حدیث نمبر: 3868
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً , فَأَرَاهُمُ الْقَمَرَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى رَأَوْا حِرَاءً بَيْنَهُمَا " .
مولانا داود راز

´مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دئیے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3868
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3637 | صحيح مسلم: 2802 | سنن ترمذي: 3286

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3286 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3286]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں ’’مرتین‘‘ کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں’’مرتين‘‘ سے مراد ’’فلقتين‘‘ ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3286 سے ماخوذ ہے۔