صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ الْمَدِينَةَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ میں آنا۔
حدیث نمبر: 3924
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ,وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ , ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ , وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی ، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے یوں بیان کیا کہ` سب سے پہلے ( ہجرت کر کے ) ہمارے یہاں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے پھر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اور بلال رضی اللہ عنہ آئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3924. حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر ؓ اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ تشریف لائے۔ پھر ہمارے ہاں حضرت عمار بن یاسر ؓ اور حضرت بلال ؓ کی آمد ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3924]
حدیث حاشیہ: رسول کریم ﷺ نے مصعب بن عمیر ؓ کو ہجرت کا حکم فرمایا اور مدینہ میں معلم اور مبلغ کا منصب ان کے حوالے کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3924 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3924. حضرت براء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت مصعب بن عمیر ؓ اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ تشریف لائے۔ پھر ہمارے ہاں حضرت عمار بن یاسر ؓ اور حضرت بلال ؓ کی آمد ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3924]
حدیث حاشیہ:
موسیٰ بن عقبہ نے ذکر کیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد ؓ تشریف لائے جبکہ اس حدیث میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے پہلے آنے کا ذکر ہے دراصل حضرت ابو سلمہ ؓ مدینہ طیبہ میں اقامت کے لیے مکہ مکرمہ سے نہیں نکلے تھے بلکہ مشرکین کے خوف سے بھاگ آئے تھے جبکہ حضرت مصعب بن عمر ؓ میں اقامت کرنے اور اہل مدینہ کو دینی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
ان میں سے ہر ایک کی جہت اولیت مختلف ہے۔
(عمدة القاري: 1/647)
واللہ اعلم۔
موسیٰ بن عقبہ نے ذکر کیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد ؓ تشریف لائے جبکہ اس حدیث میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے پہلے آنے کا ذکر ہے دراصل حضرت ابو سلمہ ؓ مدینہ طیبہ میں اقامت کے لیے مکہ مکرمہ سے نہیں نکلے تھے بلکہ مشرکین کے خوف سے بھاگ آئے تھے جبکہ حضرت مصعب بن عمر ؓ میں اقامت کرنے اور اہل مدینہ کو دینی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔
ان میں سے ہر ایک کی جہت اولیت مختلف ہے۔
(عمدة القاري: 1/647)
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3924 سے ماخوذ ہے۔