صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ ، سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ ، وَلَا تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ ، وَلَا تَقُولُوا الْحَطِيمُ فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ أَوْ قَوْسَهُ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مطرف نے خبر دی ، کہا میں نے ابوالسفر سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے کہا : اے لوگو ! میری باتیں سنو کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور ( جو کچھ تم نے سمجھا ہے ) وہ مجھے سناؤ ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ کر ( بغیر سمجھے ) چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا ۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھاتا تو اپنا کوڑا ، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت ابن عباسؓ نے حطیم کی اسی مناسبت کے پیش نظر اسے حطیم کہنے سے منع کیا تھا، لیکن عام اہل اسلام بغیر کسی نکیر کے اسے اب بھی حطیم ہی کہتے چلے آرہے ہیں اور یہ کعبہ ہی کی زمین ہے جسے قریش نے سرمایہ کی کمی کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔
1۔
ابن عباس ؓ کا مطلب ہے کہ لفظ حطیم دور جاہلیت کی یادگار ہے اہل جاہلیت جو کچھ کرتے تھے یہ حطیم اس پر دلالت کرتا ہے وہ اپنا کوڑا، جوتا اور کمان وغیرہ اس میں پھینک کر قسم اٹھاتے تھے اگر وہ جھوٹی قسم اٹھاتے تو دنیا میں چکنا چور ہو جاتے، اس وجہ سے لوگ اسے حطیم کہتے ہیں 2۔
غالباً حضرت ابن عباس ؓ نے اس لیے یہ نام استعمال کرنے سے کراہت محسوس کی ان کی کراہت کی بنیاد اہل جاہلیت کو کردار اور عقیدہ تھا جو اب متروک ہو چکا ہے۔
ویسے حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے قریش نے کم مائیگی کی وجہ سے اس پر چھت نہیں ڈالی تھی، اس لیے طواف اس کے پیچھے سے ہی کرنا چاہیے۔