صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ: «أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»: باب: انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَكَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ أَحَبُّ النَّاسِ " , إِلَيَّ مَرَّتَيْنِ " .´ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ہشام بن زید نے خبر دی ، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ` انصار کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ ان کے ساتھ ایک ان کا بچہ بھی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کلام کیا پھر فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(نووی)
یہ آپ سے خلوت میں بات کرنے والی عورت ایسی تھی جس کے لیے آپ محرم تھے جیسے ام سلیم یا ان کی بہن یا خلوت سے مراد یہ ہے کہ اس نے لوگوں کی موجودگی میں آپ سے ایک بات نہایت آہستگی سے کی اور جس خلوت کی ممانعت ہے وہ مراد نہیں ہے، مسلم کی روایت میں فخلا بھا کا لفظ ہے جس کی وجہ سے وضاحت کرنا ضروری ہوا۔
1۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہﷺنے اس عورت سے خلوت اختیار کی۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
18(2509)
یہ الفاظ صحیح بخ کی ایک روایت میں بھی ہیں۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5234۔
)
خلوت میں بات کرنے والی آپ کی کوئی عزیزہ ہوگی جیسا کہ اُم سلیم ؓ یا ان کی ہمشیرہ وغیرہ۔
یا خلوت سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی موجودگی میں رسول اللہﷺ سے ایک بات نہایت آہستگی سے کی، وہ خلوت مراد نہیں جس کی شریعت میں ممانعت آئی ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہےکہ پہلے اس عورت نے کچھ پوچھا ہو گا تو آپ نے اسے جواب دیا۔
ممکن ہے کہ اس کو مانوس کرنے کے لیے ابتداء اس سے گفتگو کی ہو۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ اس کے ہمراہ اس کے بچے تھے ممکن ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت کے لیے آپ کے پاس آئی ہو۔
(صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6645)
ہر مشکل اور سخت موقعوں پر آپ کے ہم دوش رہے انصار کا احسان مسلمانوں پر قیامت تک باقی رہے گا۔
اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوا کہ عورتیں اور بچے بھی اگر ولیمہ کی دعوتوں میں بلائے جائیں تو ان کو بھی اس میں جانا کیسا ہے؟ واجب ہے یا مستحب۔
قسطلانی نے کہا بشرطیکہ کسی قسم کے قتنے کا ڈرنہ ہو تو بخوشی عورتیں اور بچے جا سکتے ہیں لیکن عورتوں کو دعوت میں جانے کے لئے اپنے خاوند سے اجازت لینا ضروری ہے۔
بغیر اجازت جانا ٹھیک نہیں۔
ہو سکتا ہے کہ شوہر ناراض ہو جائے۔
اس سے بھی عورتوں کے لئے ان کے خاوند وں کا مقام واضح ہوا۔
اللہ تعالیٰ عورتوں کو اسے سمجھنے کی توفیق بخشے، آمین۔
(1)
یہ عورتیں اور بچے انصار کے تھے اور ان حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاں جگہ دی اور آپ کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین کا مقابلہ کیا، اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عورتوں اور بچوں کو دیکھ کر خوش ہوئے اور جلدی کرتے ہوئے قوت سے کھڑے ہوئے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورتوں اور بچوں کو شادی یا ولیمے میں شرکت کی دعوت دی جائے تو انھیں بھی اسے قبول کرنا چاہیے بشرطیکہ کسی قسم کے فتنے کا ڈر نہ ہو اور عورتوں کا دعوت میں جانے کے لیے اپنے خاوند سے اجازت لینا بھی ضروری ہے۔
والله اعلم
انصار ہی نے آپ کو مدینہ میں مدعو کی اور پوری وفاداری کےساتھ قول وقرار پورا کیا۔
آپ کےساتھ ہو کر اسلا م کے دشمنوں سے لڑے۔
اشاعت وسطوت اسلام میں انصارکا بڑا مقام ہے۔
(1)
قسم سے اس ہستی کی عظمت مقصود ہوتی ہے جس کے نام کی قسم اٹھائی جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھاتے تھے۔
مندرجہ بالا سترہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ کس انداز کی ہوتی تھی۔
پہلے ہم نے بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم چار طرح کی ہوتی تھی: ٭ والذي نفسي بيده بعض اوقات والذي نفس محمد بيده فرماتے، اس کے علاوہ کبھی شروع میں ''لا'' یا ''أما'' لاتے اور کبھی کبھار ''ايم'' سے شروع کرتے تھے۔
(2)
لا، و مقلب القلوب: اس میں ''لا'' تو کلام سابق کی نفی کے لیے ہوتا اور مقلب القلوب کے نام سے قسم اٹھاتے۔
٭ والله قرآن کریم میں بالله اور والله نیز تالله کو بطور قسم استعمال کیا گیا ہے۔
ورب الكعبة حدیث: 6638 میں اس قسم کا ذکر ہے۔
اللہ کے نام کی قسم اٹھانے کی تین قسمیں ہیں: ٭ ایسی صفت کے حوالے سے قسم اٹھانا جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جیسے: الرحمٰن، رب العالمین اور خالق الخلق۔
٭ ایسی صفت جس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے لیکن غیر اللہ کے لیے مقید طور پر ہوتا ہے جیسا کہ رب اور حق وغیرہ ان کے ساتھ قسم اٹھائی جا سکتی ہے۔
٭ وہ صفات جو اللہ تعالیٰ اور غیراللہ دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتی ہیں جیسا کہ حي، موجود اور مومن وغیرہ۔
ان میں اگر اللہ تعالیٰ کی نیت ہو تو ان صفات کے حوالے سے قسم اٹھائی جا سکتی ہے لیکن ان صفات باری تعالیٰ کو معرف باللام استعمال کرنا ضروری ہے، جیسے الحي، الموجود وغیرہ۔
اسی طرح والذي خلق الجنة، والذي أعبده والذي أسجد له اور والذي أصلي له سے بھی قسم اٹھانا صحیح ہے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 641/11)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ عورت کے ساتھ اس کی اولاد بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔
(صحیح البخاري، الأیمان و النذور، حدیث: 6645) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کا تنہائی میں کسی سے راز کی بات کرنا جائز ہے جب فتنے کا خوف نہ ہو۔
لیکن اس قسم کی تنہائی لوگوں کے سامنے ہو۔
ایسے حالات میں اس حد تک خلوت کرنے کی اجازت ہے کہ حاضرین میں سے کوئی بھی اس عورت کی بات نہ سن سکے اور نہ کسی کو اس کا شکوہ ہی معلوم ہو۔
(3)
حدیث میں اگرچہ لوگوں کی موجودگی کا ذکر نہیں ہے، تاہم اتنا تو پتا چلتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا تھا۔
اس سے ان کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 413/9)