صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ: «اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یہ فرمانا کہ مجھ سے حوض پر ملنے تک صبر کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَى الْوَلِيدِ ، قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ إِلَى أَنْ يُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا ، قَالَ : " إِمَّا لَا فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُكُمْ بَعْدِي أَثَرَةٌ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا` جب وہ انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے یہاں جانے کے لیے نکلے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کا ملک بطور جاگیر انہیں عطا فرما دیں ۔ انصار نے کہا جب تک آپ ہمارے بھائی مہاجرین کو بھی اسی جیسی جاگیر نہ عطا فرمائیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دیکھو جب آج تم قبول نہیں کرتے ہو تو پھر میرے بعد بھی صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو ، کیونکہ میرے بعد قریب ہی تمہاری حق تلفی ہونے والی ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
رضي اللہ عنهم ورضوا عنه، یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت انس ؓ کو عبدالملک بن مروان نے ستایا تھا اور وہ بصرہ سے دمشق جاکر ولید بن عبدالملک کے ہاں اپنی شکایات لے کر پہنچے تھے، آخر ولید بن عبدالملک (حاکم وقت)
نے ان کا حق دلایا۔
(فتح الباری)
1۔
انصار کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے بعد عنقریب تمھیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرے غیر مستحق لوگ عہد پر فائز ہوں گے اور تمھیں محروم کیا جائے گا۔
‘‘ چنانچہ بنوامیہ کے دور میں ایسا ہی ہوارسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی مگر انصار نے فی الواقع صبر سے کام لے کر وصیت نبوی پر پورا پورا عمل کیا۔
2۔
مذکورہ حدیث میں حضرت انس ؓ کے نکلنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کو حاکم بصرہ حجاج نے تنگ کیا تو انھوں نےدمشق جا کر ولید بن عبدالملک سے شکایت کی۔
آخر دمشق کے حاکم نے انھیں حق دلایا۔
(فتح الباري: 149/7)
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3903]
وضاحت:
1؎:
یعنی: قوم انصار کو سلام کہو، اس میں انصارکی فضیلت ہے۔
نوٹ:
(سند میں محمد بن ثابت بنانی ضعیف راوی ہے، مگر اس کا دوسرا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة:3096)