صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَنَاقِبُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3810
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ : أُبَيٌّ , وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , وَأَبُو زَيْدٍ , وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، قُلْتُ لِأَنَسٍ : مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ قَالَ : أَحَدُ عُمُومَتِي " .مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا ، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے ۔ ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3810. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جن چار آدمیوں نے قرآن مجید یاد کیا تھا وہ سب انصاری تھے، حضرت ابی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوزید اور حضرت زید بن ثابت رضي اللہ عنھم۔ (قتادہ نے کہا:) میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: ابوزید کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ میرے ایک چچا تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3810]
حدیث حاشیہ: حضرت زید بن ثابت کاتب وحی سے مشہور ہیں اور بڑا شرف ہے جو آپ کو حاصل ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3810 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3810. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جن چار آدمیوں نے قرآن مجید یاد کیا تھا وہ سب انصاری تھے، حضرت ابی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوزید اور حضرت زید بن ثابت رضي اللہ عنھم۔ (قتادہ نے کہا:) میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: ابوزید کون تھے؟ انہوں نے فرمایا: وہ میرے ایک چچا تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3810]
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث ایک گزشتہ حدیث(3758)
کے خلاف نہیں جس میں ذکر ہے کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے پڑھو۔
وہاں ابوزید اور زید بن ثابت ؓ کی بجائے عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت سالم کا ذکر ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت انس ؓ قبیلہ انصار کے متعلق بیان کررہے ہیں۔
ایک حدیث میں حضرت ابی ؓ کے بجائے حضرت ابوالدرداء ؓ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5004)
اس روایت میں ہے کہ حضرت قتادہ ؓ نے حضرت انس ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں کس کس نےقرآن یا دکررکھا تھا توآپ نے مذکورہ جواب دیا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابوزید ؓ جب فوت ہوئے تو ان کا کوئی اہل وعیال نہ تھا اور وہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3996)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ہم ان(کے چھوڑے ہوئے مال)
کے وارث بنے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5005)
2۔
بہرحال اس حدیث میں حضرت زید بن ثابت ؓ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ وہ حافظ قرآن تھے۔
1۔
یہ حدیث ایک گزشتہ حدیث(3758)
کے خلاف نہیں جس میں ذکر ہے کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے پڑھو۔
وہاں ابوزید اور زید بن ثابت ؓ کی بجائے عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت سالم کا ذکر ہے کیونکہ اس حدیث میں حضرت انس ؓ قبیلہ انصار کے متعلق بیان کررہے ہیں۔
ایک حدیث میں حضرت ابی ؓ کے بجائے حضرت ابوالدرداء ؓ کا نام ہے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5004)
اس روایت میں ہے کہ حضرت قتادہ ؓ نے حضرت انس ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں کس کس نےقرآن یا دکررکھا تھا توآپ نے مذکورہ جواب دیا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابوزید ؓ جب فوت ہوئے تو ان کا کوئی اہل وعیال نہ تھا اور وہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3996)
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ہم ان(کے چھوڑے ہوئے مال)
کے وارث بنے تھے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5005)
2۔
بہرحال اس حدیث میں حضرت زید بن ثابت ؓ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ وہ حافظ قرآن تھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3810 سے ماخوذ ہے۔