صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ ذِكْرُ هِنْدٍ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: باب: ہند بنت عتبہ ربیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدَانُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ ، أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، قَالَ : " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ، قَالَ : " لَا أُرَاهُ إِلَّا بِالْمَعْرُوفِ "´اور عبدان نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ نے خبر دی انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا : ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد ) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس میں ابھی اور ترقی ہو گی ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ پھر ہند نے کہا : یا رسول اللہ ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر ) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستور کے مطابق ہونا چاہئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت ہند ؓ بڑی عقل مند اور صاحب فراست خاتون تھیں۔
اس انداز گفتگو میں انھوں نے رسول اللہ ﷺ اورآپ کے اہل بیت کی بزرگی اورخاندانی وجاہت کی طرف اشارہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تیری محبت میں مزید اضافہ ہوگا اور میرے متعلق جو غیظ وغضب سے اس میں مزید کمی آئے گی۔
‘‘ 2۔
مقصد یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت ہند ؓ کو نبی کریم ﷺ اورآپ کے گھرانے سے انتہائی نفرت تھی لیکن اسلام کی بدولت یہ نفرت وعداوت، محبت میں بدل گئی۔
اب کیفیت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اورآپ کے گھرانے سے انتہائی نفرت تھی لیکن اسلام کی بدولت یہ نفرت وعداوت، محبت میں بدل گئی۔
اب کیفیت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اورآپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھر محبوب نہیں۔
اسلام کی بدولت طبیعت میں انقلاب آگیا۔