صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .مولانا داود راز
´مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے کہا جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آ جاتی قریش ( حج میں ) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3838. حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ مشرک لوگ مزدلفہ سے واپس نہیں ہوتے تھے حتی کہ سورج کی دھوپ ثبیر پہاڑ پر آ جاتی۔ نبی ﷺ نے ان کی مخالفت کی اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے کوچ فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3838]
حدیث حاشیہ:
1۔
مشرکین مکہ دور جاہلیت میں مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے بلکہ رات یہاں قیام کرتے پھر صبح کے وقت آواز لگاتے (أَشْرِقْ ثَبِيرُ)
اے شبیر پہاڑ! تو دھوپ کی وجہ سے جلدی روشن ہو جاتا کہ ہم گھروں کو واپس جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت فرمائی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1684)
قریش میں جاہلیت کی یہ رسم اس قدر سرایت کر چکی تھی کہ حضرت جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا تو میں اسے تلاش کرتے کرتے کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ میدان عرفہ میں کھڑے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ حمس یعنی قریش کا عرفہ میں آنا کیونکر ہے وہ تو مزدلفہ آگے نہیں جاتے۔
رسول اللہ ﷺ ادھر کس لیے آئے ہیں؟ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1664)
2۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئےفرمایا: ’’پھر تم وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں۔
‘‘ (البقرة: 199/2)
1۔
مشرکین مکہ دور جاہلیت میں مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے بلکہ رات یہاں قیام کرتے پھر صبح کے وقت آواز لگاتے (أَشْرِقْ ثَبِيرُ)
اے شبیر پہاڑ! تو دھوپ کی وجہ سے جلدی روشن ہو جاتا کہ ہم گھروں کو واپس جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت فرمائی۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1684)
قریش میں جاہلیت کی یہ رسم اس قدر سرایت کر چکی تھی کہ حضرت جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ عرفہ کے دن میرا اونٹ گم ہو گیا تو میں اسے تلاش کرتے کرتے کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ میدان عرفہ میں کھڑے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ حمس یعنی قریش کا عرفہ میں آنا کیونکر ہے وہ تو مزدلفہ آگے نہیں جاتے۔
رسول اللہ ﷺ ادھر کس لیے آئے ہیں؟ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1664)
2۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئےفرمایا: ’’پھر تم وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں۔
‘‘ (البقرة: 199/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3838 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3022 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔`
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3022]
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3022]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہونا چاہیے مگر اس وقت جب کافی روشنی ہوجائے۔
(2)
مسلمانوں کی عبادتیں غیر مسلموں سے مختلف ہیں حتی کہ جوعبادتیں مشترک ہیں ان میں طریق کار میں فرق کردیا گیا ہے۔
(3)
جب مشترک عبادتیں بھی مختلف کردی گئیں ہیں تو ان تہواروں میں مسلمانوں کا شریک ہونا کیسے جائز ہوسکتا ہےجو خالص غیر مسلم اور رسمی تہواریں ہیں مثلاً: کرسمس نیا عیسوی سال نوروز، بسنت، دیوالی، میلے ٹھیلے وغیرہ نیز شادی غمی کی وہ رسمیں جو غیر مسلموں میں رائج ہیں مثلاً سالگرہ، برسی، کسی کی وفات پر سیاہ لباس پہننا چراغاں منگنی اور شادی کے موقع پر مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور آپس میں ہنسی مذاق، مہندی لیکر اس پر شمعیں جلانا اور عورتوں کا راستوں میں ناچتے ہوئے گاتے ہوئے مہندی لیکر چلنا۔
یہ سب کافروں بالخصوص ہندؤں کی رسمیں ہیں جن کے متعلق دینی غیرت و حمیت رکھنے والا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔
ہاں! اگر دینی غیرت ہی ختم ہوجائے تو پھر اور بات ہے۔
بنا بریں ایسی خرافات سےتمام مسلمانوں کو مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے روانہ ہونا چاہیے مگر اس وقت جب کافی روشنی ہوجائے۔
(2)
مسلمانوں کی عبادتیں غیر مسلموں سے مختلف ہیں حتی کہ جوعبادتیں مشترک ہیں ان میں طریق کار میں فرق کردیا گیا ہے۔
(3)
جب مشترک عبادتیں بھی مختلف کردی گئیں ہیں تو ان تہواروں میں مسلمانوں کا شریک ہونا کیسے جائز ہوسکتا ہےجو خالص غیر مسلم اور رسمی تہواریں ہیں مثلاً: کرسمس نیا عیسوی سال نوروز، بسنت، دیوالی، میلے ٹھیلے وغیرہ نیز شادی غمی کی وہ رسمیں جو غیر مسلموں میں رائج ہیں مثلاً سالگرہ، برسی، کسی کی وفات پر سیاہ لباس پہننا چراغاں منگنی اور شادی کے موقع پر مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور آپس میں ہنسی مذاق، مہندی لیکر اس پر شمعیں جلانا اور عورتوں کا راستوں میں ناچتے ہوئے گاتے ہوئے مہندی لیکر چلنا۔
یہ سب کافروں بالخصوص ہندؤں کی رسمیں ہیں جن کے متعلق دینی غیرت و حمیت رکھنے والا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔
ہاں! اگر دینی غیرت ہی ختم ہوجائے تو پھر اور بات ہے۔
بنا بریں ایسی خرافات سےتمام مسلمانوں کو مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3022 سے ماخوذ ہے۔