حضرت کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سعد بن خثیمہ کے پاس ٹھہرے۔
دراصل حضرت سعد کنوارے تھے۔
ان کے گھر کو بیت العزاب یعنی کنواروں کا گھر کہا جاتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت کلثوم ؓ کے گھر مستقل اقامت اختیار کی اور اپنے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کے پاس بھی بیٹھا کرتے تھے جب حضرت علی ؓ کو خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ امن و امان سے قباء میں تشریف فرما ہیں تو وہ بھی آپ کے بعد قباء میں آ گئے۔
(عمدة القاري: 646/11)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینے کے قریب پہنچے تو بنو نجار کی بچیاں دف بجا تی ہوئی نکلیں اور یہ اشعار پڑھ رہی تھیں۔
’’ہم قبیلہ نجار کی لڑکیاں ہیں زہے قسمت ہمیں رسول اللہﷺ کا پڑوس نصیب ہوا ہے‘‘ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی خوشی میں انصار کی لڑکیاں یہ شعر گا رہی تھیں۔
’’وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر بدر کامل طلوع ہوا ہم پر اللہ کا شکر واجب ہے جب تک داعی اللہ کی طرف بلاتا رہے۔
‘‘ اس آخری روایت کی سند متصل ہے صحیح اور راجح امر یہ ہے کہ مذکورہ اشعار غزوہ تبوک سے واپسی پر پڑھے گئے۔
(فتح الباري: 327/7)
2۔
اس حدیث میں "مفصل"سے مراد سورہ الحجرات سے آخر تک تمام سورتیں ہیں۔
انھیں مفصل اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر سورت کے بعد بسم اللہ سے فصل کا تکرار ہے۔
اس کی تین قسمیں ہیں۔
"طوال مفصل" یہ سورہ الحجرات تا سورہ بروج تک ہے۔
"اوساط مفصل " یہ سورہ بروج سے لے کر سورہ بینہ تک ہے۔
"اور قصا مفصل" یہ سورہ بینہ سے لے کر آخری سورت الناس تک ہے۔
1۔
اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے تسبیح کا حکم ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ذات ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہے۔
بلا شرکت غیرے مختار کل ہے کائنات کی تمام اشیاء پر اسے پورا پورا کنٹرول حاصل ہے، تسبیح کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کو مذکورہ صفات کے ساتھ یاد کرنا ہے۔
2۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس آیت کے مطابق تم سجدے میں (سبحان ربي الأعلی)
اور سورہ واقعہ کی آخری آیت کے مطابق رکوع میں (سبحان ربي العظيم)
پڑھا کرو۔
‘‘ (مسند أحمد: 155/4)