صحيح البخاري
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
بَابُ مَنَاقِبُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْرُوقًا ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَقَالَ : " إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا .مولانا داود راز
´ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے بیان کیا ، کہا میں نے ابووائل سے سنا ، کہا کہ میں نے مسروق سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3559 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3559. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نہ تو فحش گوتھے اور نہ بدزبان ہی تھے بلکہ آپ فرمایا کرتےتھے: ’’بلاشبہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کااخلاق اچھاہو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3559]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی جب آپ حضر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ آئے تھے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6029)
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3759)
حسن خلق یہ ہے کہ فضائل کو اختیار کیاجائے اور رذائل ترک کردیے جائیں۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق کریم تو قرآن مجید تھا۔
ان احادیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عادتاً اور تکلفاً فحش گو نہ تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفحش گوئی کی عادت نہ تھی اور نہ کبھی تکلف ہی سے فحش گوئی کی تھی۔
نہ آپ بازاروں میں آواز بلند کرتے تھے اور نہ بُرائی کا بدلہ ہی بُرائی سے دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے اور درگزر فرماتے تھے۔
(فتح الباري: 702/6)
غصے کے وقت آپ صرف یہ بتاتے: اسے کیا ہوا اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
کسی کا نام لے کر اسے عیب کی نشاندہی نہ کرتے بلکہ اجتماعی طور پر یوں کہتے: ان لوگوں کو کیا ہوا یہ ایسا کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 703/6)
1۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی جب آپ حضر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ آئے تھے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6029)
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے مجھے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3759)
حسن خلق یہ ہے کہ فضائل کو اختیار کیاجائے اور رذائل ترک کردیے جائیں۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق کریم تو قرآن مجید تھا۔
ان احادیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عادتاً اور تکلفاً فحش گو نہ تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفحش گوئی کی عادت نہ تھی اور نہ کبھی تکلف ہی سے فحش گوئی کی تھی۔
نہ آپ بازاروں میں آواز بلند کرتے تھے اور نہ بُرائی کا بدلہ ہی بُرائی سے دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے اور درگزر فرماتے تھے۔
(فتح الباري: 702/6)
غصے کے وقت آپ صرف یہ بتاتے: اسے کیا ہوا اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
کسی کا نام لے کر اسے عیب کی نشاندہی نہ کرتے بلکہ اجتماعی طور پر یوں کہتے: ان لوگوں کو کیا ہوا یہ ایسا کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 703/6)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3559 سے ماخوذ ہے۔