صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ هِجْرَةِ الْحَبَشَةِ: باب: مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا , فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ " .´ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے ۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا ۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے ) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے ، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو ! دو ہجرتیں کی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ نے خیبر کے مال غنیمت میں سے ان لوگوں کو حصہ نہیں دلایا تھا جو اس لڑائی میں شریک نہ تھے مگر ہماری کشتی والوں کو حضرت جعفربن ابی طالب ؓ کے ساتھ حصہ دلا دیا۔
1۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے پہلے مکہ کی طرف ہجرت کی، اسلام قبول کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں لوگوں کے ہمراہ حبشے کی طرف بھیج دیا وہ حبشہ جانے کے بجائے اپنی قوم کے علاقے کی طرف متوجہ ہوئے جو مشرقی جانب حبشہ کے بالمقابل ہے۔
جب انھیں خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے جاچکے ہیں تو وہ اپنی قوم کے مسلمانوں کےساتھ کشتی میں سوار ہوکر مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن سمندری لہروں نے انھیں حبشہ پہنچا دیا تو وہ سیدنا جعفر ؓ کے ساتھ وہیں رک گئے، پھر مدینہ طیبہ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہوچکا تھا۔
(فتح الباري: 237/7)
2۔
دو ہجرتیں یہ ہیں: ایک مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف اور دوسری حبشہ سے مدینہ طیبہ کی طرف اور جن لوگوں نے ہجرت حبشہ نہیں کی تھی ان کے لیے صرف ایک ہی ہجرت ہے جو مکہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہوئی۔
پس باب کا مطلب حاصل ہوگیا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور آپ کے ساتھیوں نیز حضرت جعفر ؓ کے ہمراہ آنے والوں کو جو مال غنیمت سے حصہ دیا گیا اس کی مختلف توجیہایت علمائے امت نے بیان کی ہیں جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے غنیمت سے باضابطہ حصہ پانے والوں کو اعتماد میں لے کر انھیں حصہ دیا تھا جیسا کہ قبیلہ ہوازن کے لوگوں کو دیا تھا اور اپنے صحابہ کو راضی کر لیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس مال اسے انھیں حصہ دیا تھا جو جنگ کے بغیر حاصل ہوا کیونکہ سارا خیبر بزور فتح نہیں ہواتھا بلکہ کچھ علاقے صلح سے زیر نگین ہو گئے تھے رسول اللہ ﷺ نے ان حضرات کو مال خمس سے حصہ دیا کیونکہ یہ منقول نہیں کہ آپ نے غزوہ خیبر میں شرکت کرنے والوں سے اجازت مانگی ہو۔
امام بخاری ؒ کا رجحان بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ انھوں نے اپنےقائم کردہ عنوان کے تحت اس حدیث کو ذکر کیا ہے واللہ أعلم۔
ایک روایت میں ہے کہ جو کوئی فتح خیبرمیں غائب تھا اس کے لیے اموال خیبر سے حصہ مقرر نہ کیا، صرف ان لوگوں کو حصہ میسر ہوا جو خیبر میں موجود تھے، البتہ اہل سفینہ، حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں سمیت سب کے لیے غنائم خیبر سے حصہ مقرر کیا۔
(فتح الباري: 608/7۔
)
اہل سفینہ سے مراد حضرت ابوموسیٰ ؓ اوران کے ساتھی ہیں۔
انھیں اموال خیبر سے حصہ ملا تھا، ان کے علاوہ حضرت ابوہریرہ ؓ کوحصہ دیا تھا جیسا کہ آئندہ روایت میں اس کی صراحت ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر آیا، جن لوگوں نے خیبر فتح کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ ہمارے لیے بھی حصہ مقرر کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1559]
وضاحت:
1؎:
اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور فتح حاصل ہونے کے بعد جو پہنچے اسے بھی حصہ دیاجائے گا۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم (حبشہ سے) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت سے) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2725]
یہ عطیہ تو خمس میں سے دیا گیا تھا۔
جس کے نبی کریمﷺ خود متصرف تھے۔
یا دیگر مجاہدین کی رضا مندی سے غنیمت میں دیا گیا تھا تاکہ ان مہاجرین کی دلجوئی ہو۔
واللہ اعلم (خطابی)