حدیث نمبر: 3899
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , كَانَ يَقُولُ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا ، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ( مکہ سے مدینہ کی طرف ) ہجرت باقی نہیں رہی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3899
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3899. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت ختم ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3899]
حدیث حاشیہ: یعنی ہجرت کی وہ فضیلت باقی نہیں رہی جو مکہ فتح ہونے سے قبل تھی بعض نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہجرت نہیں رہی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہجرت کا مشروع ہونا جاتا رہا کیونکہ دار الکفر سے دار الاسلام کو ہجرت واجب ہے جب دین میں خلل پڑنے کا ڈر ہو۔
یہ حکم قیامت تک باقی ہے اور اسماعیلی کی روایت میں ابن عمر ؓ سے اس کی صراحت موجود ہے۔
حافظ نے کہا حضرت عائشہ ؓ کے قول سے یہ نکلتا ہے کہ ہجرت اس ملک سے واجب ہے جہاں پر اللہ کی عبادت آزادی کے ساتھ نہ ہوسکے ورنہ واجب نہیں ماوردی نے کہا اگر مسلمان دار الحرب میں اپنا دین ظاہر کر سکتا ہے تو اس کا حکم دار الاسلام کا سا ہو گا اور وہاں ٹھہرنا ہجرت کرنے سے افضل ہو گا کیونکہ وہاں ٹھہرنے سے یہ امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوں۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3899 سے ماخوذ ہے۔