صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ أَتْبَاعُ الأَنْصَارِ: باب: انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا " , فَدَعَا بِهِ , فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، انہوں نے ابوحمزہ سے سنا اور انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہ` انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے ۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی ۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار انصار میں بنائے اور انھیں وہی عزت و شرف ملے جو ہمیں عطا ہوا ہے یا یہ مقصود ہے کہ وہ ہمارے نقش قدم پر چلیں اور انھیں وہی مقام حاصل ہو جو ہمیں ملا ہے چنانچہ رسول اللہﷺنے ان کے لیے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! انصار کو بخش دے، ان کے بیٹوں کو معاف فرما اور ان کے پوتوں پر بھی رحم و کرم فرما۔
‘‘ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
14(2506)
)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی: ’’اے اللہ! انصار کو ان کی اولاد کو اور ان کے حلفاء و موالی کو معاف کردے۔
‘‘(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
16(2507)
انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسا ہمرا درجہ اور مقام ہے اسی طرح ہماری اولاد غلام حلیف اور تعلق دار لوگوں کو بھی وہی مرتبہ حاصل ہو، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے دعا فرما دی۔