صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ: باب: چاند کے پھٹ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3870
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : " أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .مولانا داود راز
´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراک بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3638 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3638. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3638]
حدیث حاشیہ: کفار مکہ کا خیال تھا کہ یہ یعنی محمد ﷺ اپنے جادو کے زور سے زمین پر عجائبات دکھلاسکتے ہیں، آسمان پر ان کا جادو نہ چل سکے گا۔
اسی خیال کی بنیاد پر انہوں نے معجزہ شق قمر طلب کیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دکھلایا۔
اسی خیال کی بنیاد پر انہوں نے معجزہ شق قمر طلب کیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دکھلایا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3638 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2803 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند شق ہو گیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7079]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، بہت سے مسافروں نے بتایا کہ انہوں نے ہندوستان میں ایک ہیکل دیکھا، جس پر لکھا ہوا تھا، یہ اس رات تعمیر ہوا، جس میں چاند شق ہوا تھا، ابن کثیر ج (6)
ص (77)
اور شق قمر کا واقعہ مالیبار میں بھی نظر آیا تھا، تاریخ فرشتہ اردو، ج (2)
ص 488۔
489 دیکھئے۔
ص (77)
اور شق قمر کا واقعہ مالیبار میں بھی نظر آیا تھا، تاریخ فرشتہ اردو، ج (2)
ص 488۔
489 دیکھئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2803 سے ماخوذ ہے۔