حدیث نمبر: 3787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا " , فَدَعَا بِهِ , فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، انہوں نے ابوحمزہ سے سنا اور انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہ` انصار نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے ۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی ۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3787
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3788

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3787. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انصار نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہر نبی کے پیروکار ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی پیروی کی ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے پیروکار و لواحقین کو بھی ہم میں سے بنا دے تو آپ ﷺ نے اس کی دعا فرمائی۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید یہ کہہ چکے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3787]
حدیث حاشیہ:
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار انصار میں بنائے اور انھیں وہی عزت و شرف ملے جو ہمیں عطا ہوا ہے یا یہ مقصود ہے کہ وہ ہمارے نقش قدم پر چلیں اور انھیں وہی مقام حاصل ہو جو ہمیں ملا ہے چنانچہ رسول اللہﷺنے ان کے لیے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! انصار کو بخش دے، ان کے بیٹوں کو معاف فرما اور ان کے پوتوں پر بھی رحم و کرم فرما۔
‘‘ (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
14(2506)
)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی: ’’اے اللہ! انصار کو ان کی اولاد کو اور ان کے حلفاء و موالی کو معاف کردے۔
‘‘(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
16(2507)
انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسا ہمرا درجہ اور مقام ہے اسی طرح ہماری اولاد غلام حلیف اور تعلق دار لوگوں کو بھی وہی مرتبہ حاصل ہو، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے دعا فرما دی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3787 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3788 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3788. عمرہ بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار نے عرض کی: (اللہ کے رسول!) ہر قوم کے پیروکار ہوتے ہیں، ہم تو آپ کی پیروی کر چکے ہیں، آپ اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے لواحقین کو بھی ہم میں سے بنا دے تو نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی: ’’اے اللہ! ان کے لواحقین کو بھی ان سے بنا دے۔‘‘ عمرہ بن مرہ نے کہا: میں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید نے بھی یہی کہا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ زید سے مراد زید بن ارقم ؓ ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3788]
حدیث حاشیہ: حافظ نے کہا شعبہ کا گمان صحیح ہے، ابونعیم نے مستخرج میں اس کو علی بن جعد کے طریق سے زید بن ارقم سے یقینی طورپر نکالا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3788 سے ماخوذ ہے۔