صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ " ، قَالَ : وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ سورة الأحقاف آية 10 الْآيَةَ ، قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : مَالِكٌ الْآيَةَ أَوْ فِي الْحَدِيثِ .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا ، وہ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں ، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ، بیان کیا کہ آیت «وشهد شاهد من بني إسرائيل» ( سورۃ الاحقاف : 10 ) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے ) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
میں اللہ نے ان کا ذکر خیر فرمایا دوسری حدیث میں بھی ان کی منقبت موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جن خوش قسمت حضرات کو ایک مجلس میں جنت کی بشارت دی وہ عشرہ مبشرہ ہیں۔
ان میں راوی حدیث حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بھی شامل ہیں۔
لیکن حضرت سعد ؓ نے یہ حدیث اس وقت بیان فرمائی۔
جب عشرہ مبشرہ میں سے کوئی بھی زندہ نہ تھا اور اپنا نام اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اپنے منہ اپنی تعریف کرنا موزوں اور مناسب نہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابھی ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آنے والا ہے۔
‘‘اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ آگئے۔
(فتح الباري: 164/7 و صحیح ابن حبان (ابن بلبان)
حدیث: 7164)