حدیث نمبر: 3785
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ مُقْبِلِينَ ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ عُرُسٍ " , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ " , قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار کی ) عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا اللہ ( گواہ ہے ) تم لوگ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو ، تین بار آپ نے ایسا ہی فرمایا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب مناقب الأنصار / حدیث: 3785
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2508

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3785. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کچھ عورتیں اور بچے کسی شادی سے آتے ہوئے دیکھے تو آپ ان کے سامنے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ’’تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔‘‘ آپ نے یہ کلمات تین دفعہ دہرائے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3785]
حدیث حاشیہ:

انصار سے محبت کے جذبات کا اظہار مجموعی اعتبار سے ہے۔
یہ کسی سے انفرادی محبت کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ تمام لوگوں سے زیادہ آپ کو محبوب کون ہے؟ تو آپ نے حضرت ابو بکرؓ کا نام لیا تھا لہٰذا انصار کے متعلق آپ کا مذکورہ ارشاد غیر انصار سے محبت کرنے کے خلاف نہیں۔
(فتح الباري: 144/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ ان پر احسان کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے پھر آپ نے یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
(صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 5180)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3785 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2508 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے کھڑے ہوگئے اور فرمایا:"اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو،اللہ گواہ ہے،تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔"آپ کی مراد انصارتھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6417]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ممثلا: سیدھے ہو کر۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2508 سے ماخوذ ہے۔