صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَنَاقِبُ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ , وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ ، فَيَقُولُ : انْشُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ , فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ ، فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا , ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ , وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ , إِمَّا مَرَّتَيْنِ , وَإِمَّا ثَلَاثًا " .´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے اِدھر اُدھر چلنے لگے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے ۔ ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں ۔ اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے : یا نبی اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں ، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے ۔ میرا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( ابوطلحہ کی بیوی ) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے ( غازیوں کی مدد میں ) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں ۔ ( اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا ۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت ابوطلحہ ؓ نے غزوہ احد کے موقع پر بڑی بہادری اور پامردی سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا اورآپ کی خدمت بجالائے۔
قیامت تک یہ خدمات یادرکھی جائیں گی۔
2۔
اسلامی غزوات میں خواتین اسلام کی خدمات بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں۔
چونکہ یہ موقع جنگ اور پریشانی کا تھا، ایسے حالات میں اگر عورت کی پنڈلیاں کھل جائیں تو کوئی حرج کی بات نہیں، نیز اس وقت ابھی پردے کے احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔
خواتین اسلام ایسے حالات میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں اور پینے کے لیے پانی کا اہتمام کرتی تھیں، یہ کارنامے تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے ثبت ہیں۔
آنحضرتﷺ ان کی نشانہ بازی کی کامیابی معلوم کرنے کے لئے نظر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے‘ ان کی ہمت افزائی کے لئے بھی۔
1۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنگی ہتھیاروں ڈھال وغیرہ کا استعمال توکل کے منافی ہے۔
امام بخاری ؒ ان کی تردید کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا کرنا توکل کے خلا ف نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ان آلات کو استعمال کیا گیا۔
اگرچہ احتیاط کرنا تقدیر کو رد نہیں کرسکتا، تاہم انسان کی طبیعت میں وساوس راہ پاتے ہیں اور احتیاط کرنے سے وسوسے کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔
2۔
اس حدیث سے ایک ہی ڈھال سے دو مجاہدین کا بچاؤ کرنے کا جواز ثابت ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ شدید ضرورت کے وقت خواتین اسلام کا گھروں سے باہرنکل کر کام کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ وہ شرعی پردہ اختیار کئے ہوئے ہوں۔
جنگ میں ان کی پنڈلیوں کا نظر آنا یہ بدرجہ مجبوری تھا۔
1۔
گزشتہ حدیث میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ کا ذکر ہوا تھا اور وہ مہاجرین میں سے ہیں۔
اس حدیث میں حضرت طلحہ کا ذکر خیر ہے ان کا نام زید بن سہل ہے۔
حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ اور حضرت ام سلیم ؓ کے شوہر نامدار ہیں۔
2۔
حدیث کے آخر میں ہے کہ غزوہ احد میں ان کے ہاتھ سے دو تین مرتبہ تلوار گری۔
اس روایت میں تلوار گرنے کا سبب ذکر نہیں ہوا لیکن صحیح مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عین جنگ کے وقت صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر اونگھ ڈال دی تاکہ انھیں زخموں سے آرام ہو۔
اس اونگھ کی حالت میں ان کے ہاتھوں سے تلواریں گریں۔
ان حضرات میں حضرت ابو طلحہ ؓ بھی تھے جن کے ہاتھ سے تلوار گری۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4683۔
)
حضرت ابو طلحہ ؓ کا اپنا بیان ہے کہ مجھ پر اونگھ طاری ہو گئی اور کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے تلوار گری۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4088۔
)
مزید تفصیل آگے آئے گی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
(1)
مُجَوِّب عَلَيه: آپ کو اوٹ کیے ہوئے تھے، لوگوں سے بچائے ہوئے تھے۔
(2)
شَدِيدُ النزع: زبردست تیز انداز تھے، بڑے زور سے تیر پھینکتے تھے۔
(3)
الجَعبه: ترکش، جس میں تیر ہوتے ہیں۔
(4)
انثُرها: ترکش سے تیر ابو طلحہ کے سامنے نکال کر رکھ دیجئے، تاکہ وہ ان کو دشمن پر چلا سکیں۔
(5)
نحَرِي دُونَ نَحرِكَ: میرا سینہ آپ کے لیے ڈھال ہے، میں اپنے آپ کو آپ پر قربان کرتا ہوں، خدم، خدمة کی جمع ہے، (6)
خلخال: پازیب۔
(7)
سُوق: پنڈلی۔
فوائد ومسائل: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ کے پازیب دیکھنے کا واقعہ جنگ احد کا ہے، اس وقت تک حجاب کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، اس لیے عورتوں کو دیکھنا حرام نہیں تھا، نیز حضرت انس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے، آپ کے گھر آمدورفت ہر وقت رہتی تھی اور ام سلیم ان کی والدہ تھیں، اس لیے انہیں ان پر نظر جمانے کی ضرورت نہ تھی، اچانک ان کے پازیب پر نظر پڑ گئی، علاوہ ازیں حالت امن کو حالت جنگ پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔