صحيح البخاري
كتاب مناقب الأنصار— کتاب: انصار کے مناقب
بَابُ مَنَاقِبُ الأَنْصَارِ: باب: انصار رضوان اللہ علیہم کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ ، وَقُتِلَتْ : سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا , فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ " .´مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` بعاث کی جنگ کو ( جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے ، کچھ زخمی تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہو جائیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
میں اسی طرح اشارہ ہے۔
بعاث۔
مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے جہاں اوس اور خزرج کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی تھی، قبیلہ اوس کے رئیس حضرت اسیدؓ کے والد خضیر تھے جبکہ خزرج کے سرادر عمر بن نعمان فیاض تھے۔
یہ دونوں اس جنگ میں مارے گئے۔
پہلے خزرج کو فتح ہوئی، پھر خضیر نے قبیلہ اوس کومضبوط کیا تو ان کا پلہ بھاری رہا۔
یہ لڑائی رسول اللہﷺ کی ہجرت سے پانچ سال پہلے ہو چکی تھی۔
اس میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے۔
اسلام کا ظہور ہواتو رسول اللہﷺکی آمد کی برکت سے یہ لڑائی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی گویا ان کا قتل ہو جانا اشاعت اسلام (اسلام پھیلنے)
کا پیش خیمہ تھا۔
اگر یہ زندہ رہتے تو ان کا اقدام اسلام کے سخت خلاف ہوتا۔
ان سرداروں میں سے ایک عبد اللہ بن ابی تھا جس نے منافقت کا روپ دھارا۔
درج ذیل آیت کریمہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
’’اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر فرمائی۔
جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔
‘‘ (آل عمران: 103/3)
بعاث ایک جگہ کا نام تھا جہاں یہ لڑائی ہوئی۔
1۔
مدینہ طیبہ میں غریب لوگ باقی رہ گئے تھے سردار اور امیر مارے جا چکے تھے۔
اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید تکبر و غرور کی وجہ سے اسلام میں داخل نہ ہوتے۔
اگر اس وقت ان میں انتشار نہ ہوتا تو وہ اپنی ریاست کو باقی رکھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے تابع نہ ہوتے۔
2۔
صرف ایک سردار جس کی تاجپوشی ہونے والی تھی اس نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا۔
اہل اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیا۔
ہماری مراد رئیس المناقفین عبد اللہ بن ابی سے ہے۔
آخر کار خود اپنے بیٹے کے ہاتھوں ذلیل ہوا۔
واللہ المستعان۔